Baseerat Online News Portal

عدالت کا فیصلہ مایوس کن:دارالعلوم دیوبند

بابری مسجد کی شہادت کے تمام ملزموں کو بری کیا جانا حیرت انگیز: مفتی ابوالقاسم نعمانی
دیوبند، 30؍ ستمبر (سمیر چودھری؍بی این ایس)
ایودھیا میں 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کو شہید کرنے کے معاملے میں آج لکھنؤ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت مسجد کی شہادت کے کلیدی ملزموں کو کلین چٹ دیتے ہوئے تمام کو بری کردیاہے، اس فیصلہ سے اسلامی حلقوں میں سخت مایوسی دیکھی گئی ہے۔ عدالت کے فیصلہ کو دارالعلوم سمیت دیگر علماء نے حیرت زدہ قرار دیا۔ عالمی شہرت یافتہ ادارے دارالعلوم دیوبند مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے عدالت کو فیصلہ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ 6؍ دسمبر 1992کو دنیا نے اس منظر کو دیکھا تھا ، اس کے باوجود اس طرح کا فیصلہ آنا افسوسناک ہے۔مہتمم موصوف نے کہا کہ 9نومبر کو آئے بابری مسجد کے فیصلہ کے دوران ملک کی سب سے بڑی عدالت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ 1992میں مسجد کو گرائے جانا غیرقانونی تھا ، اس کے باوجود بھی آج ایسا فیصلہ سامنے آنا سمجھ سے پرے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے ہمیں افسوس اور مایوسی ہوئی ہے، دنیا کے سامنے ہمیں اپنی عدالتوں کی شبیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی نے کہا کہ پوری دنیا کے سامنے بابری مسجد کو مسمار کیا گیا ، سی بی آئی نے 49لوگوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے جن میں سے 17فوت ہوگئے اور آج لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے سی بی آئی کے تمام پیش کردہ ثبوتوں کو ناکافی مانتے ہوئے تمام 32ملزمان کو باعزت بری کردیا۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ قابل حیرت ہے ۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جس دن بابری مسجد شہید کی گئی وہاں پر یہ سارے ملزمان موجود تھے اور مسجد شہید کی گئی تو آخر مسجد کن لوگوں نے شہید کی؟۔انہوں نے کہاکہ عدالت کا فیصلہ پوری طرح سمجھ سے بالاتر ہے۔ ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ موجودہ فیصلہ حیرت زدہ کرنے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے ایک بڑے طبقے کو حیرانی اور دکھ ہوا ہے ،فیصلہ میں مسجد کی شہادت کو مکمل طورپر نظر انداز کیاگیاہے۔

You might also like