Baseerat Online News Portal

کانگریس پارٹی سے جالے سیٹ سے پسماندہ برادری کے امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارنےکی مانگ آزادی سے لیکر اب تک اس برادری کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں نظر انداز کیا گیا، شمیم احمد راعین

کانگریس پارٹی سے جالے سیٹ سے پسماندہ برادری کے امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارنےکی مانگ
آزادی سے لیکر اب تک اس برادری کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں نظر انداز کیا گیا، شمیم احمد راعین

رفیع ساگر /بی این ایس
جالے۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کو لیکر ٹکٹ تقسیم ہونا شروع ہوچکا ہے اور علاقائیت اور ذات-پات کی بنیاد پر پارٹیاں اپنےاپنے امیدوار بھی واضح کردئے ہیں یہی وجہ ہیکہ جالے اسمبلی حلقہ میں مسلم اکثریت آبادی ہونے کے سبب اس مرتبہ آبادی کے تناسب سے کسی پسماندہ برادری کے مسلم امیدوار کو نمائندگی کرنے کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ شمیم احمد راعین نے کہا کہ آجکل کی سیاست ذات-پات و خاندان سے شروع ہو کر نہ صرف اسی پر ختم ہوتی ہے بلکہ مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حلقہ میں ایسے ہی امیدواروں کو ٹکٹ دے کر آگے بڑھانے کی پیش کش کرتی ہے یہی نہیں بہار جیسے پسماندہ ریاست میں ابھی بھی لوگ ترقی کو کم لیکن علاقائی امیدوار کو زیادہ پسند کرتے ہیں نتیجتا ایسے ہی امیدوار آگے نکلتے آرہے ہیں اور مخصوص اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔مسٹر شمیم احمد نے کہا کہ جہاں تک جالے اسمبلی حلقہ کا تعلق ہے کئی برسوں سے یہاں کے عوام کو مسلم قائد کی تلاش رہی ہے لیکن ادھر کئی سالوں سے کسی بھی پارٹیوں کے ذریعہ اس پر پہل نہیں ہو سکی ہے اسلئے اس مرتبہ سیکولر اتحاد کی طرف سے مسلم امیدوار کو میدان میں اتارنے کیلئے لوگ اپنے اپنے سطح سے تگ و دو کررہے ہیں اب دیکھنا ہے کہ سیکولر کا دم بھرنے والی پارٹی آگے کیا کرنے جارہی ہے کیونکہ جس طرح سے عوام میں ناراضگی ہے کہ اگر عظیم اتحاد کی جانب سے جالے کیلئے کسی مسلم لیڈر خاص کر پسماندہ برادری کو ٹکٹ نہیں ملا تو پھر یہاں کے عوام دوسرے متبادل آپشن تلاش کر مسلم امیدوار کو میدان میں لاکر نہ صرف اپنی ناراضگی ظاہر کرے گی بلکہ بھرپور تعاون کے ساتھ مخالف پارٹی کو شکست دےگی کیونکہ اب مسلمانوں کو اپنے وجود کی تحفظ کیلئے مسلم نمائندہ کو آگے لانا ہوگا جو ایوان میں جاکر مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرینگے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک گیر سطح پر متعصب پارٹیوں کے ذریعہ مسلم نمائندگی کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اگر اب مسلمانوں کو موقع نہیں دیا گیا تو آئندہ کچھ سالوں کے بعد مسلمانوں کے حقوق کیلئے ایوان میں کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں رہیگا اسلئے جو بھی اقلیتی آبادی والا حلقہ ہے وہاں سے کم ازکم اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کیلئے اقلیتی امیدوار کھڑے کی جانی چاہئے۔ایڈوکیٹ شمیم احمد نے عظیم اتحاد کے پیروکار سے جالے اسمبلی حلقہ کیلئے اقلیت طبقہ کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پسماندہ برادری کے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ جالے کو نہ صرف ترقی کی راہ پر لائے بلکہ اس کی تصویر بدل دے۔انہوں نے کہا کہ جالے سیٹ کانگریس کی جھولی میں آئے گا ایسے میں اس پارٹی کو چاہئے کہ وہ پسماندہ برادری کو ٹکٹ دے۔انہوں نے کہا کہ

آزادی کے بعد سے اب تک اس حلقے سے کانگریس پارٹی نے پسماندہ مسلمانوں جیسے راعین ، (کجڑا) ، انصاری ، منصوری ، دھوبی ، حجام ، نٹ ، بخو ، فقیر ، رنگریز وغیرہ کو قانون ساز اسمبلی میں امیدوار کے طور پر پیش نہیں کیا ہے جس سے دھوکہ دہی کا احساس ہورہا ہے جبکہ 1 لاکھ 21 ہزار مسلمان ووٹرز میں 80 ہزار سے زائد پسماندہ برادری کے ووٹرس شامل ہیں اس لئے اس بار پسماندہ برادری کو موقع ملنا چاہئے ۔

 

You might also like