Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

شعبۂ عربی میں’’گاندھیائی فلسفہ اور عرب مصنفین‘‘ کے موضوع بین الاقوامی ویبینار کا اہتمام
علی گڑھ، 5؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ عربی میں گاندھی جینتی کے موقع پر ایک روزہ بین الاقوامی ویبینارمنعقد ہوا جس کی صدارت اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر زکریا السرطی، ڈائریکٹر جنرل الضیا ء انسٹی ٹیوٹ برائے تحقیق، مراکش نے شرکت کی۔ ڈاکٹر یٰسین سعدان، سینئر ریسرچر ،جامعہ محمد الخامس مراکش اور ڈاکٹر حنا شبائکی ،پروفیسر امیر عبد القادر یونیور سٹی سنتینہ، الجزائر نے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے اس پروگرام کو رونق بخشی۔
پروفیسر طارق منصور نے اپنے صدارتی کلمات میں اس ویبنارکے ڈائریکٹر پروفیسر فیضان احمد صدر شعبہ عربی کو پروگرام کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دلی مبارکباد پیش کی۔ اس کے بعد گاندھی جی کی شخصیت اور ان کے فلسفۂ حیات کے چند نمایاں پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی نے اپنی پوری زندگی مساوات اور عدم تشدد کا درس دیا۔ جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران انہوں نے اپنے انہیں نظریات اور اصولوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کی آزادی میں ان کے فلسفۂ حیات کا بہت بڑا رول رہا ہے، وہ قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے علمبردار تھے اور تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ علی برادران کے ساتھ خلافت تحریک میں شریک تھے ۔ وہ اہنسا اور ستیہ گرہ کے اصولوں پر چل کر پوری دنیا میں مقبول ہوئے، جس کی جیتی جاگتی مثال شعبہ عربی کا یہ ویبنار ہے۔
ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر مسعود انور علوی نے ویبنار کے انعقاد پر شعبہ عربی کے تمام اساتذہ کرام کو مبارکباد پیش کی اور بحیثیت ڈین تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
صدر شعبہ عربی اور ویبنار کے ڈائریکٹر پروفیسر فیضان احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ گاندھی جی کے فلسفۂ زندگی کی معنویت جس طرح سے سابقہ ادوار میں رہی ہے اسی طرح موجودہ دور میں بھی باقی ہے۔ گاندھی جی کی زندگی اور انکے کارنامے اور اصول و نظریات پر جس طرح دنیا کی مختلف زبانوں میں تفہیم و تشریح کی گئی ہے اسی طرح عربی زبان میں بھی عرب ادبا ء اور مصنفین کی بے شمار تحریریں ملتی ہیں۔
مہمان خصوصی پروفیسر زکریا السرطی نے اپنے کلیدی خطاب میں گاندھی جی کے فلسفۂ انسانیت کو موضوع بحث بنایا اور عرب دنیا میں ان کی مقبولیت کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ عالم عرب میں جن ادبا ء و مصنفین نے گاندھی جی کی شخصیت اور ان کے فکرو فلسفہ کو موضوع بحث بنایا ان میں عباس محمود العقاد، احمد امین، سلامہ موسی اور احمد شوقی کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
مہمان ذی وقار ڈاکٹر یٰسین سعدان نے اپنے خطاب میں مجموعی طور پر گاندھی جی کی شخصیت کا تعارف پیش کیا اور ان عرب مفکرین کی تحریروں کی نشان دہی کی جو گاندھی جی کے نظریات اور فلسفہ پر عربی زبان میں لکھی گئی ہیں۔
پروگرام کا افتتاح تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر علی حر کامنپوری اور کلمات تشکر ڈاکٹر عرفات ظفر نے انجام دیئے۔ ویبینار میں ہند اور بیرون ہند کی مختلف یونیورسٹیوں کے شعبۂ عربی کے اساتذہ ، ریسرچ اسکالر اور طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
شعبۂ انگریزی کے زیر اہتمام مہاتما گاندھی کی حیات و خدمات پر بین الاقوامی ویبینار
علی گڑھ، 5؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ انگریزی کے زیر اہتمام مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر دو روزہ بین الاقوامی ویبینار ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے بابائے قوم کے پوتے مسٹر تُشار گاندھی نے کہاکہ جنوبی افریقہ میں طاعون کی وبا اور اسپینش فلو کے وقت مہاتما گاندھی وہاں موجود تھے اور انھوں نے اس وبا سے نپٹنے میں لوگوں کی قیادت کی اور انھیں ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہوئے ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ صفائی اور دیگر ضابطوں پر پابندی سے عمل کرنے کی تلقین کی۔
