Baseerat Online News Portal

سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے پوچھا: محبوبہ مفتی کو کب تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟

نئی دہلی ،29؍ستمبر(بی این ایس )
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے تحت اپنی والدہ کو قید میں رکھے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے سوال کیا کہ محبوبہ کو کب تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟ عدالت نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے اپنے موقف کے بارے میں معلومات دینے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا ان کی تحویل میں ایک سال سے بھی زیادہ توسیع کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے محبوبہ کی بیٹی التجا مفتی کی نظرثانی درخواست پر ایک ہفتے میں مرکز سے جواب دینے کو کہا ہے ۔ اگلی سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ تحویل ہمیشہ کے لئے نہیں ہوسکتی۔ التجا نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ جیل میں قید مفتی کو ان سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے۔ اس پر عدالت نے التجا اور اس کے بھائی کو محبوبہ سے حراست میں ملنے کی اجازت دے دی ہے۔تاہم محبوبہ کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت وغیرہ کے بارے میں عدالت عظمیٰ نے کہا کہ عام اجازت نہیں دی جاسکتی، لیکن وہ متعلقہ حکام کو درخواست دے سکتے ہیں۔التجا نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی والدہ کو سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ ایک سیاسی پارٹی کی صدر ہیں۔ لہٰذا انہیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ انہیں اپنے لوگوں، پارٹی عہدیداروں، کارکنوں اور عام لوگوں سے ملنے اور ان سے بات چیت کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ واضح رہے کہ محبوبہ کو 5 اگست 2019 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس سال فروری میں وہ پی ایس اے کے تحت گرفتار ہوئی تھیں۔

You might also like