Baseerat Online News Portal

ملزموں نے تومسجدبچانے کی کوشش کی،بابری مسجدکی شہادت منصوبہ بندنہیں تھی

سی بی آئی خصوصی عدالت کافیصلہ ،اڈوانی، جوشی اور اومابھارتی سمیت سبھی 32 ملزمان بری
غیرسماجی عناصرنے شہیدکیا،فیصلہ سنانے کے ساتھ ہی جج ریٹائر،سوشل میڈیاپربھی سخت تنقید
لکھنؤ ،30؍ستمبر(بی این ایس )
بالآخر28 سال پرانے بابری مسجدشہادت معاملے پر فیصلہ آگیاہے۔ لکھنؤ کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اس کیس میں حیرت انگیزاورناقابل یقین فیصلہ سناتے ہوئے ایل کے اڈوانی،مرلی منوہر جوشی،ساکشی مہاراج،اوما بھارتی، کلیان سنگھ،نریت گوپال داس سمیت تمام 32 ملزموں کو بری کردیاہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ بابری مسجد شہادت منصوبہ بندنہیں تھی۔ عدالت نے کہاہے کہ شرپسند عناصر نے اس ڈھانچے کو منہدم کردیا تھا اور ملزم رہنماؤں نے ان لوگوں کوروکنے کی کوشش کی تھی۔اس ہائی پروفائل معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے قائدین جیسے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور کلیان سنگھ شامل تھے۔عدالت نے تمام ملزمان کو بری کردیا ہے۔گرچہ فیصلے کے بعدخودملزمان خوش ہیں،اورمسجدکی شہادت پراظہارتفاخرکررہے ہیں۔ایک ملزم رام د اس ویدانتی نے تواعتراف بھی کرلیاہے کہ انھوں نے مسجدکوشہیدکرنے میں حصہ لیاہے ۔اس اعتراف کے بعدجج اورعدالتی نظام پربڑاسوال اٹھ رہاہے۔اس کے ساتھ ہی جج ریٹائرہوگئے ہیں۔اس متنازعہ فیصلے پرسوشل میڈیاپرسخت تنقیدہورہی ہے اوریہاں تک لکھاگیاہے کہ آنے والے دنوں میں ایوان بالامیںریٹائرڈجج ہوں گے۔پوری دنیاکی نگاہ آج کے فیصلے پرتھی ،لیکن جس طرح تنقیدہورہی ہے۔اس سے بھارت کے سیکولرزم ،جمہوریت اورآزادعدالتی نظام کے دعوے کی قلعی کھل رہی ہے ۔ واضح رہے کہ اس کیس کی چارج شیٹ میں بی جے پی کے ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت 49 افراد کے نام شامل ہیں۔ جن میں سے 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، باقی 32 ملزمان کو عدالت نے حاضر ہونے کو کہا تھا۔ایڈوانی اور جوشی ویڈیو کانفرنسنگ میں شامل تھے۔لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج ایس کے یادو نے اس معاملے پر فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد وہ سبکدوش ہوجائیں گے۔انہیں 30 ستمبر 2019 کو ریٹائر ہونا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کیس کے لیے ان کی مدت میںفیصلہ آنے تک توسیع کردی تھی۔

You might also like