Baseerat Online News Portal

کورونا کال میں اندیشہ وخوف سے بھرا سفر *تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

کورونا کال میں اندیشہ وخوف سے بھرا سفر
*تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور
مولائے رحیم وکریم نے اتنی وسیع وعریض دنیا بنائی ہے اور اس میں طرح طرح کی نعمتیں پیدا فر مائی ہیں، جس کا احاطہ انسانوں کے بس سے باہر ہے۔ کہیں زمین سے تیل نکلتا ہے،کہیں سے سونا نکلتا ہے وغیرہ وغیرہ انسانوں کو علم و عقل سے نوازا تاکہ انسان عقل وعلم کو استعمال کرے اور اپنی ضروریات کی چیزیں اس وسیع و عریض دنیا سے حاصل کرے۔رب تبارک وتعالیٰ کی تخلیق کی ہوئی خوب صورت دنیا میں گھومے پھرے سیرو سیاحت کرے وغیرہ وغیرہ،اسی لیے قر آن مجید میں26 جگہوں سے زیادہ میں سفر کی غرض وغایت بھی مختلف طرح سے بیان کی گئی ہے۔انسان اپنی ضروریات کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ،ایک شہر سے دوسرے شہر،ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہتا ہے۔
سفر کے خطرات : ہر زمانے میں سفر خطرات سے بھرا رہا ہے،پہلے چوری، ڈاکہ، جانوروں کا خوف اب بھی یہ خوف باقی ہیں لیکن اب نئے نئے طریقوںنے سفر کو بہت مشکل بنادیا ہے، جیسے کووڈ19- نے ساری دنیا کو ہلاکر رکھدیا ہے، لیکن اس سے زیادہ اور خطرناک زہر نفرت کا زہرہے،ـ “نفرت وہ زہر ہے جو تب زہر ہوتا ہے، جب اسے “عام “ماناجا تاہے، حال کے سالوں میں یہی ہوا ہے” سینکڑوں موب لنچنگ ٹرینوں میں بسوں میں اور کھلے عام ہوچکی ہیں اور خوب ہورہی ہیں، ہمارے ملک کے حکمراں اسے عام مان چکے ہیں کان میں جوئیں نہیں رینگتی ہیں، کیوں کہ مرنے والے زیادہ تر مسلمان ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں سفر میں صرف کووڈ19- کا ہی زہر خطر ناک نہیں ہے،ہوا میں اور دلوں میں نفرت بھی تیزی سے پھیل رہی ہے جو سفر ہی نہیں ہر جگہ خطرہ بنی ہوئی ہے،اکیلا کورونا کا وائرس ہی نہیں جو پھیل رہا ہے مسلمانوں سے نفرت کا وائرس بھی پھیل رہا ہے جو بہت تشویس ناک(پریشانی،گھبراہٹ،ترد،فکر) کی بات ہے۔ جیسے جیسے انسانوں نے ترقی کی منزلیں طے کیں ویسے ویسے سفر کی سہولیات بھی حاصل کیں،پیدل سے لیکر ،جانوروں کی سواری ،بیل گاڑیوں ،بسوں،ٹرینوں اور ہوائی جہازوں تک سے سفر کرنے لگا۔ لیکن اتنے ترقی کے زمانے میں اور سہولیات میں سفر ہونے پر بھی لاکھوں لاکھ غریب مزدوروں کو پیدل سفر کرنا پڑا جس میں ہزاروں سے زیادہ لوگوں کی جانیں چلی گئیں اور حکمراں پارلیمنٹ میں بول رہے ہیں کہ لاک ڈائون میں کتنے لوگ مرے ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے، بقول غالب :
؎ *کعبہ کس منہ سے جائو گے غالب ٭ شرم تم کو مگر نہیں آتی*
افسوس آنکھوں کا پانی ہی ختم ہوگیا ہے!۔ شاہین باغ کا دھرنا جو پورے ملک میں زبردست اور منظم طریقے سے چل رہے تھے،حکومت کی چولیں ہل گئی تھیں، ہمارے مہاشے (بہنوں بھائیوں) وزیر اعظم جو پہلے بھی بغیر پلاننگ کے نوٹ بندی کا اعلان کرچکے تھے، سینکروں لوگوں کی جانیں لے چکے تھے،لاک ڈائون کا اعلان کردیا اور پھر جو ہوا سب نے دیکھا تاریخ میں درج ہوگیا اور گودی میڈیادوغلی میڈیا نے اپنی شرمناک کر تو توں سے ملک کا نام بدنام کردیا، امریکہ کے مقبول میگزین ٹائم نے دنیا کے 100بااثر افراد کی فہرست کی رپورٹ میں لکھتا