Baseerat Online News Portal

رکسول کے مستقبل کے لئے عوام کی سوچ میں بدلاو ضروی ۔۔۔۔۔، ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول میں سیاسی شہ مات کے لئے لیڈران تیار

رکسول ۔6/( محمد سیف اللہ)

یہ الگ بات ہے کہ ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول کے لئے کسی بھی پارٹی نے باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے؛ لیکن مختلف ذرائع سے جو خبریں آنی شروع ہوئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ابھی سے ہی نہ صرف منصوبہ بندی ہونے لگی ہے بلکہ رکسول کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا یہ سوال بھی اب عوامی حلقے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے،کہنے کو تو تمام ہی امیدوار رکسول کی ترقی کے حوالے سے بڑے بڑے وعدے کر رہے ہیں اور یہاں کی عوام کو دن میں ہی چاند دکھانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن سچ پوچھئے تو ابھی تک کسی بھی امیدوار نے عوام کو یہ نہیں بتایا ہے کہ آخر رکسول کی بگڑتی صورت حال کی اصلاح کے لئے ان کے پاس جادوئی نسخہ کیا ہے اور وہ کون سا فارمولہ ہے جس کی بنیاد پر وہ عوام کو اپنے اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے چونکہ یہاں کی زمینی سچائیاں صاف طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام تر دعوے کے باوجود پچھلے کچھ سالوں میں سوائے چند گنی چنی سڑکوں کی اصلاح کے اور ایسا کچھ نہیں بدلا ہے جسے عوام اپنے لئے اطمیان بخش قرار دے سکیں،بات چاہے جس شعبے کی کریں ہر جگہ مایوسی آپ کو عوام کا پیچھا کرتی نظر آئے گی،لاک ڈاون کا دور جھیل چکے لوگ کس طرح خود کو اس بحرانی کیفیت سے نکال پائیں گے یہ بھی ابھی تک ایک سوال بنا ہوا ہے،جن لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں اور جن لوگوں نے اپنے کاروبار کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتا دیکھا ان کا آنے والے دنوں میں کیا ہوگا،کسان کیسے خود کو سنبھال سکیں گے یہ بھی سوالیہ نشان کے دائرے میں ہے،سرحدی علاقے میں جاری اسمگلنگ پر کیسے قابو پایا جائے گا اور جرائم سے رکسول کو نجات دلانے کی کیا صورت سامنے لائی جائے ان سب پر بحث جاری ہے،غرض یہ کہ ان سب مسائل کے سائے میں جی رہے لوگ کس پر اور کیسے اعتبار کرییں یہ ابھی تک یہاں کے زیادہ تر لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے،لیکن ان سب کے بیچ جس طرح کی سیاسی اتھل پتھل ہے اور امیدواروں کی ٹیم جس ڈھٹائی کے ساتھ گاوں گاوں کا دورہ کرکے عوام کو سبزباغ دکھارہی ہیں وہ بھی کافی دلچسپ ہیں،جو نمائندہ پچھلے بیس سالوں سے رکسول کو کوئی شناخت نہیں دلا سکا وہ بھی عوام کا سامنا کرنے اور اپنے لئے ماحول بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہا ہے،بس یہ سمجھ لیجئے کہ سیاست کا کھیل ہے جو اپنے پرانے انداز میں کھیلا جا رہا اور عوام خاموش تماشائی بنی سارے اتار چڑھاو کو دیکھ رہی ہے،بس ان کا سپنا اچھے لیڈر کے انتخاب اور رکسول کی قابل اطمیان ترقی تو ہے لیکن ان کے خواب کی تعبیر میں جو چیز بڑی رکاوٹ ہے وہ یہاں کی مفاد پرستانہ سیاست ہے جس نے پہلے بھی یہاں کے لوگوں کے جذبات کا خون کیا ہے اور پرانا شکاری نئے جال لے کر ایک بار بھر ان کا شکار کرنے کے لئے تیار ہے اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ ہمیشہ کی طرح یہاں کے لوگ جذبات اور نعروں میں گم ہوکر کوئی قدم اٹھاتے ہیں یا اپنی نئی نسل کے بہتر مستقبل کی امید انہیں سنجیدہ فیصلہ لینے پر مجبور کرتی ہے ۔

You might also like