Baseerat Online News Portal

کانگریسی لیڈران کا دعویٰ، بابری کیس کا بہار الیکشن پر اثرنہیں پڑے گا

 

نئی دہلی،30؍ستمبر(بی این ایس )

 بابری مسجدشہادت کے معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے پر بدھ کے روز کانگریس نے سخت رد عمل کا اظہار کیاہے۔ اسی کے ساتھ پارٹی کے بہت سے لیڈروں نے دعویٰ کیاہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں اس مسئلے کاکوئی اثرنہیں پڑے گا یہاں تک کہ اگر بی جے پی نے کوشش کی۔ فیصلہ آنے کے بعد کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہاہے کہ یہ گذشتہ سال سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے اور آئین ، معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے پر یقین رکھنے والاہر شخص امید کرتا ہے کہ اس غیر معقول فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔ کانگریس کے اس موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر پارٹی کے ایک سینئر لیڈرنے بتایاہے کہ ہم نے یہ موقف آئینی عمل ، سپریم کورٹ کے فیصلے اور نظریاتی وابستگی کی وجہ سے اٹھایاہے۔بہارکے انتخابات سے اس کو جوڑتے ہوئے دیکھنامناسب نہیں ہے۔انھوں نے کہاہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس فیصلے کا بہار انتخابات میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بہار میں کانگریس کے انتخابی انتظام سے وابستہ ایک سینئر لیڈر نے کہاہے کہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو بہار کے انتخابات سے جوڑ انہیں جاسکتا۔ یہ بہار کے عوام کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کانگریس کے صدر دفتر میں بڑی تعداد میں ٹکٹ کے خواہشمند موجود تھے۔ ان لوگوں میں سے بہت سے لوگوں کو اس فیصلے پر بحث کرتے ہوئے دیکھاگیاتھا۔ بہار کی سیتامڑھی سیٹ سے ٹکٹ کے خواہشمند محمد شمس شاہنواز نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے کانگریس کو مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے۔بی جے پی کا کام یہ ہے کہ وہ انتخابات میں اس طرح کے معاملات نشر کرے گی ، لیکن بہار محبت اور ہم آہنگی کی سرزمین ہے ، سیاست اس کو بانٹنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔راجیواسمبلی انتخابات کے لیے ٹکٹ ملنے کی امید میں مدھوبانی سے کانگریس ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ کمار کہتے ہیں کہ بہار کے انتخابات میں 15 سال کام ، کورونابحران اور سیلاب جیسے مسائل ہوں گے۔

You might also like