Baseerat Online News Portal

بنیادی حقوق سے متعلق عرضی کے لیے پہلے کی مشق جاری رکھنے کی اجازت دینے کی اپیل

جموں5اکتوبر(بی این ایس )
سینئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چار مرتبہ سینئر ایکزیکیٹیو رکن رہ چکے پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججوں سے سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے ا س سے متعلق عرضی داخل کرنے کے قواعد میں فوری طورپر نرمی کرنے کے لئے نظرثانی کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ سپریم کورٹ میں کسی بھی بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق عرضی داخل کرنے میں آج کے تمام پیچیدہ قواعد سے بچا جاسکے۔ لندن یونیورسٹی سے ڈسٹنکشن کے ساتھ بیرسٹر ایٹ لا پروفیسر بھیم سنگھ ہندستان کے چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججوں سے درخواست کی کہ وہ ریاست یا ریاستی ایجنسیوں کے ذریعہ پامال ہونے والے بنیادی حقوق میں سے کسی کے نفاذ کے لئے درخواست گزاروں کے لئے شرائط/قواعد میں نرمی کریں۔پروفیسربھیم سنگھ نے ریاست جموں وکشمیر کے خلاف رٹ پٹیشن کی تیاری کے دوران ہوئے تجربہ بتاتے ہوئے کہاکہ انہیں پنتھرس پارٹی کے چار سیاسی کارکنوں ، جنہیں 25ستمبر 2020کو کٹھوعہ ضلع، جموں وکشمیر میں حراست میں لیا گیا تھا، کے بارے میں عرضی کی تیاری کے لئے چار سے زیادہ دوست اور قریبی وکلا کو شریک کرنا پڑا۔ یہ صرف ایک تکنیکی معاملہ تھا کہ ان سیاسی کارکنوں کو ممنوعہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ضلع کٹھوعہ کی سڑکوں پر ہتھکڑیاں ڈال کر حراست میں لیا گیا کیونکہ یہ لوگ حکمراں طبقہ کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔ سینئر وکیل نے کہاکہ چار دنوں کے بعد بھی ہندستان کے آئین کے آرٹیکل 32کے تحت عرضی تیار کرنے کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔چار دنوں کے بعد سپریم کورٹ کے دفتر کی ایڈمشن بنچ سے کئی اعتراضات آرہے ہیں اور ایک کے بعد ایک اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندستان کی عدالت عظمیٰ کے سامنے آرٹیکل 32کے تحت اس طرح کی عرضی دائر کرنے میں کچھ گھنٹوں کا وقت لگتا ہے لیکن اس میں چار دن وقت لگا اور اگر کسی کو اس کے لئے خرچ کرنا پڑے تو یہ بہت زیادہ ہے۔اس طرح کی قانونی مدد کی لاگت ہندستانی شہریوں کو بہت زیادہ متاثر کرے گی ۔اس کے علاوہ ٹیلی فون پر یا میل پیغامات کے ذریعہ چیکنگ کرنے والے لوگوں کو مطمئن کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔یہ بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے کا میل نظام اتنا آسان نہیں ہے اور بحث کرنے والے وکیل کے لیے بھی بھرم اورمایوسی پیدا کرتا ہے۔پروفیسربھیم سنگھ نے قانونی تنظیموں اور قانونی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل قواعد کے کازکواٹھائیں جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات کو دائر کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں نافذکیے جارہے نئے قواعد زیادہ پیچیدہ نہ ہوں۔

You might also like