Baseerat Online News Portal

خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان:اسباب وعوامل اور ہماری ذمہ داری

 

نثاراحمد حصیر القاسمی

شیخ الحدیث معہد البنات بورہ بنڈہ و جامعۃ النور یوسف گوڑہ 

سکریٹری جنرل اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز ۔ حیدرآباد۔ 

[email protected]

0091-9393128156

امت مسلمہ اپنی تاریخ میں بڑے نشیب وفراز سے گذری، بڑے عروج وزوال کو دیکھا اور مختلف ادوار میں طرح طرح کے مصائب ومشکلات اور گونا گوں پریشانیوں وآفتوں کو جھیلا ہے، کسی بھی قوم کی سب سے بڑی آفت ومصیبت یہ ہوتی ہے کہ ان میں مایوسی گھر کرجائے، امیدیں منقطع ہوجائیں، یقین متزلزل ہوجائے اور بے بسی لاچاری درماندگی اور ضیاع وبربادی کا شعور قلب ودماغ پر چھا جائے، جب انسان مایوسی کا شکار ہوجاتا اور اس کی ساری امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں تو وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے آخری حربے کے طور پر خود اپنی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا اور خود کشی کی راہ اختیار کرتا ہے، حالیہ دنوں غیر مسلم سماج کے علاوہ خود مسلم معاشرہ کے اندر بھی اس کا رواج عام ہوتا جارہا ہے اور مسلمان بھی دیگر اقوام ودیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح اس بد ترین جرم کارتکاب کرنے لگے ہیں۔

جو لوگ خود کشی کرنے اور اپنی جان دینے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے اس اقدام سے پہلے ان پرکچھ علامتیں ظاہر ہوتی ہیں، جسے ان کے ارد گرد کے لوگوں کو نوٹ کرنا اور تدارک کی کشش کرنی چاہیے، مثال کے طور پر وہ مایوسی کا شکار ہوجاتا ، ہمیشہ مایوس کن باتیں کرتا، برابر ملول ، رنجیدہ، آزردہ ، آبدیدہ، وافسردہ نظر آتا، عجز وشقاوت وبدبختی اور اپنی بدقسمتی کی شکایت کرتا اور اپنے اندر گھٹن محسوس کرتا اور اس سے پھڑپھڑاتارہتا ہے، اس کے بعد اچانک اس کے طرز عمل میں تبدیلی آجاتی ، سونے جاگنے ، اٹھنے بیٹھنے ، ملنے جلنے، کھانے پینے، لکھنے پڑھنے اور کام دھام کے اوقات وانداز بدل جاتے، وہ اپنے لباس وپوشاک اور سماج کے اندر پائے جانے والے تعلقات کو نظر انداز کرنے لگتا ہے، وہ عجب عجب طریقہ اور مختلف انداز سے مرنے کا تذکرہ کرتا، اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں سے وہ رفتہ رفتہ دست کش ہوجاتا ، اور جو کام اور باتیں اسے پسند تھیں اور اس میں وہ دلچسپی لیا کرتا تھا، اب اس کی دلچسپی ان چیزوں سے ختم ہوجاتی ہے، وہ گوشہ نشینی اختیار کرنے لگتا، الگ تھلگ رہنا پسند کرتا اور سماج سے اسے کسی حد تک نفرت ہوجاتی  ہے ، وہ کبھی سر درد کی شکایت کرتا، کبھی مرجھا کر آبدیدہ ہوجاتا، اور کبھی اپنی قیمتی اشیاء کو ضائع کردیتا یا کوڑیوں کے داموں اپنے پاس سے ہٹا دیتا ہے جبکہ وہ اسے پہلے جتن سے حاصل کرتا ہے، اسکے بعد قدم آگے بڑھاتے ہوئے وہ منشیات کا استعمال کرنے لگتا، خطرات سے کھیلنے میں اسے تامل نہیں ہوتا، وہ کبھی کافی بلندی سے بھی چھلانگ لگا لیتا، تیز رفتار سواریوں کی آمد ورفت کے باوجود شاہراہوں کو عبور کرنے کی کوشش کرتا، ضروری ادویہ جو اس کے لئے تجویز ہوتی ہے، یا جو دوائیاںوہ پہلے سے لے رہا ہوتاہے، اسے استعمال کرنے سے کتراتا اور نہیں کھانا چاہتا ہے، اس کے بعد پھر جا کر خود کشی کی کوشش کرتا ہے، پہلی دوسری مرتبہ میں اس کی تدبیر معمولی ہوتی اور وہ اس میںکامیاب نہیں ہوپاتا ہے، مگر اس کے بعد اس کے اندر پختگی آجاتی اور وہ اپنی جان گنواں بیٹھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ 

