Baseerat Online News Portal

ہاتھرس سانحہ: پولس کانیاانکشاف،ہاتھرس کی آڑمیں نسلی فسادات بھڑکانے کی تھی سازش 

 

 لکھنؤ، 5 اکتوبر (بی این ایس )

ہاتھرس میں ایک دلت خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور موت کے واقعہ کے بعد یوپی میں نسلی فسادات بھڑکانے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے ۔ انٹیلی جنس کی رپورٹ کی بنیاد پر پولیس کا دعویٰ ہے کہ واقعہ کے بعد راتوں رات ایک ویب سائٹ ’جسٹس فار ہاتھرس ‘ بنائی گئی تھی۔ اس کے ذریعہ وزیر اعلی یوگی کے جھوٹے بیانات نشر کیے گئے ، تاکہ ماحول خراب ہو۔وہیں اتوار کی شب پولیس نے ویب سائٹ اور اس سے وابستہ مقامات پر چھاپہ مارا۔ لکھنؤ کے حضرت گنج کوتوالی میں بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں ریاست میں نسلی اور فرقہ وارانہ فساد پھیلانے ، افواہوں اور غلط اطلاعات کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ویب سائٹ پر اسکرین شاٹ میں بریکنگ نیوز لکھ کر وزیر اعلی کی تصویر کے ساتھ وزیراعلیٰ کا جعلی بیان جاری کیا گیا۔ یہ اسکرین شاٹس ہفتہ کے روز واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تیزی سے وائرل بھی ہوئے۔ اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ مبینہ طور پر پاپولر فرنٹ فار انڈیا (پی ایف آئی) سمیت کچھ دیگر تنظیمیں ریاست میں ماحول خراب کرنے کی مستقل سازشیں کررہی ہیں۔ اس معاملے میں اس کے کردار کی تفصیلی تحقیقات کی جارہی ہیں۔وہیں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ جنہیں ’ترقی ‘ پسند نہیں ، وہ ملک اور ریاست میں نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات اکسانے کے خواہاں ہیں ۔ دنگے کی آڑ میں سیاسی روٹیاں سینکنے کا موقع ملے گا ، لہٰذا وہ نئی نئی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔لکھنؤ کے ڈی سی پی سومن ورما نے بتایا کہ چوکی انچارج (نرہی) بھوپندر سنگھ کی شکایت پر حضرت گنج کوتوالی میں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔ سائبر سیل ٹیم کو بھی تفتیش  کیلئے کہہ دیا گیا ہے ۔  ویب سائٹ پر جس چینل کا اسکرین شاٹ شائع کیا گیا تھا اس کی بھی چھان بین کی جارہی ہے ۔ نیوز چینل نے اس کی تردید کردی ہے ۔ خیال رہے کہ فیس بک پر منایادو نامی ایک اکاؤنٹ سے وزیراعلیٰ کا جعلی بیان نشر کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کی تصویر بھی اس میں شامل کی گئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ سازش میں پی ایف آئی سمیت کچھ دیگر تنظیموں کے کردار کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔ متاثرہ کی زبان کاٹنے ، صورت مسخ کرنے اور اجتماعی عصمت دری سے متعلق تمام افواہوں کو پھیلا کر ریاست میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ وہیں یہ بھی غور طلب ہے کہ ایسی افواہوں کو پھیلانے کے لئے متعدد تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی استعمال کیے گئے تھے۔ تحقیقاتی ادارے تصدیق شدہ اکاؤنٹ کا ڈیٹا بھی مرتب کررہے ہیں ۔انسپکٹر (حضرت گنج) انجنی کمار پانڈے نے بتایا کہ منا یادو کے خلاف افواہ ، دھوکہ دہی ،نفارمیشن ٹکنالوجی ترمیمی ایکٹ ، کاپی رائٹ ایکٹ ، سی ایم کی تصویر کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ آئی ٹی ایکٹ جیسے دیگر دفعات کے متعلق مقدمہ درج کیا گیاہے۔

You might also like