Baseerat Online News Portal

طنز ودشنام کو کہتے ہو لطیفہ سمجھیں!

عبداللہ ممتاز

ہنسی مذاق اور تفریح طبع انسانی فطرت ہے، اس سے طبیعت میں ایک قسم کی بشاشت اور خوشی محسوس ہوتی ہے، اس لیے شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اس کو جائز قرار دیا ہے؛ بل کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے عملی طور پر مختلف مواقع سے ہنسی مزاح اور دل لگی میں حصہ بھی لیا ہے(کتب احادیث میں اس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں، محدثین نے باضابطہ”باب ما جاء فی المزاح” کے عناوین قائم کیے ہیں) چوں کہ اسلام ایک فطری مذہب ہے اس لیے وہ ہمیشہ فطری تقاضوں کو ملحوظ رکھتا ہے؛ لیکن ساتھ ہی وہ ایک معتدل ومتوازن مذہب بھی ہے، اس لیے اس کے ہر حکم میں اعتدال ہوا کرتا ہے، وہ نہ تو بالکل خشکی اختیار کرلینے اور دنیا کی لذتوں کو یکسر ترک کر دینے کی ترغیب دیتا ہے اور نہ ہی انسانی خواہشات کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیتا ہے کہ جیسے چاہے زندگی گزارے اور عیش کوشی ولذت چشی میں حیوانی حدود کو بھی پار کر جائے؛ چناں چہ ہنسی مزاح کے لیے بھی شریعت اسلامیہ نے حدود و قیود کی تعیین کی ہے، مثلاً یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*شعائر اسلام کا مذاق نہ اڑایا جائے:* کیوں کہ اس بارے میں اللہ رب العزت کا واضح ارشاد ہے ”وَلَئِنْ سَأَلْتَھُمْ لَیَقُوْلَنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِا اللّٰہٰ وَاٰیَاتِہِ وَرَسُوْلِہَ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِؤُنَ لَا تَعَتَذِرُوْا الْیَوْمَ قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ (التوبۃ : 65-66) “اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ ضرور کہیں گے ، ہم تو صرف دل لگی اور کھیل کرتے ہیں ، آپ کہہ دیں :کیا تم اللہ اور اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ؟ بہانے نہ بناؤ ، تم تو اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے” ۔
جیسا کہ آج کل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو استخفاف اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، داڑھی ، پردہ اور ٹخنے سے نیچے پائجامہ پہنے والے کا استہزاء کیا جاتا ہے ، اس سے بچنا چاہئے کہ معاذاللہ کہیں ہمارا شمار اللہ کے نزدیک کافروں میں نہ ہوجائے ۔
*مذاق میں بھی جھوٹ سے احتراز کیا جائے :*
مذاق کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذاق میں جھوٹ بھی کہنا جائز ہے ،ہمارے معاشرہ میں مذاق میں جھوٹ کہنے کا بہت رواج ہے، مثلاً: کسی کے گرنے پر کہتے ہیں: “تمہارے پیسے گر گئے” تاکہ وہ چونک کر جلد ادھر اُدھر کی تلاشی لے، حالانکہ اس کے پیسے گرے نہیں ہوتے یا کسی کی آمد کا انتظار ہو تو اچانک یوں ہی مزاحاً کہہ اٹھیں کہ : فلاں صاحب آگئے حالانکہ کوئی آیاہوا نہیں ہوتا. نئی تہذیب نے اس قسم کے مذاق کو ”اپریل فول ”کا نام دے دیا ہے کہ اپریل کی پہلی تاریخ کو مزاحاً جھوٹ کہنے کو جائز کہا جاتا ہے ؛ حالانکہ مزاحاً جھوٹ کہنے پر بھی حضور علیہ السلام نے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں: وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ .” اس کے لئے بربادی ہے جولوگوں کوہنسانے کے لئے جھوٹ بولے، اس کے لئے تباہی ہو، اس کے لئے تباہی ہو”
(ابوداؤد: باب من یأخذ الشیٔ من مزاحٍ ، حدیث : ۵۰۰۳)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اس شخص کے لئے جنت کے درمیان ایک گھر کی ضمانت لیتا ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ کو ترک کردے ، ”أنا زعیم ببیت فی وسط الجنّۃ لمن ترک الکذب ان کان مازحاً ”(شعب الایمان : فصل فی المزاح : حدیث : ۵۲۴۳)
اسی مزاح/مذاق کے متعلق جب نبیٔ کریم علیہ السلام سے حضراتِ صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ بھی ہم سے مزاح فرماتے ہیں، آپ نے فرمایا : میں مزاح اور مذاق کرتا بھی ہوں تو حق ہی کہتا ہوں ”انّی لاأقول الّا حقّاً ”(ترمذی : باب المزاح : حدیث : ۱۹۹۰)
