Baseerat Online News Portal

 ہاتھرس کے آئینے میں  یوگی  راج کے درشن

 

ڈاکٹر سلیم خان

انسانی فطرت  کو خالق کائنات نے عدل و قسط پر استوار کیا ہے  اس لیے ہر باشعور انسان ظلم و جبر سے کراہت محسوس کرتا اور اس  کے خلاف علمِ  بغاوت کرتا ہے الہ کہ اس کی فطرت مسخ ہوچکی ہو اور اس کے اندر انسانیت مرچکی ہو ۔  انسانی  معاشرے میں جب   ناانصافی ہوتی ہے تو مختلف گوشوں سے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے ۔ اس کا ایک نظارہ ؁۲۰۱۳ میں دہلی کے اندر دیکھنے کو ملا  جب جیوتی سنگھ عرف نربھیا کی عصمت ریزی کی گئی ۔ اس کے خلاف پہلے تو معاشرہ اٹھ کھڑا ہوا۔ دہلی سے اٹھنے والی یہ آواز دیکھتے دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئی اور  شہر شہر قریہ قریہ اس کی مخالفت ہونے لگی۔ ذرائع ابلاغ نے اس میں مثبت کردار ادا کیا اور اس غم و غصے کی آگ  کو ملک کے  پھیلادیا ۔ انتظامیہ نے   مظلوم کے گھر والوں کا ساتھ دیا۔ انتظامیہ نے نربھیا کو علاج کے ملک سے باہر روانہ کیا ۔  ملزمین کو گرفتار کرکے عدالت میں حاضر کردیا ۔

اس وقت کی   حکومت نے جسٹس ورما کی سربراہی میں اس طرح کی وارادت کو روکنے کے لیے کمیٹی بنائی  ۔ اس کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کی گئی تاکہ اس طرح کے جرائم پر لگام لگائی جاسکے  ۔ اس کے باوجود انتخاب کے موقع پر  عوام نے اپنے غم وغصے کا اظہار کرکے پہلے دہلی کی شیلادکشت سرکار کو بدل دیا اور پھر مودی جی کے ’بہت ہوا ناری پر اتیاچار، اب کی بار مودی سرکار  ‘ والے نعرے پر یقین کرکے مرکزی حکومت بدل دی ۔ عدالت نے مجرمین کو پھانسی دے کر آئندہ اس طرح کے جرائم کو روکنے کی حتی الوسع کوشش کی  لیکن ہاتھرس میں سب کچھ الٹ پلٹ گیا۔  ایسا کیوں ہوا؟ کیا اس لیے جیوتی سنگھ ٹھاکر اور منیشا والمیکی دلت تھی ؟   اگر نہیں تو اس کے مجرمین کو سزا سے بچانے کے لیے آسمان اور زمین کے قلابے کیوں ملائے گئے؟

انتظامیہ جب تفریق و امتیاز کا مظاہرہ کرے تو ظالموں کا حوصلہ بلند ہوجاتا ہے۔  اس کے آثار بول گڑھی گاوں کے آس پاس دکھائی دے رہے ہیں  جہاں پاس کے بگھنا گاوں میں ٹھاکروں نے ایک پنچایت کا انعقاد کیا ۔ اس میں ایک درجن گاوں کے ٹھاکر اور برہمن شریک تھے ۔ ۔ ان لوگوں نے ملزمین کو بچانے کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا خیال ہے اس سانحہ کی آڑ میں نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے خلاف دلتوں  میں  غصہ  بھڑکایا جارہا ہے۔پنچایت میں موجود  لوگوں کا کہنا تھا  چونکہ طبی رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق نہیں ہوئی تو انہیں کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان لوگوں  نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے کے بعد   فیصلہ کیا کہ اب میڈیا کو گاوں میں گھسنے نہیں دیا جائے گا ۔  وہاں پر تمام ہی سیاسی جماعتوں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جارہا تھا ۔  مظلوم کے خلاف اس طرح کی کھلم کھلا  محاذ آرائی دنیا میں شاید ہی کہیں ہوتی ہو۔   

