Baseerat Online News Portal

ایل جے پی کا الگ ہونا جے ڈی یو کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔نصیر احمد، بہار کے مستقبل کے لئے نتیش کمار پر بھروسہ جتانا ہی عوام کی ذمہ داری

رکسول۔ 5/ اکتوبر ( محمد سیف اللہ)

این ڈی اے سے ایل جے پی کا باہر نکل جانا کس کے لئے کتنا سود مند اور نقصاندہ ہوگا یہ تو بتانا مشکل ہے لیکن اس کو لے کر ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول کے سیاسی حلقے میں کئی طرح کی چے میگوئیاں شروع ہیں ایک طرف جہاں بی جے پی حلقہ اسے اپنے لئے خوش آئند مان رہا ہے وہیں جےڈی یو کا ماننا ہے کہ ایل جے پی کا الگ الیکشن لڑنا اس کی کامیابی پر اثر انداز نہیں ہوگا اور تمام تر آنکڑے کو بگاڑتے ہوئے اس بار کے الیکشن میں پارٹی اہم کردار کے ساتھ سامنے آئے گی،جے ڈی یو لیڈر نصیر احمد نے اپنے اخباری بیان میں کہا سیاست ہر پل کڑوٹ بدلتی ہے لیکن عین الیکشن سے قبل ایل جے پی کا یہ رویہ اس کی خود غرضانہ سیاست کو واضح کرتا ہے اس لئے بہار کی عوام رام ولاس پاسوان اور چراغ پاسوان کے منصوبے کا ناکام بنانے میں اہم رول نبھائے گی انہوں کے کہا کہ ابھی پورے بہار کے مزاج پر الیکشن سوار ہے،انتخابی موضوعات کو لے کر ہر طرف ہو ہنگامہ ہے،تمام ہی پارٹیاں عوام کے لئے وعدوں کا پٹارہ کھول کر ان کو ووٹ بٹورنے کی فراق میں ہے،گلی گلی چکر لگائے جا رہے ہیں،دروازوں پر دستک دینے کی روایت پھر زور پکڑ رہی ہے،دل بدل کا کھیل بھی پورے شباب پر ہے،دوستی اور دشمنی کے معیار بدل رہے ہیں،ایسے میں کل کیا ہوگا اور بہار الیکشن کا اونٹ کس کڑوٹ بیٹھے گا یہ کم از کم ابھی تک تو کوئی بھی نہیں جانتا لیکن اگر آپ کا رشتہ بہار سے ہے تو ذرا ایمانداری سے بتائیے کہ بھلا بہار کے مستقبل کے لئے بطور وزیر اعلی نتیش کمار نہیں تواور کون؟ کیوں کہ نتیش کمار وہ ہیں جنہوں نے بہار کی کمان ایسی حالت میں سنبھالی تھی کہ ہر طرف ہاہاکار مچا ہوا تھا،لوٹ کھسوٹ،بد عنوانی اور چور بازارای آسمان چھو رہی تھی،تعلیمی نظام سسکیاں لے رہا تھا،صحت کا شعبہ نزع کی حالت میں حکومت سے رحم کی بھیک مانگ رہا تھا،سڑکیں اپنا وجود بھلا کر گڈھوں میں تبدیل ہو چکی تھیں،چمچماتی گلیوں کا تصور دیوانے کا خواب مانا جاتا تھا،بجلی کا خیال لاتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی تھی،جرائم کا ایسا طوفان برپا تھا کہ راہ چلتے مسافر وحشت سے کانپتے اور خوف سے تھراتے تھے مگر سب کو یاد ہوگا کہ وہی نتیش کمار ہیں جنہوں نے بہار کی تصویر بدل کر پورے ملک کو حیرت زدہ کر دیا تھا،انہوں نے کہا کہ بھلا اس سچائی کو کون بھلائے گا کہ پندرہ سال آرجےڈی کی حکومت کے باوجود بہار کسمپرسی کی حالت میں تھا،اس وقت کی نوجوان نسل ہاتھوں میں ڈگرکاں لے کر دردر کی خاک چھان رہے تھے،جن تعلیمی اداروں کا کام نئی نسل کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل تھا انہوں چرا گاہ کی شکل اختیار کرلی تھی،سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بدعنوانی اور رشورت خوری کے اڈے بن چکے تھے،لیکن نتیش کمار نے بہار کو نہ صرف اس بحرانی کیفیت سے نکال کر اسے ترقی کی راہ بتائی،بلکہ انہوں نے فرقہ پرستی اور مذہبی نفرت کی آگ میں جل رہے بہار جو بچائے رکھنے کے لئے اپنی ان ذمہ داریوں کا ثبوت دیا جس کی بہار کی سیاسی تاریخ میں بہت کم مثالیں مل پائیں گی،انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت چلانے کے باوجود بہار کے اندر ان خیالات کو پروان چڑھنے کا موقع نہیں دیا جن کے سبب ہندوستان کی کئی بی جے پی کے زیر اثر ریاستوں میں نفرت وتعصب کا طوفان برپا ہے،انہوں نے تعلیمی میدان میں جس طرح کی پیش رفتیں کیں اس سے نئی نسل کو اپنی منزل تلاش کرنے کے قابل اطمینان مواقع ملے،سرکاری دفاتر کے کام کاج کو موثر بنانے کے لئے افسران کو جوابدہ دہ بناکر اپنی ایماندارانہ ذہنیت کا ثبوت دیا،انہوں نے چراغ پاسوان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج نتیش کمار کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ہی بے بسی کے عالم میں زندگی گزار رہی بہار کی عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کے لئے انقلابی قدم اٹھائے،سرکاری نوکری کے قابل رشک دروازے کھولے اور بہار کے سماج امن وسکون کے ماحول میں زندگی کا سفر طے کر نے کا موقع فراہم کیا،اس لئے میں بلا کسی تردد کے کہوں گا کہ بہار کے امن و ترقی پسند لوگ انہیں نظر انداز کر کے مفاد پرستی کا کھیل رچ رہے لیڈروں پر بھروسہ نہیں کریں گے،کیونکہ بہار کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں وزیر اعلی عہدہ کے لئے نتیش کمار سے اچھا اور تجربہ کار چہرہ کوئی نہیں ۔

You might also like