*کوئی قوم/شخص کسی قوم/شخص کا مذاق نہ اڑائے.* خالق کائنات نے ہر شخص کو الگ الگ مزاج و مذاق کا حامل بنایا ہے، جہاں ہر انسان کے اندر بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں وہیں بحیثیت بشر ہر ایک کے اندر کچھ کم زور پہلو بھی ہوا کرتے ہیں، بعض لوگ ان کی اس کمزوری کو موضوعِ بحث بنائے رہتے ہیں اور ان کا تمسخر کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مومن کامل ہو، اللہ عز وجل اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ دوسرے کا ٹھٹا اور مذاق کر ہی نہیں سکتا ، کیوں کہ دراصل کسی کا مذاق اڑانے اور اس کو حقارت آمیز الفاظ سے ملقب کرنے کے پسِ پردہ کبر وغرور اور اپنی بڑائی وعظمت کا احساس مخفی ہوا کرتا ہے اور یہ در حقیقت اللہ عزوجل کے یہاں بڑائی وعظمت کے پیمانوں سے ناواقفیت اور جہالت کا نتیجہ ہے؛ چناں چہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو نصیحت کرتے ہوے فرمایا ہے: “لا يَسخَر قومٌ مِن قومٍ عَسَیٰ أَنْ یَکُوْنُوْا خَیْراً مِنْھُمْ وَلَا نِسَائٌ مِنْ نِسَائٍ عَسَیٰ أَنْ یَکُنَّ خَیْراً مِنْھُنَّ” (الحجرات/11) “ایک گروہ دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں کیا عجب کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب کہ وہ ان سے بہتر ہوں” لہذا دوستوں میں آپسی دل لگی اور ہنسی مذاق تو درست ہے؛ لیکن کسی خاص قوم یا پیشہ سے تعلق رکھنے والوں کا مذاق اڑانا بالکل درست نہیں ہے، خواہ اس قوم/شخص سے ہماری دشمنی ہی کیوں نہ ہو، اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے ” وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا”(المائدہ:8) “کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل کام پر آمادہ نہ کر دے”۔
*بدزبانی، غیبت، ڈرانے اور مذاق کو عادت بنانے سے مکمل پرہیز کیا جائے:*
ہنسی مذاق میں کسی کو گالی دینا، بدزبانی کرنا یا اس کے بارے میں بدکلامی کرنا یہ بھی قطعاً درست نہیں، ارشاد باری ہے :‏ ‏والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانًا وإثما مبينًا‏. ‏(‏الأحزاب‏:‏ 58‏)‏‏.‏
اورجو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچائیں بغیر کسی جرم کے تو وہ درحقیقت (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں.
اسی مضمون کو حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے “‏سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر‏”‏ ‏(‏متفق عليه‏)‏‏.
ایمان والے سے بدزبانی فسق ہے اور اس کو ناحق قتل کرنا کفر ہے۔
مذاق اس حد تک نہ ہو کہ اس میں کسی کی غیبت اور چغلی کی جائے، بل کہ اس طرح کے موقعوں پر ہمیشہ آیت قرآنی (لا یغتب بعضکم بعضا، تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، الحجرات:12) کو ملحوظ رکھا جائے، لوگ غیبت پر بھی مذاق کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیبت کی تعریف ہی یوں فرمائی کہ : تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز سے کرو کہ اس کو برا لگے ”ذکرک اخاک بما یکرہ ”(مسلم :2589)
مذاق میں کسی کو خوف زدہ کردینا، اس کو اچانک پریشان کردینا ،یااس کو گھبراہٹ میں مبتلا کردینا اس طرح کہ اس کی کوئی چیز چھپادیں ، یا کسی کو غفلت کی حالت میں ڈرا دیں، یہ بھی غلط عادت ہے، آپ نے اس قسم کے مذاق کو جس سے کسی مومن کو تکلیف ہو، سختی سے منع فرمایا ہے، ”لا تمار أخاک ولا تمازحہ وتعدہ موعداً فتخلفہ ”(ترمذی : باب ما جاء فی المراء : حدیث : ۱۹۹۵) اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور نہ اس سے (ایسا ) مذاق کرو (جس سے اس کو تکلیف پہنچے ) اور نہ (حقیقت یا مذاق میں) ایسا وعدہ کرو جسے پورا نہ کرسکو۔
ایک روایت میں ہے ”لا یحلّ لرجلٍ أن یروّع مسلما” کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو خوف زدہ کردے ( مجمع الزوائد : باب فیمن اخاف مسلماً. حدیث: ۱۰۵۲۹)
اسی طرح مذاق کے جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو عادت بنا لیا جائے، ہر وقت مذاق کیا جائے، ہر کس وناکس کے ساتھ اس کے رتبہ اور حیثیت کا پتہ لگائے بغیر مذاق کرنا شروع کردیا جائے کیوں کہ اس کی وجہ سے آدمی کا وقار اور اس کا رعب و دبدبہ چلا جاتا ہے اور لوگ اس پر جری ہوجاتے ہیں اور یہ عموماً ایذا رسانی کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے کینہ بغض اور حسد جیسے خبیث امراض طرفین میں پیدا ہوجاتے ہیں اور دل بے حسی وپژمردگی کا شکار ہوجاتا ہے، یہ ایک معاشرتی تجربہ اور سماجی سچائی ہے، اسی حقیقت کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ”من کثر مزاحہ استخف بہ ” جوشخص بکثرت مزاح ومذاق کرتاہے تو وہ بے حقیقت اور بے حیثیت ہوجاتا ہے اور جو شخص جس چیز سے بکثرت شغل رکھتا ہے وہ اسی سے جانا جاتا ہے” (شعب الایمان : فصل فی المزا ح: ۵۲۴۶)