یہ اس لیے بھی ہوا کہ سرکاری ذرائع نے ابتداء  سے  ہی    بھرم پھیلایا کہ نہ تو عصمت دری ہوئی اور نہ اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن بالآخر  پوسٹ مارٹم کی رپورٹ   نے تصدیق کردی ہے کہ  متاثرہ کی موت گلا دبانے اور اس پر کیے جانے والے تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرہ کی ریڑھ کی ہڈی پر بھی چوٹ کے نشان ہیں۔ڈاکٹروں  نے اب بھی حتمی رپورٹ میں عصمت دری کا ذکر نہیں کیا، تاہم یہ تسلیم کیا کہ  نجی اعضا سے چھیڑ خانی کی گئی ہے۔ اس معاملے طبی رپورٹ بے معنیٰ ہے  ۔ آئین کے مطابق اگر کوئی عورت یہ کہہ دے کہ اس کی آبروریزی کی گئی ہے تو  وہ کسی طبی رپورٹ کی محتاج نہیں ہے اور موت کے دروازے پر بھلا کون جھوٹ بول سکتا ہے؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے یہ مانا کہ مریض کا ابتدائی طور پر ٹھیک طرح سے علاج نہیں کیا گیا اور اس کی حالت مستحکم بتائی گئی۔ بعد میں بہتر علاج و معالجہ کے باوجود مریض کی حالات لگاتار بگڑتی چلی گئی اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس لاپروائی کے لیے کون ذمہ دار ہے اس کی سزا کس کو دی جائےْگہ؟

منیشا کو سب سے پہلے   علی گڑھ  مسلم  یونیورسٹی میں داخل کیا گیا اور ابتدائی علاج کے بعد  ایمس  کو یہ کیس ریفر کیا گیا مگر مریضہ کو صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا ۔ یہ تبدیلی  کیوں ہوئی  اس کا بھی جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔  اس سنگین معاملہ کی ایف آئی آر درج کرنے میں پولس کو ۴؍۵ دن لگے تاکہ  مجرموں کو بچاہا جا سکے۔ اس معاملے کا سب سے  ہیبت ناک پہلو یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ مقتول کے اہل خانہ کو دینے کے بجائے ذرائع ابلاغ کے حوالے کی گئی۔ ان کو یہ کہہ کر دھمکایا گیا کہ اگر تم کو دی بھی جائے تو سمجھ نہیں پاوگے ۔  منیشا کے اہل خانہ صفدر جنگ اسپتال میں  موجودتھے مگر پیچھے کے دروازے سے اس کی لاش کو ہاتھرس لے جایا گیا ۔ گاوں میں اس کے دیگر رشتے دار روتے گڑ گڑاتے رہے کہ لاش ان کے حوالے کی جائے ۔ اعزہ و اقارب کا صبح تک انتظار کیا جائے تاکہ وہ اپنے مذہبی رسوم و رواج کے مطابق آخری رسومات ادا کرسکیں لیکن انتظامیہ نے  ڈانٹ کر گھر میں قید کردیا۔

انتظامیہ کی احمقانہ دلیل سن کر ہنسی آتی ہے اور رونا بھی آتا ہے۔ ان  سے کہا گیا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم ہوا ہے۔ پوسٹ مارٹم میں ہتھوڑے سےسر پھوڑا جاتا ہے۔ بدن کو قینچی سے کاٹ کر اندر سے کچھ کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ اسے دیکھ نہیں سکیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف دلت لاش کے ساتھ کیا جاتا ہے؟ دوسرے لوگوں کو ان کی لاش کیوں حوالے کی جاتی ہے؟   وہ کیوں خوفزدہ نہیں ہوتے ؟ اس کے بعد رات کو دو بجے کے بعد پولس نے آخری رسومات ادا کر دیں۔ کیا اس طرح کی جرأت کسی اور سماج  کے فرد سے کرنا  ممکن ہے؟ اجتماعی عصمت دری  کی متاثرہ کے اہل خانہ کو ہاتھرس کے ضلع مجسٹریٹ پروین کمار نے دھمکاتے ہوئے کہا  کہ آپ لوگ  اپنا اعتباریت ختم  نہ کریں ۔ میڈیا والے چلے جائیں گے، ہم ہی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ بار بار بیان بدل کر ٹھیک نہیں کر رہے۔”