ہیــ” شاہین باغ میں ہونے والے مظاہروں کاچہرہ بن کر سامنے آنے والی 82 سالہ خاتون بلقیس بانو کا نام بھی اس میں شامل ہے، ٹائم میگزین نے لکھا ہے: جمہوریت کے لیے بنیادی بات محض آزادانہ انتخاب نہیں ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں1.3ارب آبادی میں مسیحی، مسلمان، سکھ،بودھ، جین اور دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔یہ سب انڈیا میں رہتے ہیں، این سی آر، این پی آر ،سی اے اے کی مخالفت کو دبانے کے لیے مودی نے کورونا وبا کو بہانہ بنایااور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے باشندوں کی آوازوں کا گلا گھونٹ دیا، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مزید تاریکی کی گہرائیوں میں چلی گئی”۔ مودی قسمت والے ہیں ا ب کورونا وشو گرو کے جھوٹے نعروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دو سرے نمبر پر ہندوستان میں براجمان ہے جہاں سفر سے لیکر زندگی کے ہر شعبہ میں پریشانی ہی پریشانی ہے۔
*کورونا کا قہر مجبوری کا ضروری سفر:*
ہم زلف(ساڑھو بھائی) جناب حسن رضا خان کی بیٹی “رُقیہ نور” کی شادی میں حاضری کے لیے کانپور کا سفر ناگزیر ہوگیا پروشتم اکسپریس “شرمک ٹرین نیا نام”سے13ستمبر کی ٹکٹ نکلوائی گھر کے لوگ و دوست احباب شدید مخالفت کر نے لگے کہ کورونا ہندوستان میں اپنی جوانی کی طاقت دکھا رہا ہے اور آپ سفر میں جا رہے ہیں۔ناچیز نے قر آن مجید اور سیرت طیبہ کا سہارا لیا مطالعہ کیا تو قرآن مجید میں تقریباً26آیاتِ کریمہ تو سفر کے احکام ومعاملات پر وارد ہیں اور بہت سے عبرت ناک واقعات بھی سفر کے متعلق موجود ہیں۔ رب تبار ک وتعالیٰ نے ایمان والوں “مسلمانوں” کے بارے میں فر مایا۔
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اِن کافروں کی طرح نہ ہوجائو جو اپنے ان بھائیوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں جو (کہیں) سفر گئے ہوں یا جہاد کر رہے ہوں(اور وہ وہاں مر جائیں) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے،تاکہ اللہ اس( گمان ) کو ان کے دلوں میں حسرت بنائے رکھے، اور اللہ ہی زندہ رکھتا اور مار تا ہے، اور اللہ تمہارے اعمال خوب دیکھ رہا ہے۔( سورہ آلِ عمران،3:آیت156,)
سچ اور حق تو یہی ہے موت کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی چاہے وہ سفر ہو یا حضر،مگر جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور بہت کچھ اپنی تدبیروں پر بھروسہ رکھتے ہیں، ان کے لیے اس قسم کے قیاسات “اندازہ لگانا،خیال دوڑانا؛ گمان کرنا” بس داغِ حسرت بن کر رہ جاتے ہیں اور وہ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں کاش !یوں ہوتا تو یہ ہوجا تا، یعنی یہ باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ اسی طرح کا حکم اور مفہوم اور آیتوں میں بھی موجود ہے۔سورہ نحل 16،آیت81 میں سفر اور دورانِ سفر منزلوں( کوسوں دور،بہت دور تک،دُور دُور تک۔) میں ٹھہر نے اور سفری معاملات درج ہیں۔ جس طرح زندگی میں ہزارہا چیزیں انسانی ضروریات کی ہوتی ہیں اور ضرورت پڑتی رہتی ہے، اسی طرح سفر بھی انسانی ضروریات میں شامل ہے۔ کرونا کال میں سفر،کووڈ۔