جب کسی انسان کے اندر یہ علامتیں پائی جائیں تو اس کے والدین کو ، زوجین میں سے دوسرے کو ، یا قریبی افراد کو خطرہ محسوس کرنا چاہیے، اس سے حفاظت کی تدبیر اختیار کرنی چاہیے اور اس سے حفاظت کی تدبیریں اختیار کرنی چاہیے۔  

جولوگ نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہوتے اور وہ دماغی خلل کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ خود اپنے آپ کوتکلیف دینے سر پیٹنے ، کان پھوڑ لینے یا اس سے طرح اپنے آپ کو اذیت دینے میں توقف نہیں کرتے اور اس طرح کی حرکتیں دورے کی شکل میں ان سے صادر ہوتی رہتی ہں، بات بات پر چلانا چیخنا خود کو زدوکوب کرنا، کبھی رونا کھبی ہنسنا خود کشی سے پہلے کا اسٹیج ہے، ایسی صورت میں والدین یا سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں سستی نہ برتیں اور ذرہ برابر غفلت ولاپرواہی سے کام نہ لیں، بلکہ فورا ماہرین نفسیات اور دماغ کے ڈاکٹر سے رجوع ہوں، کیونکہ یہ خود کشی سے پہلے کی علامتیں اور اس سے ماقبل کا اسٹیج ہے۔

جہاں تک خود کشی کے اسباب کی بات ہے تو ماہرین نے لکھا ہے کہ 35 فیصد خود کشی کی وجہ کا تعلق دماغی ونفسیاتی بیماری سے ہے جیسے مایوسی ، جدائی ،تنہائی ، بے روزگاری اور حد سے زیادہ شراب نوشی یا منشیات کا استعمال اور 65 فیصد کی وجہ مختلف ہیں۔ جیسے غلط تربیت، سماجی تہذیب وثقافت کی بے اعتدالی، خاندانی لڑائی جھگڑے، کسی سے جذباتی لگائو اور اس میں مایوسی وناکامی ، تعلیم اور امتحانوں میں ناکامی ، جسمانی امراض وتکلیف ، یا شرم وحیاء سے بچنے کیلئے یا اس طرح کی دیگر باتیں، ان ساری باتوں کے بعد اگر انسان کے اندر دینی ومذہبی رکاوٹ موجود ہو تو انسان اپنے آپ کو خود کشی سے بچا لیتا ہے، لیکن اگردینی معلومات ناپید یا کمزور ہو تو اس بدترین عمل کی خطرناکی اور اس بڑے جرم پر مرتب ہونے والے اثرات کا ادراک کرنے سے وہ محروم رہ جاتا ،پھر وہ اپنی زندگی کو اس کے حق سے محروم کردیتا اور آخرت کے درد ناک عذاب اور سخت سزا کا اپنے آپ کو مستحق بنا لیتا ہے۔ 

انسان کا ایمان اگر کامل ہو تو اس کا یقین اللہ پر پختہ ہوتا ، وہ اللہ کے قضاء وقدر پر راضی رہتا، اور تقدیر پر اعتراض کرنے سے گریز کرتا ہے، خواہ حالات اس کے حق میں کتنے ہی ناگفتہ بہ اور بدتر کیوں نہ ہوں، اس کا اعتماد اللہ پر سے متزلزل نہیں ہوتا کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ خود کشی اس کے مسائل کا حل نہیں، اور نہ اس کی تقدیر بدل سکتی اور نہ صورتحال کا رخ موڑ سکتی ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کا یہ تصور اور غلط گمان ہوتا ہے کہ وہ جس بدترین صورتحال کا سامنا کررہا ، جس دبائو سے دوچار اور جن مسائل ومشکلات کو جھیل رہاہے، خود کشی کرکے وہ اس کا خاتمہ کردے گا، اور ان حالات سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا، یہ بالکل بے بنیاد اور غلط تصور اور حقیقت سے دور ہے۔ جو دین سے اس کی لا تعلقی کی وجہ سے ہے۔

