Baseerat Online News Portal

شیوکمار کے خلاف سی بی آئی کی کاروائی بدلے کی سیاست : کانگریس

نئی دہلی، 5 اکتوبر (بی این ایس )
ریاست میں پیر کے روز ہونے والے ضمنی انتخاب سے قبل کانگریس نے مبینہ طور پر کرناٹک یونٹ کے صدر ڈی کے شیوکمار سے متعلق ایک بدعنوانی کے معاملے میں سی بی آئی کے ذریعہ متعددچھاپے کوسیاسی انتقام بتایا۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ تفتیشی ایجنسی کو وزیراعلیٰ بی ایس یدیورپا اور ان کے اہل خانہ کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کرنی چاہئے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک کے انچارج رندیپ سرجے والا نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی اس انتقامی کارروائی کے باوجود کانگریس لیڈران اور کارکنان کے سر نہیں جھکنے والے ہیں۔ کانگریس کی ترجمان سشمتا دیو نے یدیورپا کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور سوال کیا کہ یدیورپا اور ان کے کنبہ کی بدعنوانی کی تحقیقات کیوں نہیں کی جارہی ہیں۔ سرجے والا نے ٹویٹ کیاکہ مودی یدیورپا کی جوڑی کی طرف سے ڈی کے شیوکمار پر چھاپہ مار کر ڈرایاجارہا ہے، ہم سر جھکانے والے نہیں ہیں۔ سی بی آئی کو یدیورپا حکومت کی بدعنوانی کا بھی انکشاف کرنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت، یدیورپا حکومت اور بی جے پی کی پیشگی تنظیم سی بی آئی-ای ڈی-انکم ٹیکس کو معلوم ہے کہ کانگریس کے کارکن اورلیڈر اس طرح کی کوششوں کے سامنے جھک نہیں رہے ہیں،ہم لوگوں کے لئے لڑنے کا عزم مضبوط کریں گے۔ سشمتا نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ بی جے پی حزب اختلاف کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لئے بار بار تفتیشی ایجنسی کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ انتخابات سے قبل سی بی آئی کیوں چھاپے مارتی ہے؟ سی بی آئی کیوں انتخابات سے پہلے جاگتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ پوری کانگریس پارٹی ڈی کے شیوکمار کے ساتھ کھڑی ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بی ایس یدیورپا کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ ہٹایاجائے۔ ان کے اور کنبے کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

You might also like