Baseerat Online News Portal

متھراعیدگاہ ہٹانے کی عرضی مسترد، عدالت نے کہا،درخواست قابل سماعت نہیں

نئی دہلی ،30؍ستمبر(بی این ایس )
متھرا سول کورٹ نے’ کرشنا جنم بھومی‘کاڈرامہ کھڑاکرنے والے دیوانی مقدمے کوخارج کردیاہے۔عدالت نے اعتراف کیاہے کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ درخواست میں مندر کے قریب عیدگاہ کوہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ بابری مسجدکے بعداب کرشنا کے نام پرسیاست کی جارہی ہے اورمتھرا کی عدالت میں دیوانی مقدمہ دائرکیاگیاہے۔’کرشناجنم بھومی‘ زمین کے 13.37 ایکڑ اراضی کی ملکیت طلب کی ہے گئی ہے اور شاہی مسجد عیدگاہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیاہے۔یہ مقدمات چھے دیگر عقیدت مندوں کے ذریعہ دائر کیے گئے ہیں۔لیکن خودوہاں کے پجاری اورلوگ نیاجھگڑانہیں چاہتے ہیں۔اگرچہ اس مقام کی عبادت کا ایکٹ 1991 اس معاملے کی راہ میں آرہاہے جس میں بابری مسجد کے معاملے کو مقدمے سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔متھراکاشی سمیت تمام تنازعات کو قانونی چارہ جوئی سے روک دیاگیاتھا۔ اس ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ جومذہبی جگہ 15 اگست 1947کوجس حیثیت سے تھی،اسی حیثیت سے رہے گی یعنی اگرکوئی مسجداس وقت تھی تومسجدرہے گی،مندرتھا،تومندررہے گا۔گذشتہ سال نو نومبر کو ، ایودھیا کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے ایس سی کے پانچ ججوں کے بنچ نے ایسے معاملات میں کاشی متھراسمیت ملک میں تازہ مقدمہ بازی کے لیے دروازہ بند کردیا تھا۔ تاہم ہندوگروہ پہلے ہی اس سلسلے میں ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین کے توسط سے سپریم کورٹ میں قانون کی جواز کو چیلنج کرچکا ہے۔ لیکن ایودھیا کیس میں ایس سی نے کہا تھا کہ عدالتیں تاریخی غلطیوں کو دور نہیں کرسکتی ہیں۔

You might also like