’وبا کے دور میں گاندھیائی طرز عمل‘ کے موضوع پر اپنے خیالا ت کااظہار کرتے ہوئے تشار گاندھی نے کہا کہ کووِڈ 19کی وبا نے لوگوں کو دماغی طور سے بھی بہت متاثر کیا ہے اور سماجی فاصلوں نے نفسیاتی و ذہنی مسائل پیدا کئے ہیں۔ ایسے وقت میں لوگوں کے کام آنا اور ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ تقریباً ایک صدی قبل اسپینش فلو نے انسانی آبادی کو بری طرح متاثر کیا تھا اور اس سے حاصل ہونے والے سبق آج بھی ہمارے کام آرہے ہیں۔ انھوں نے یوروپ میں طاعون اور اسپینش فلو پھیلنے کے وقت برتے جانے والے مختلف تعصبات کا بھی ذکر کیا۔
ویبینار کے دوسرے دن پروفیسر پال بونو ڈی مِسکوٹا (ڈائرکٹر، یو آر آئی سنٹر فار نان وائلنس اینڈ پیس اسٹڈیز، یونیورسٹی آف راڈ آئی لینڈ) نے مہاتما گاندھی اور مارٹن لوتھر کِنگ جونیئر کے عدم تشدد کے فلسفہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے دونوں شخصیات کی حیات اور خدمات کا موازنہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ گاندھی جی کا فلسفہ سبھی مذاہب و نظریات کا ایک خوبصورت مرکّب تھا اور کِنگ جونیئر ان سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے ٹالسٹائے اور امریکی مفکر ایڈن بالو کے حوالہ سے بھی گاندھی جی کے فلسفہ کا جائزہ پیش کیا۔
اے ایم یو پرو وائس چانسلر پروفیسر ظہیرالدین نے کہاکہ استحصال اور جبر کے خلاف گاندھیائی جدوجہد کا طریقہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر بہت کارگر ثابت ہوا جس سے پوری دنیا میں تحریکات کو حوصلہ ملا۔
اس سے قبل مقررین اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر ایم رضوان خاں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا اس بات پر یقین تھا کہ تعلیم خود آگہی پیدا کرتی ہے اور سرسید احمد خاں کے اندر اس شعور نے انھیں انقلابی اقدامات پر مائل کیا جس کی ایک شکل ہم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اے ایم یو کے اساتذہ خوش قسمت ہیں کہ وہ سرسید احمد خاں اور گاندھی جی کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔
پروفیسر شاہینہ ترنم نے مقررین کا تعارف کرایا جب کہ پروفیسر وِبھا شرما نے میزبانی کی۔پروگرام میں آرٹس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر مسعود اے علوی بطور خاص شامل رہے۔ پروفیسر سیمیں حسن اور پروفیسر ایس این زیبا نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر نعیم احمد خاںکی سبکدوشی پر الوداعیہ
علی گڑھ، 5؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبۂ علم الادویہ کے حکیم پروفیسر نعیم احمد خاں یونیورسٹی میں تقریباً 37؍سال خدمات انجام دینے کے بعد گزشتہ تیس ستمبر کو سبکدوش ہوگئے۔
پروفیسر خان فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین اور شعبۂ علم الادویہ کے تین دفعہ چیئرمین رہے۔ انھوں نے دواخانہ طبیہ کالج کے ممبر انچارج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور اے ایم یو کے کارگزار وائس چانسلر بھی رہے۔
پروفیسر نعیم احمد خاں نے طب یونانی کی قدیم اور جدید معلومات کو مربوط کرکے یونانی طب کے متعدد قدیم نسخوں کو زندہ کیا ہے۔ انھوں نے طب یونانی کے مرکّبات کے فارماکو-کلینیکل تجزیہ کے طریقہ کار کو جدید سائنسی پیمانوں سے ہم آہنگ کیا ہے ۔ انھوں نے خاص طور سے ہیپاٹائٹس بی کے علاج میں چار ادویات کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے، اور ذیابیطس کی یونانی دوا بھی تیار کی ہے۔
ان کے سبکدوش ہونے پر شعبۂ علم الادویہ کے چیئرمین پروفیسر غفران احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر نعیم احمد خاں کی شاندار علمی و طبی خدمات ہیں ۔ انھوں نے یونیورسٹی میں ایک طویل عرصہ تک خدمات انجام دی ہیں ، اس کے ساتھ ہی انھوں نے مختلف ریسرچ پروجیکٹوں پر بطور محقق کام کیا ہے۔ انھوں نے ایم ڈی کے 42؍تحقیقی مقالوں میں ریسرچ اسکالروں کی رہنمائی کی ہے۔ انھوں نے 97 قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ، تین کتابیں تصنیف کیں ، 136تحقیقی مقالے، 248 ؍ایبسٹریکٹ اور 36 مضامین تحریر کئے۔ انھوں نے متعدد کانفرنسوں کی صدارت کی، خصوصی خطبات دئے اور مختلف علمی و تحقیقی اداروں سے ان کی وابستگی ہے۔ پروفیسر نعیم احمد خاں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن پنٹاگن ایوارڈ-2018 اور بطور نوجوان سائنسداں ’ابن بیطار‘ ایوارڈ (1990) سے نوازا جاچکا ہے۔
