Baseerat Online News Portal

کورونا وائرس: سپریم کورٹ نے کہا :سیکس ورکرزشدید بحران کا شکار ،ریاستوں کو سوکھا اناج مہیا کرانے کا حکم

نئی دہلی ،29؍ستمبر(بی این ایس )
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میںرضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیکس ورکرز کو رعایت پر راشن مہیا کرایاجائے ۔ ٹرانسجنڈر کی طرز پر 1500 روپئے فی مہینہ مہیا کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے سوال پر مرکز کے وکیل نے کہا کہ وہ اس بارے میں حکومت سے ہدایات لینے کے بعد عدالت کو آگاہ کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومتیں راشن اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے متعلق حلف نامے داخل کریں۔ تمام ریاستی حکومتیں سیکس ورکرز کو راشن کارڈ مہیاکرانے سمیت دیگر انتظامات پر جواب داخل کریں گی۔گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں سے کہا تھا کہ وہ کورونا کی وجہ سے سیکس ورکرزکو راحت دینے کے لیے داخل عرضی پر حکم لائے ۔ خاص طور پر وکلاء سے راشن کارڈز پر زور دئیے گئے بغیر راشن اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے سلسلے میں حکومتوں سے ہدایات لینے کو کہا گیا۔سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہاکہ وہ شدید پریشانی میں ہیں، اس معاملے کو ضروری سمجھا جانا چاہئے۔ جسٹس ایل ناگیشورا راؤ کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ حکام سیکس ورکرز کو راحت فراہم کرنے کے لئے ایسے اقدامات کرنے پر غور کرسکتے ہیں جنہیںٹرانسجنڈر برادری کی مدد کے لئے لیا گیا ہے۔ایس سی نے کہا کہ تمام ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ راشن کارڈز یا کسی اور شناختی ثبوت پر اصرار کیے بغیر، نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن اور ضلعی قانونی حکام کے ذریعہ تمام سیکس ورکرز کو خشک اناج فراہم کریں۔کورونا کے دوران کام نہ کرنے کی وجہ سے سیکس ورکرز کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنچ نے ہر ریاست اور وسطی علاقوں سے 4 ہفتوں میں ایک حلف نامہ داخل کرنے کو کہاتاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ چار ہفتوں میں کتنے سیکس ورکرز کو خشک اناج دیئے گئے ہیں۔

You might also like