خودکشی ایک وجہ قوت برداشت کا فقدان ، صبر وسکون سے تہی دستی اور جہالت ہے، اس کی وجہ سے وہ خلاف توقع حالات پیش آجانے پر واویلا مچانے لگتا ، بے چین ومضطرب ہوجاتا اور مایوسی ولاچاری کے سامنے سپر ڈال دیتا، اور طرح طرح کے توہمات اور وساوس میں مبتلا ہو کر خود کشی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ معاشی مشکلات ہے جیسے فقر وفاقہ ، افلاس ، بے روزگاری ، ڈگریوں اور اعلیٰ تعلیم واہلیت کے باوجود مناسب ملازمت کا نہ ملنا ، روزگار کا چھن جانا، جیسا کہ حالیہ دنوں لاک ڈائون کے زمانہ میں ہوا، اور بہتوں نے اپنی پوری فیملی کے ساتھ خود کشی کرلی، یا رہائشی مکان سے بے دخلی اور اس کی عدم حصولیابی، کچھ دنوں پہلے ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا اظہار بھی کیا ہے کہ دنیا میں پیدا شدہ عالمی معاشی بحران کی وجہ سے خود کشی کے تناسب میں اضافہ ہوسکتا ہے، اور واقعی ادھر چند ماہ کے اندر اس میں کافی اضافہ ہوا، اور خود مسلمانوں میں یہ رجحان بڑھ گیا ہے۔ 

خود کشی کی ایک وجہ ذرائع ابلاغ کے بے لگام کلچرل پروگراموں اور سماجی رابطے کے وسائل پر پیش کئے جارہے افکار وعادات بھی ہیں، اسے دیکھ دیکھ کر لوگ دوسروں کی نقالی کی کوشش کرتے اور اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے اثر کو قبول کرتے جاتے ہیں، اس طرح وہ اپنا تشخص تو کھو دیتے مگر ان کے جیسے بننے سے قاصر رہتے ہیں، پھر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 

اس کی ایک وجہ خاندانی لڑائی جھگڑے، گھریلو الجھن وپریشانیاں بھی ہیں، والدین یا خاندان کے دیگر افراد کے درمیان اگر مسلسل لڑائی جھگڑے کا بازار گرم ہو، چھوٹے بچے اگر سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ کے ساتھ رہتے ہوں اور بچوں کے ساتھ سختی کی جاتی اور ناروا سلوک کیا جاتا ہو ، انہیں تکلیف دی جاتی ہو ، انہیں ان کے حقوق وفطری جذبات سے محروم رکھا جاتا ہو ، بچوں کے جسمانی ونفسیاتی ضرورتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہو ، انہیں ہر وقت لعن وطعن کیا جاتا اور آوازیں کسی جاتی ہوں ، ان کا مذاق اڑایا جاتا ، اور ان کے جذبات واحساسات کا احترام نہ کیا جاتا ہو تو ان بچوں کے اندر مایوسی ومحرومی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو اسے زندگی کا خاتمہ کرلینے اور خود کشی پر مجبور کرتی ہے۔

ایک وجہ ناکامی بھی ہے۔ خواہ یہ ناکامی کسی بھی میدان میں ہو، جب انسان کسی سے ٹوٹ کر محبت کرتا اور اس میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا مالی معاملات میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا، اور وہ قرض یا دوسرے واجبات کی ادائیگی سے قاصر رہتا ہے یا اسے کاروبار میں ناقابل برداشت نقصان ہوجاتا ہے ، یا تعلیم کے میدان میں اسے کامیابی ہاتھ نہں لگتی اور امتحان میں وہ فیل ہوجاتا ہے یا کوئی بہترین ملازمت تھی پھر وہ اس سے محروم کردیا جاتا ہے، تو وہ مجبور ہو کر خود کشی کی راہ اختیار کرتا ہے، بین الاقوامی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ 60 فیصد خود کشی کے واقعات دنیا میں ناکامی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ 