پروین کمار کی یہ ویڈیو بھی وائرل ہوگئی ہے جس میں وہ منیشا  کے والد کو ڈراتے ہوئے کہتے ہیں کہ  میڈیا آج یہاں ہے، کل نہیں رہے گی۔ سب چلے جائیں گے۔ آپ حکومت کی بات مان لو۔   ان سارے بیانات کے میڈیا میں آجانے سےمودی  کے ہوش ٹھکانے آئے انہوں نے یوگی کو ٹویٹ کرکے کارروائی کرنے کی تلقین کی تو کمبھ کرن کی نیند سونے والی اتر پردیش کی حکومت جاگی اور اس نے  سیاسی نقصان کی بھرپائی کی کوشش شروع کردی ۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے  تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے جو سات دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ نے متاثرہ کے والد سے بات کی، فیملی کو 25 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی، فاسٹ ٹریک عدالت میں کیس چلانے اور کنبہ کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی کے ساتھ  حکومت کی طرف سے کنبہ کو ایک گھر بھی دئے جانے کا فیصلہ   کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر عصمت دری ہوئی ہی نہیں تو یہ سب کیوں کیا جارہا ہے؟

حکومت   کی جانب سے کی جانے والی یہ لیپا پوتی دراصل اس مسئلہ کا حل  نہیں بلکہ ایک رشوت ہے  کیونکہ  اس کے بارے میں سمجھاتے ہوئے  ڈی ایم نے آنجہانی منیشا  کی بھابی سے کہا پہلی بات تو عصمت دری ہوئی نہیں۔ اس کے بعد وہ سوال کرتے ہیں اچھا بتاو  اگروہ  کورونا سے مرجاتی تو تمہیں معاوضہ ملتا؟  اس کے جواب میں جب اس خوددار خاتون نے  پلٹ کر ڈی ایم سے سوال کردیا کہ اگر ان کی  اپنی بیٹی ہوتی اور اس  کے ساتھ  ایسا ہوتا تو کیا وہ معاوضہ لیتے؟  اس سوال کی ڈی ایم کو توقع نہیں تھی اس لیے اس کے جواب میں وہ چلانے اور ڈانٹنے لگے۔  اس کے بعد سرکارنے  اپنے دو دلالوں کو سمجھانے کے لیے بھیجا اور ان لوگوں نے کہا     ہم تمہاری  برادری کے ہیں ۔ ابھی سب صحیح ہورہا ۔ جو بھی مل رہا ہے لے لو آگے کچھ ہوگا یا نہیں اس کا بھروسہ  نہیں ہے۔ منیشا کی بھابی کہتی ہیں کہ  ہم نے سرکار پیسے مانگے ہی نہیں  تھے۔ ہمارا تو بس یہ مطالبہ ہے کہ ان لوگوں کو پھانسی کی سزا ہو اور ہمیں  انصاف ملے۔ اس کے علاوہ پیسے ، مکان وغیرہ ہم نے نہیں مانگا۔   اصل بات انصاف کی ہے اگر یہ نہیں ہوگا تو یہ ظلم نہیں رکے گا  اور معاشرے میں امن بھی قائم نہیں ہوگا اس لیے کہ امن و آشتی کا سارا انحصار عدل و قسط پر ہے۔ ٹھاکروں کو چاہیے کہ پھولن دیوی کو یاد کرکے خود قابو میں رکھیں کیونکہ بقول اقبال کیفی؎

امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی                                                            جب تلک ظلم و ستم موجود ہے

 

 

 

 

You might also like