پروفیسر نعیم احمد خاں نومبر 1983 ء میں شعبۂ علم الادویہ سے بطور لیکچرر وابستہ ہوئے تھے۔ نومبر 1992 میں وہ ریڈر اور مارچ 1997 میں پروفیسر مقرر ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭
ناسا اسپیس ایپ چیلنج میں اے ایم یو کے طلبہ نے ججز چوائس ایوارڈ حاصل کیا
علی گڑھ، 5؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلبہ کی ایک ٹیم نے عائشہ صمدانی (ایم بی بی ایس، سالِ اوّل) کی قیادت میں ناسا کے چیلنج ’اے ون ہیلتھ اپروچ‘ موضوع پر انٹرنیشنل ناسا اسپیس ایپ چیلنج-2020 میں ’دَ ججیز چوائس ایوارڈ‘ حاصل کیا۔ آلٹ ایئر نامی اس ٹیم نے اپنی پیشکش میں بتایا کہ کووِڈ19 کے باعث لاک ڈاؤن سے ہوا کا معیار بہتر ہوا۔
اس ٹیم میں عائشہ صمدانی سمیت محمد ذاکر حسین (ایم بی بی ایس)، امان احمد خاں (ایم بی بی ایس)، فیصل جمیل (بی ٹیک) اور عبداللہ صمدانی (بی اے ایل ایل بی) شامل تھے، جنھوں نے شمالی ہند کے خطہ میں لاک ڈاؤن سے قبل اور اس کے بعد ہوا کے معیار کا جائزہ لیا۔ انھوں نے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کیلکولیٹر بھی تیار کیا جو آلودگی کے بارے میں رہنمائی اور احتیاطی اقدامات میں مددگار ہے۔
ان طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر شاہد علی صدیقی اور فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر شکیل احمد صمدانی نے کہاکہ اس مطالعہ سے لاک ڈاؤن سے قبل اور اس کے بعد کے دنوں میں ایس او ٹو کی سطح کا واضح طور سے پتہ چلتا ہے۔ اس مقابلہ میں اِسرو اور ناسا کے سائنسدانوں نے جج کے فرائض انجام دئے جس میں ناسا کے تزئین صدیقی بھی شامل تھے۔ مقابلے میں تقریباً 33ٹیموں نے حصہ لیا۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ 5 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ماڈرن انڈین لینگویج شعبہ کے مراٹھی ڈویژن کے انچارج ڈاکٹر طاہر ایچ پٹھان نے ایس این ڈی ٹی ویمن یونیورسٹی، ممبئی کے زیر اہتمام ایک قومی ویبنار میں آن لائن لیکچر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان کا فرد کی نشوونما پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کے آس پاس کی دنیا کے بارے میں کسی بچے کی پہلی سمجھ اور تصورات اور مہارت کی زبان اس زبان سے شروع ہوتی ہے جو اسے پہلے پڑھائی جاتی ہے۔
”نیو ایجوکیشن پالیسی -2020 اور زبان” کے موضوع پر بولتے ہوئے ڈاکٹر پٹھان نے کہا کہ تعلیم میں مادری زبان کے استعمال کی اہمیت نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں مادری زبان کو درجہ پانچ اور علاقائی زبان کو درجہ آٹھ تک پڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں تین زبانوں کی پالیسی کو برقرار رکھا گیا ہے اور قومی پالیسی میں ہندوستان کی مختلف زبانوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ 5 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایم واک (پولیمر اینڈ کوٹنگ ٹکنالوجی) کے پہلے بیچ کے سات اور بی واک کے ایک طالب علم کو پرکشش تنخواہوں پر آن لائن پلیسمنٹ ڈرائیو کے ذریعہ مختلف پولیکر اور پلاسٹک کی صنعتوں میں روزگار کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر سید سبط اصغر عابدی، ٹی پی او (پولیمر اینڈ کوٹنگ ٹکنالوجی) نے بتایا کہ محمد ذیشان اور حسن احمد کو ایس این پیکیجنگ سروس پرائیویٹ لمیٹڈ، لکھنؤ نے، جبکہ محمد عرفان، محمد تعظیم اور محمد سلیم کو یو کے بی الیکٹرانکس پرائیوٹ لمیٹڈ، نوئیڈا نے منتخب کیا ہے۔ راحت علی (بی واک)کی یوفلیکس پرائیوٹ لمیٹڈ، نوئیڈا نے اور محمد عارف اور محمد ملک خان کی تقری انڈو پلاسٹ، گریٹر نوئیڈا میںکی گئی ہے۔
کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد زین خان نے منتخب طلباء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کووڈ 19 وبا کے دوران پلیسمنٹ ڈرائیو کے انعقاد میں سید سبط اصغر عابدی اور ڈاکٹر رضوان حسین کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

You might also like