خودکشی کی ایک وجہ تنہائی کا احساس اور صادر ہونے والے گناہ پر ندامت اور شرم وعار سے بچنا بھی ہے، کبھی کسی سے کوئی جرم یا کوئی گناہ سرزد ہوتا جو جگ ہنسائی کا سبب بن سکتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے خود کو سزا دینے کا ارادہ کرتا اور خود کو فنا کر بیٹھتا ہے، کبھی کسی کو تنہائی کا احساس ستاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس بھری دنیا میں تنہا ہے، اس کا کوئی نہیں ، نہ کوئی اسے سمجھتا ہے اور نہ اس کے درد والم کو محسوس کرتا ہے، لوگوں نے اسے کاٹ کر الگ کردیا ہے، انہیں اس کی پرواہ نہیں، وہ چونکہ دوسروں کو سزا دینے پر قادر نہیں، اس لئے وہ خود کو سزا دینے پر آمادہ ہوجاتاہے، عام طور پر یہ کیفیت ان لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے جو منفی سمجھ بوجھ رکھتے اور ذہنی وعقلی طور پر ناپختہ ہوتے یا نفیساتی اضطراب وبے چینی کا شکار ہوتے اور دماغی خلل کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

خود کشی کی ایک وجہ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونا بھی ہے، ایسے مریض جولا علاج بیماری میں مبتلا ہوگئے ہوں، جیسے کینسر، ایڈز، یا جذام، یا اس طرح کی بیماری تو وہ ان بیماریوں اور اس کی تکلیف سے عاجز آکر یا زندگی سے مایوس ہو کر خود کشی کی راہ لیتے ہیں، بعض بین الاقوامی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بیماریوں کی وجہ سے خود کشی کرنے والوں کا تناسب 15سے 18 فیصد ہے، جبکہ شراب نوشی یا منشیات کے استعمال سے خود کشی کرنے والوںکا تناسب 15 فیصد ہے۔ 

اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے، جس سے سماج میں انارکی پیدا ہوتی اور اس کا توازن بگڑ جاتا ہے، افسوس کہ اس وقت اس ملک کے اندر مسلمانوں میں بھی یہ رجحان روز افزوں بڑھ رہاہے جو دین سے دوری ، اسلامی ہدایات سے لا علمی اور بنیادی مذہبی تعلیمات سے جہالت وناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ علماء وداعیان دین کے ساتھ ساتھ مسلم تنظیموں ، جماعتوں اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کریں، اور عام مسلمانوں کا اللہ سے رشتہ  جوڑنے اور مضبوط کرنے کی کوشش کریں ، ان میں یہ احساس پیداکریں کہ مایوسی کفر ہے، حالات خواہ کچھ بھی ہوں، انسان کو اللہ پر بھرسہ رکھنا چاہیے، وہی فقر بھی دیتا اور غنا بھی، وہی کامیابی بھی دیتا اور ناکامی بھی، وہی بیماری بھی دیتا ہے اور صحت بھی، وہی عزت بھی دیتا اور ذلت بھی ، وہی عروج بھی دیتا اور زوال بھی، وہی نیک نامی بھی عطا کرتا اور بدنامی بھی، اس لئے ہر حال میں اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی درخواست اللہ ہی سے کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ، اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ( یعنی اللہ ہی مشکل کشا بن جاتا ہے،)اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو، اور جو شخص اللہ پربھروسہ کرے گا، اللہ اس کے لئے کافی ہوجائے گا، اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیزکا اندازہ مقرر کررکھا ہے۔ (الطلاق:3-2)

ان ناخواندہ اور اسلامی تعلیمات سے نا آشنا مسلمانوں کو بتایا اور سمجھایا جائے کہ مشکلات ومسائل اور آزمائشوں سے نکلنے اور نجات پانے کا راستہ خود کشی نہیں بلکہ اللہ سے وابستہ ہونا ، اس کے حکم کو ماننا ، اس کی تقدیر پر راضی رہنا اور اس کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا ہے، خود کشی گلو خلاصی کا ذریعہ بننے کے بجائے آخرت کی دائمی زندگی کو تلخ کرنے والی اور سخت عذاب سے دو چار کرنے والا عملہے۔ خود کشی کو اسلام کس نگاہ سے دیکھتا اور اس کی بارے میں قرآنی ہدایات اور نبوی ارشادات کیا ہیں، اس کا تذکرہ ہم ان شاء اللہ اگلے مضمون میں کریںگے۔ 

٭٭٭

You might also like