Baseerat Online News Portal

ہاتھرس سانحہ: متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کیلئے سنجے سنگھ پر پھینکی گئی سیاہی

لکھنؤ ، 5 اکتوبر (بی این ایس )
یوپی کے ہاتھرس میں دلت خاتون کی عصمت دری اور ہلاکت کے بعد یوگی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر ہے۔گذشتہ ہفتے کے بعد سے راہل-پرینکا گاندھی اور پھر اتوار کے روز ، ایس پی ، آر ایل ڈی اور بھیم آرمی چیف چندر شیکھر راون نے متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ پیر کے روز عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی بی آئی کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ہونی چاہئے۔اسی دوران سنجے سنگھ صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے کہ ’ پی ایف آئی کے دلالوں گو بیک گو بیک ‘‘کے نعرے لگنے لگے اور نامعلوم شخص نے سنجے سنگھ پر سیاہی پھینک دیا ، سیاہی پھینکنے والے نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ عام آدخمی پارٹی کے کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ کام بی جے پی کے اشارے پر کیا گیا ہے ۔ ملزم نوجوان کا نام دیپک شرما بتایا جارہا ہے۔ آپ کے کارکنوں نے ہنگامہ شروع کیا ،تو پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کے استعمال سے دریغ نہ کیا ۔ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے ساتھ دہلی کے سماجی بہبود کے وزیر راجندر پال ، پنجاب کے قائد حزب اختلاف ہرپال چیمہ ، ایم ایل اے ریکھا برلا متأثرہ کے گاؤں پہنچے تھے۔ اس سے قبل پولیس نے گاؤں کے باہر سب کو روک دیا۔ اس پر آپ کے کارکنوں نے پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ پولیس کی لاٹھیوں سے عام آدمی کی آواز کو دبانے کی ایک اور کوشش کی گئی ہے۔ متأثرہ کے اہل خانہ خوف محسوس کر رہے۔ غم کی اس گھڑی میں ہم متأثرہ اہل خانہ ساتھ کھڑے ہیں۔ہاتھرس کیس کی سی بی آئی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں ہونی چاہئے۔ واقعہ کے بہانے یوپی میں فسادات کی سازش کے سوال پر رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ رکھنے والی بی جے پی دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے، یہ نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔ سنجے سنگھ نے ڈی ایم کا نارکو ٹیسٹ کروانے اور برخاست کرنے کا معاملہ اٹھایا ہے۔خیال رہے کہ پیر کے روز بول گڑھی گاؤں میں ہنگامہ آرائی کے معامہل میں بھیم آرمی چیف چندرشیکھر راون سمیت 500 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پیر کے روز بلند شہر میں چندر شیکھر نے کہا کہ ہا تھرس کے متاثرہ خاندان کی زندگی خطرے میں ہے۔ یوپی پولیس حکومت کے ایجنٹ کی طرح کام کر رہی ہے۔ چندر شیکھر نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو وائی کٹیگری کی سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا ہے، تو میں اسمبلی کا گھیراؤ کروں گا۔ اگر ہمارا خاندان خوف کے سائے میں رہتا ہے، تو پھر وزیر اعلی کو پر سکون نیند نہیں آنے دیا جائے گا۔

You might also like