Baseerat Online News Portal

بھائیوں اور بھتیجوں کے لیے ترکہ میں مرحومہ بہن کی وصیت

کتبہ:(مفتی)محمد اشرف صاحب قاسمی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترمی ومکرمی مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں:
*مسئلہ نمبر1.*
ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں، ایک بہن کی شادی نہیں ہوئی، والد صاحب کی وراثت سے جن بہن کی شادی نہیں ہوئی تھی،انہیں ایک مکان دے دیا گیا۔جن بہن کی شادی نہیں ہوئی تھی ان کی حیات میں ہی دو بھائیوں اوردوبہنوں کا انتقال ہوگیا۔ فی الوقت جن بہن کی شادی نہیں ہوئی تھی، اس بہن کا بھی انتقال ہوگیا، اب اس مکان کی رقم کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ جن لوگوں کا انتقال بہن کی حیات ہی میں ہوگیا، کیا اس میں ان کا بھی حصہ رہے گا۔؟

*مسئلہ نمبر 2.*
بہن نے اپنی حیات میں ہی ہوش وحواس میں کہا تھا کہ: اس مکان کو بیچ کراس کی رقم دو باحیات بھائیوں اور ایک مرحوم بھائی کی اولاد کو دوں گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اب اس مسئلہ پر مسئلہ نمبر1 پر عمل کیا جائے؟ یا مسئلہ نمبر 2 پر عمل کیا جائے؟
برائے کرم تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔
عبد الباری قریشی
بھیکھن گاؤں، ضلع کھرگون (ایم پی)

*الجواب حامدا ومصلیا و مسلما امابعد*

1. سوال نامہ میں مرحومین کے ورثاء مثلا شوہر بیوی بچے وغیرہ کی تفصیل لکھنی چاہیے۔ سوالنامہ میں چوں کہ مرحومین کے ورثاء کی تفصیل نہیں بیان کی گئی ہے؛ اس لیے ان مرحومین کی متروکہ جائیداد میں غیر شادی شدہ بہن کے حصہ کو نہیں بتایا جاسکتا ہے۔
اور بعد میں انتقال کرنے والی بہن کی متروکہ میں ان سے پہلے انتقال کرنے والے بھائی وغیرہ وارث نہیں ہوں گے۔
2. غیرشادی شدہ مرحومہ بہن کی اس طرح وصیت کرناکہ کہ “اپنے مکان سے دو بھائی حیات اور وفات یافتہ بھائی کی اولاد کو دوں گی۔ ”
پھرمرحومہ بہن نےبھائیوں اور بھتیجوں کے درمیان اپنے مکان کی قیمت کی تقسیم کی وصیت بھی کی ہے۔
اس سلسلے میں قانونِ شریعت کے مطابق باحیات بھائی اور بہن چوں کہ مرحومہ بہن کے وارث ہیں؛ اس لیے بھائی اور بہن کے حق میں مرحومہ کی وصیت نافذ نہ ہوگی۔(1)
البتہ بھتیجے وبھتیجی چوں کہ اپنی مرحومہ پھوپھی کے وارث نہیں ہیں؛(2) اس لیے ان کے حق مرحومہ کے متروکہ کی ایک تہائی میں وصیت نافذ ہوگی۔ چنانچہ مکان مذکورہ جس کو بیچ کر باحیات بھائیوں اور مرحوم بھائیوں کی اولادوں کے لیے وصیت کی ہے۔ مرحوم بھائیوں کی اولاد وصیت کے مطابق اس مکان کی ایک تہائی کے حق دار ہیں۔(3) مرحوم بھائیوں کی اولادوں کو ایک تہائی دینے کے بعد باقی ماندہ دوتہائی اور دوسری جملہ متروکہ ( روپیہ، زیور وغیرہ) پانچ حصوں میں تقسیم کریں گے۔ دو دو حصے باحیات بھائیوں کو اور ایک حصہ باحیات بہن کو بطور وراثت ملیں گے۔(4)

(1)قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ان اللہ قد اعطی کل ذی حق حقہ، فلاوصیۃ لوارث ۔ (رواه أحمد: 22294) وقال مخرجوه: إسناده حسن، وأبو داود 2870، والترمذي 2120، وقال: حسن، وابن ماجه 2713، ثلاثتهم في الوصايا، والبيهقي في الفرائض ج6ص212، وحسن الحافظ إسناده في التلخيص الحبير ج3ص202،عن أبي أمامة الباهلي.
(2) لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا.(النساء، آیت نمبر: 7)
(3) “(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته)”.
(ردالمحتار: ج10/ ص339۔زکریا)
(4) وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ (سورہ نساء: آیت نمبر176)
فقط
واللہ اعلم بالصواب

*کتبہ:(مفتی)محمد اشرف صاحب قاسمی*
خادم الافتاء شہر مہدپور ضلع اجین (ایم پی)
[email protected]

۸؍صفرالمظفر ۱۴۴۲ھ
26؍ ستمبر 2020ء

تصدیق:
مفتی محمد سلمان ناگوری

ناقل: (مفتی) محمد توصیف صدیقی
معین مفتی: دارالافتاء شہر مہدپور

You might also like