Baseerat Online News Portal

کسانوں کی حمایت میں جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کا تمام ضلع کلکٹر کو میمورنڈم

ممبئی،30؍ستمبر( بی این ایس )
گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں کسانوں سے متعلق تین قوانین کوپیش کیاگیااور بغیرگفتگوکیے محض صوتی ووٹنگ کے ذریعے پاس کرالیا گیا۔صدر جمہوریہ کے دستخط ہوجانے کے بعد اب انھیں قانونی شکل دیدی گئی ہے۔حکومت ان قوانین کو کسانوں کے حق میں بنائے گئے قوانین بتانے کی کوشش کررہی ہے، حالانکہ ان قوانین کے مطالعے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسانوں کی بجائے کارپوریٹ طبقے کو نفع رسانی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ پورے ملک کے کسانوں میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔زرعی معیشت کے ماہرین، کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور کسان خود جگہ جگہ ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کسانوں کو استحصال سے بچانے اور ان کی فلاح وبہبود کے لیے شعبہ قیام عدل و قسط جماعت اسلامی مہاراشٹر منصوبہ بند طریقے سے مختلف کوششیں کرتا ا?رہا ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے کسان مخالف قوانین پاس کیے جانے پر جماعت اسلامی مہاراشٹر کسانوں کے استحصال پر مبنی ان قوانین کی مخالفت میں کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس ضمن میں بتاریخ 30 ستمبرکو ریاست مہاراشٹر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر کووڈ 19 سے بچائوکی غرض سے لگائی گئی حد بندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کیساتھ ساتھ ایک مطالباتی میمورنڈم ضلع کلکٹرس دیا جارہا ہے۔مطالباتی میمورنڈم میں شعبہ عدل وقسط جماعت اسلامی مہاراشٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کسان مخالف ان تینوں قوانین کو واپس لے ،اور جمہوری روایات کا لحاظ کرتے ہوئے کسانوں، اپوزیشن کے نمائندوں اور زرعی معیشت سے متعلق پیشہ ور افراد کی تجاویز پر گفتگو کے بعد ہی کوئی قانون وضع کرے۔کانٹریکٹ فارمنگ کا جو طریقہ کار نئے منظور شدہ قوانین کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے اسے فوری طورسے منسوخ کیا جائے۔ایم ایس پی اور اے پی ایم سی جیسے سابقہ میکانزم کو برقرار رکھا جائے۔ ضروری اشیاء سے متعلق 1955 کے قانون میں کی گئی ترمیمات کو فوری واپس لیا جائے۔ کسانوں کو مفت بیج ،کھاد اورمالی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔کسانوں کو سودسے پاک قرض فراہم کیا جائے۔مہاراشٹر میں کپاس کی فصل کی خریداری حکومت کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے کسانوں کے دیگر مطالبات پر بھی حکومت کو سنجیدگی غور کرنا چاہیے۔جماعت اسلامی حلقہ مہاراشٹر یہ محسوس کرتی ہے کہ ان قوانین سے بظاہر کسان متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں لیکن ان قوانین سے عام آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ان قوانین سے متعلق عوامی بیداری کے لیے مختلف پروگرامز کے انعقاد کا منصوبہ شعبہ قیامِ عدل و قسط جماعت اسلامی مہاراشٹر نے تیارکیا ہے جسے ریاست کے کسان لیڈروں اوردیگر ہم خیال تنظیموں کے اشتراک سے نافذ کرنے کے عزم کا اظہار جماعت کے ذمہ دران نیاس موقع پر کیا ہے۔

You might also like