Baseerat Online News Portal

بنگال میں بی جے پی لیڈر کا قتل، گورنر نے کہا: ممتا اور ان کے افسران ضروری پیغام کا جواب نہیں دیتے ہیں

نئی دہلی،05 ؍اکتوبر( بی این ایس )
مغربی بنگال کے بیرک پور میں بی جے پی رہنما کے قتل کے بعد ترنمول حکومت اور ریاستی گورنر جگدیپ دھنکھڑ کے مابین تلخیاں بڑھتی جاری ہیں۔ پیر کے روزگورنر نے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں امن وامان کا خاتمہ ہوگیا ہے، لیکن وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کے افسران بھی ضروری پیغام کا جواب نہیں دیتے ہیں۔دھنکھڑ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتوار کی رات 10.47 بجے ممتا کو ایک فوری پیغام بھیجا تھا اور ان سے بات کرنے کو کہا تھا، لیکن وزیر اعلیٰ نے اس کو نظر انداز کردیا۔ گورنر نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے ایڈیشنل چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو بھی نظم ونسق پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے طلب کیا ہے۔کلکتہ سے 20 کلومیٹر دور واقع بیرک پور میں اتوار کے روز بی جے پی رہنما منیش شکلا کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ اس وقت منیش پولیس اسٹیشن کے قریب مقامی لوگوں اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ۔ بی جے پی نے اس قتل عام کے پیچھے ترنمول کانگریس کا ہاتھ بتایا ہے، پارٹی کا الزام ہے کہ سیاسی انتقام کی وجہ سے حکمران جماعت نے اس طرح کے قتل کا ارتکاب کیا ہے۔ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور دونوں جماعتوں کے مابین سیاسی تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔ بی جے پی نے پیر کو ریاست میں 12 گھنٹے بند رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ترنمول نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قتل بی جے پی کے اندر تفرقہ بازی کا نتیجہ ہے۔گورنر کے مطابق ریاست کے آئینی سربراہ ہونے کی وجہ سے سیاسی ہلاکتوں کے لئے مستقل طور پر اور بلاجواز اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں، لیکن پولیس افسران ان کی بات نہیں مانتے ہیں۔

You might also like