Baseerat Online News Portal

جالے کومسلم امیدوار نہیں ملا تو نتیجہ مایوس کن ہوگا ۔۔۔۔۔۔ ، سیاسی ماہرین نے عظیم اتحاد سے کیا مسلم لیڈر کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ

جالے ۔6/ اکتوبر ( پریس ریلیز )

بھلے ہی اسمبلی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لئے ابھی سیاسی پارٹیوں نے اپنے امیدواروں کے نام کا اعلان نہ کیا ہو مگر اپنی پہلی فہرست میں عظیم اتحاد نے جس طرح مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ان کے سیاسی وجود کو مٹانے کی پالیسی کو عملی شکل دی ہے اس سے جالے کا سیاسی ماحول نہ صرف اس وقت پوری طرح گرما یا ہوا ہے بلکہ یہاں کے سیاسی مزاج پر مسلم امیدواری کا مدعا بھی پوری قوت کے ساتھ بحث وتبصرے کا موضوع بن گیا ہے،اور یہاں کے مسلم طبقہ کا صاف طور پر ماننا ہےکہ اگر سیکولر اتحاد نے اس مرتبہ یہاں کے مسلمانوں کو امیدواری سے محروم رکھا تو اسے اس کی قیمت شکست کی شکل میں چکانی پڑ سکتی ہے،کیونکہ جالے اسمبلی حلقے پر ماضی میں مسلمانوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک ہوتا رہا ہے اس کھیل کو اب کسی بھی صورت آگے بڑھنے نہیں دیا جا سکتا اس لئےکہ اب معاملہ صرف سیاست کا نہیں اپنے حقوق کے تحفظ کا بھی ہے،یہاں کی مسلم برادری کو یہ بات بھی ستا رہی ہے کہ اگر اسی طرح یہاں انہیں دوہری پالیسی کے شکار بنایا جاتا رہا تو ہماری آئندہ نسلوں کے لئے یہ زمین تنگ کر دی جائے،یہاں کے زیادہ تر لوگ یہ بھی مانتے ہیں ہے کہ ہر کسی کو ساتھ لے کر چلنے اور سماج کے ہر طبقے کو ترقی کی رفتار میں شامل رکھنے کے سارے دعوے اب بے حیثیت ہو چکے ہیں اور عظیم اتحاد کی جماعتوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں مسلمانوں کا ووٹ تو بٹورنے کا حق ہے مگر ان کے نزدیک اس طبقہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے،اب آنے والے وقت میں یہ معاملہ کس طرح حل ہو پائے گا اس پر بات کریں گے بعد میں لیکن سر دست سیاسی حلقوں سے جو بات نکل کر آرہی ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ ہر حال میں یہاں کے لوگ جالے سے مسلم امیدوار ہی چاہتے ہیں،اگر اس مطالبے کو مان لیا جاتا ہے تو شاید اس حلقے کا نتیجہ پہلے سے بہت مختلف ہو لیکن اگر ان کے مطالبے سے روگردانی اختیار کر کے انہیں مایوس کیا گیا تو حالات کے اشاروں سے لگتا ہے کہ اس صورت میں وہ کسی مضبوط متبادل پر غور کر کے اپنی اجتماعی طاقت کا احساس دلائیں گے،ویسے بھی اگر غور کر کے دیکھیں تو پچھلے کچھ دنوں میں جالے کے سیاسی حالات نے کئی کروٹ لئے ہیں،لیکن یہاں سے مسلم امیدوار کی مانگ کو لے کر سڑکوں پر اور گلیوں میں جو مہم چل رہی ہے کم از کم ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ سامنے آتا دکھائی نہیں دے رہا ہے،ایک طرف جہاں مقامی لیڈران اپنی مانگ پر اٹل ہیں وہیں عظیم اتحاد میں شامل پارٹیوں کی خاموشی اور مبہم اشاروں نے عوامی حلقہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بھلے ہی عظیم اتحاد ہمارے مسئلے پر خاموش ہو مگر ہم چپ نہیں بیٹھیں گے کیونکہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے وقار واعتبار سے جڑا ہوا ہے اور ہم اس بار کسی کے دھوکے میں آنے والے نہیں ہیں،بتادیں کہ ابھی جالے سے مسلم امیدوار کا مسئلہ صاف تو نہیں ہوا ہے مگر امیدواری کا دعوی کرنے والے لیڈروں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو پچھلے پچیس سالوں سے وہ حقوق نہیں ملے جس کے وہ حقدار تھے،اس لمبے عرصے میں ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی بجائے ہمیں وعدوں میں الجھا کر رکھا گیا،جب بھی ہم نے اپنے مشن کے مطابق نمائندوں کے دروازوں پر دستک دی ہمیں نظر انداز کر دیا گیا،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جالے اسمبلی حلقہ کا مسلم طبقہ عجیب وغریب قسم کی بحرانی کے دور سے گزر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ مسلمان صرف ووٹ بینک یا راہ کا پتھر نہیں کہ اس کا اپنے اپنے مفادات کے تحت استعمال کیا جائے اس لئے ہم اس معاملے میں اعلی کمان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ جالے سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دے اس لئے کہ اس سیٹ پر ہمارا بنیادی حق ہے ہم نے نہ صرف یہاں سے کئی مرتبہ جیت حاصل کی ہے بلکہ کئی بار ہم مقابلے میں بھی رہے ہیں،یہی سب وجوہات ہیں جن کی وجہ سے سیاسی گلیاریوں میں کانگریس سے جالے کو مسلم امیدوار دینے کا معاملہ بھی اب دھیرے دھیرے دلچسپ رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اور حالات کے اشارے بتا رہے ہیں کہ اگر کانگریس اعلی کمان کی توجہ عوامی رائے پر نہیں گئی اور اس نے مسلمانوں کے مطالبے کو تسلیم نہ کیا تو نتیجہ امید کے برخلاف بھی ہو سکتا ہے،کیونکہ یہاں کی سیاسی تصویر ہمیں یہ بھولنے کی اجازت نہیں دیتی کہ جالے اسمبلی حلقے پر مسلمانوں کی دعوے داری ہر دور میں مضبوط رہی ہے۔

You might also like