Baseerat Online News Portal

نتیش کمارخصوصی ریاست کادرجہ بھول گئے،دلت کارڈمیں جدیومصروف

پٹنہ 5اکتوبر(بی این ایس )
نتیش کمارسمیت جے ڈی یولیڈراسٹیج پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی تقریر کے بعد تمام لیڈروں کی تقریر ہوئی۔ ہجوم کے شور کے درمیان ، نتیش بلند آواز میں کہتے ہیں ، 4 نومبرکایہ دن ہندوستان کے لیے تاریخی ہے۔ اسی دن ، 4 نومبر 1974 کوجے پرکاش نارائن اٹھے تھے اور وہ دن اس وقت کی مرکزی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا تھا۔ اس تاریخی دن پر بہار کے عوام پٹنہ میں جمع ہوئے ہیں تاکہ اپنے حقوق مانگیں۔ ریاست کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کے لیے بہارکے لوگوں نے یہ آواز اٹھائی ہے۔ بہار کے نوجوانوں کو اب کہیں اور جاکر گالیاں کھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب ہم توہین نہیں ہونے دیں گے۔ میں مرکزی حکومت سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب جامع ترقی کی بات ہو تو بہار کے 10،50 کروڑ افراد کو چھوڑ کر ترقی کا کون سا ماڈل بننا چاہتا ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ ایس سی-ایس ٹی فیملی کے کسی فرد کے قتل کی صورت میں ، مقتول کے کنبہ کے ایک ممبر کو ملازمت فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے۔اس کے لییفوری اصول بنائے جائیں ، تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد سے جلد فائدہ مل سکے۔بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ان دونوں بیانات کے درمیان 7 سال 11 ماہ کا فرق ہے۔ وزیراعلیٰ آج بھی وہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت وہ ترقی کی بات کررہے تھے، ریاست کے لیے خصوصی درجہ کامطالبہ کررہے تھے اور آج اچانک دلت کارڈ کھیلنا شروع کردیا۔چیف منسٹر جوبہار کے خصوصی درجے کے معاملے پر مرکزسے مطالبہ کرتے تھے،بہار کی ترقی کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے تھے ، ٹھیک سال 11 ماہ بعد ، اپنی تیسری مدت کے آخری دنوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل دلت کارڈکھیلنا شروع کیا۔ کیایہ مان لیں کہ نتیش کمار کو اب اپنے ترقیاتی معاملات پر اعتماد نہیں ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی ہے کہ 7 سال 11 ماہ قبل جب وزیراعلیٰ نے بہارکے لیے خصوصی ریاستی حیثیت کا مطالبہ کیا تومرکز میں کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت تھی۔ جبکہ آج کل بی جے پی کی مرکزمیں واضح اکثریت والی حکومت ہے ، اور ریاست میں وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہیں۔ مطلب یہ واضح ہے کہ آج مرکز اور ریاست دونوں میں ان کی اپنی حکومتیں ہیں۔ پھر خصوصی ریاست کی بجائے دلت کارڈ کھیلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

You might also like