19 سے اسوقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے پوری دنیا میں مساجد بند کردی گئی ہیں اور دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں بھی بند ہیں ہر شہر ہر گاؤں میں 5 سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ عبادت کرنے پر پابندی ہے۔یہاں تک کرہ ارض پر سب سے مقدس مقام خدا کاگھر خانہ کعبہ ومدینہ منورہ میں بھی مسجدنبوی کے دروازے بھی زیادہ لوگوں کے لیے بند کر دیئے گئے ہیں،یرو شلم میں بیت المقدس میں بھی تالے لگ گئے،حج جو اسلام کا ایک عظیم رُکن ہے اس کی ادائیگی سے بھی دنیا کے مسلمان محروم کردیئے گئے ہیں،کرونا،کرونا، کرونا ہر چہار جانب شور ہے،اللہ اس موذی مرض سے اور دوسری مرضوں سے تمام عالم انسانیت و ہم سب کو بچائے آمین۔
*دنیا رُکتی نہیں چلتے رہنے کا دوسرا نام دنیا ہے:*
زندگی میں ایسے اوقات آتے ہیں کہ آدمی کو رک جانا پڑتا ہے، پھرسنبھل کر چلنا پڑتا ہے،چلتے رہنا ہی زندگی کی علامت ہے،شادی میں شرکت کی غرض سے 13 ستمبر2020, کو ٹاٹا نگر اسٹیشن سے پر شوتم اکسپریس سے کانپور کا سفر شروع ہوا اول وقت میں نماز فجر اداکی اور اسٹیشن پہنچے،سخت سیکورٹی اور لمبی لین میں لگ کر بیگ کو sanitizer,کیمیکل سے صفائی کے عمل سے گزر کر( یادرہے صرف خانہ پوری کے لیے یہ تام جھام ہورہا ہے ایک بار بیگ کے اُپر سے پُشر گھومادیا اسپرے ہوا بس کام ختم) اندر علاوہ مسافر کے کسی کو جانے کی اجازت نہیں،قلیوں کی لاٹری لگ گئی ہے جی ہاں جناب صرف ایک بیگ کے لیے مزدوری200, سو روپئے بتایا میں نے کہا کہ2 نمبر پلیٹ فارم پر ٹرین ہے 100, روپئے لے لو سخت لہجے میں کہا نہیں ہوگا، مرتا کیانہ کرتا بیگ میں خود ہی لیکر چل دیا انجن سے 22, نمبر پر میرا کوچB.1.17 تھا جیسے تیسے اپنی سیٹ پر براجمان ہوا۔اطمینان ہونے پر سامنے سیٹ پر بیٹھے ہوئے صاحب سے اچھے لہجہ میں مخاطب ہوا آپ کہا ں تشریف لے جارہے ہیں جواب ملا دہلی ،میں لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد ہی سامنے سیٹ پر بیٹھے ہوئے جناب نے سائٹ پر بیٹھے ہوئے نوجوان سے بات چیت شروع کی اور مودی وشاہ جی کا کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔پورے سفر میں ان گنت موضوع پربات چیت میں شامل رہے جس میں صرف اور صرف بی جے پی گور منٹ کی واہ واہی کا ہی تذکرہ تھا،ہاں بیچ میں لالو پرشاد یادو کا تذکرہ بھی آیا اور خوب آیا،بڑکا چور ہے،بہار کو برباد کر دیا وغیرہ وغیرہ اور دل کی بات زبان پرآہی گئی “آچھا ہوا کورٹ نے سزا سنادیا” دل چاہا کہ کورٹ کی مہر بانیوں بشمول بابری مسجد کا کچا چِٹھا کھولوں،لیکن الحمدللہ ! اللہ نے صبر کی توفیق بخشی اور میں چپ رہا،دور حاضر کے سفر میں اب اس بات پر بھی ہم کو آپ کو عمل کرنا ہوگا کہ کسی بھی متنا زعہtopic, موضوع پر گفتگو قطعاً نہ کی جائے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ کثرت سے توبہ استغفار کریں دُرود پاک کا ورد جاری رکھیں اور جوسورتیں قرآن پاک کی یاد ہیں وجو دعائیں یاد ہیں ضرور پڑھتے رہیں یادِ مولیٰ رحیم و کریم میں مشغول رہیں برکت بھی حاصل ہوگی اور غیر ضروری باتوں سے بھی بچیں گے۔دوران سفر پانی والا نہیں آرہا تھا آنجناب “سامنے والے” چائے والوں سے بار بار پانی والے کو بھیجنے کے لیے کہہ رہے تھے، الحمدُ للہ! میں تین بوتل پانی لیکر چلا تھا ایک بوتل میں نے انھیں پیش کی وہ قبول نہیں کررہے تھے،میں نے خوش اخلاقی سے انھیں پیش کیا تو وہ مجبور ہو گئے اور بوتل لیتے ہی پینا شروع کردیا آدھی بوتل پی گئے، تاکہ تروتازہ ہوکر پھر مودی،شاہ جی کا کلمہ پڑھیں اور لالو جی کو گالیاں دیں،کوسیں۔
*اخلاق کی طاقت و تاثیر:* اخلاق توبہرحال اثر کرتا ہی کرتا ہے،پانی دینے کی برکت یہ ہوئی کہ آنجناب نے بڑا بیگ جو بورے کی شکل میں تھا اسے اوپر والی سیٹ میں رکھوادیا،جو بیچ وبیچ رکھا تھا جس کی وجہ کر کافی پریشانی ہو رہی تھی،میں نے احتیاطاً ایک بار بھی ہٹانے کو نہیں کہا تھا، انھوں نے کہا اب آپ اپنے پیر ادھر رکھیں آرام سے بیٹیھیں میں نے شکریہ ادا کیا کیوں کہ میں ترچھا بیٹھا ہوا تھا۔ واپسی کا سفر کانپور سے 20 ستمبر کو پرشوتم اکسپر یس کوچ s,1 سیٹ 57 تھی ارے یہ کیا یہ تو پوری جگہ فل ہے کُلر سے لیکر بڑے بڑے بورے رکھے ہیں پوچھنے سے نہ کوئی بتا رہا ہے نہ ہی کوئی ہٹا رہا ہے،میرے پاس بھی تین سامان ہے قلی جلدی کرنے بول رہا ہے، میں نے مجبوری میں اپنا سامان اپنی سیٹ پر ہی رکھوا لیا اور سیٹ پر گر دن جھکا کر بیٹھ گیا مرزا پور پار ہو گیا تو میں نے اور مسافروں سے کہا کہ پورا سفر میں اسی طرح بیٹھ کر کروں گا کیا؟ آپ لوگ میرے سامان کو رکھنے کی جگہ بنائیں تاکہ میں صحیح طرح سے بیٹھ سکوں بڑی حکمت ومِنت سے میں نے اپنا سامان رکھوایا اور تھوڑی دیر کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ گیا،آگے کی داستان وہی سیاسی باتیں موجودہ حکومت کی واہ واہی لمبی داستان ہے کیا لکھوں۔ ہمارے جیسے وضع قطع یعنی داڑھی کرتا لباس سے دور سے پہچانے جانے والے حضرات کو سفر سے پر ہیز کرنا ہی بہتر ہے،بہت ضروری ہو تو تو ہی سفر کریں تمام احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں۔( ناچیز کا مضمون: “سفر ضروری یا جان کی حفاطت” کا مطالعہ فر مائیں)۔
؎ *سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو*
*سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو*
( ندا فاضلی)
*سفر، سیرو سیاحت کے ذ ہنی و جسمانی فوائد:*
سفر ہر زمانے میں خطرات سے پر تھا اور رہے گا اس سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا،ولیکن سفر وسیرو سیاحت کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ ضرورت کے تحت سفر اورتفریح میں نہ صرف مزہ آتا ہے بلکہ ایسا کرنے سے جسمانی اور ذ ہنی سکون بھی ملتا ہے اور فائدہ پہنچتا ہے،سیرو سیاحت آپ کی جان بھی بچا سکتی ہے۔اگر آپ سفر کرنے کے لائق ہیں تو یقینا آپ بہت خوش قسمت ہیں، خواہ آپ کسی شہر میں گھوم پھر رہے ہوں یا کسی گائوں کی صاف شفاف فضا میں سانسیں لے رہے ہوں،انسب کے بے شمار فوائد ہیں۔سیرو سیاحت سے آپ کادل صحت مند رہتاہے،اگر آپ شہر میں رہتے ہیں تو قدرتی مناظر کو دیکھیں دن میں پانچ،چھے کیلو میٹر یا دس ہزار قدم ضرور چلیں تو آپ ڈاکٹروں کی فیس اور مہنگی دوائوں سے بہت حد تک دور رہیں گے۔ سیرو سیاحت نہ کرنے والوں،پیدل نہ چلنے والے مردوں میں32, فیصد دل کے مریضوں کا خدشہ زیادہ پایا جاتاہے۔
*میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر*
*لوگ ساتھ آتے گئے اورکارواں بنتاگیا* ۔۔ حا فظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ہا جرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ،رابطہ۔۔۔
09279996221, [email protected]

 

You might also like