*مگر یہ مذاق تو نہیں ہے !*

یہ ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا معاشرے میں جس برق رفتاری سے فروغ پا رہا ہے، اسی تیزی کے ساتھ ہنسی مذاق تفریح طبع سے آگے بڑھ کر فن اور آرٹ بنتا جارہاہے، فیس بک اور واٹساپ پر ہنسی مذاق اور دل لگی کے لیے ہزاروں گروپس بنے ہوے ہیں، پرسنل پر بھی روزانہ بکثرت مزاحیہ پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں.
جب سوشل میڈیا لوگوں میں اتنا فروغ نہیں پایا تھا، پرنٹ میڈیا کا دور تھا، لوگ اخبارات دیکھا کرتے تھے، تو اس میں بھی چٹکلوں کا کالم ہوا کرتا تھا، بعض ماہناموں اور رسائل میں بھی لطیفوں اور کومکس پر مشتمل مخصوص صفحات ہوا کرتے تھے، لوگ لطف اندوز ہونے کے لیے چٹکلوں اور لطیفوں پر مبنی کتاب/کتابچے خرید کر پڑھتے تھے، اس وقت زیادہ تر چٹکلے سکھ اور پٹھان قوم پر دیکھنے کو ملتے تھے. اب سوشل میڈیا کا دور ہے، زمانہ بدل چکا ہے، اب زیادہ تر لطیفے شوہر بیوی اور امام و مولوی پر بنتے ہیں.

کیا آپ اسے ایک اتفاق سمجھتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو آپ سو فیصد غلط ہیں، اس قسم کے چُٹکلے لبرلز، دین بیزار، ملحدین اور “نام نہاد دانشوران” گڑھتے اور شیر کرتے پھرتے ہیں.
بیوی سے انھیں چڑ ہے، وہی خاتون جب معشوقہ ہوتی تھی، تو اس پر غزلیں اور اشعار کہے جاتے تھے، اب وہ بیوی بن چکی ہے تو اس پر چٹکلے اور لطیفے کہے جاتے ہیں، یعنی مقصد واضح ہے کہ شادی سے پہلے تک انسان آزاد ہوتا ہے، کسی سے عشق لڑا لیا، کسی کے ساتھ ڈیٹ پر چلا گیا اور کسی کے ساتھ عیاشی کرلی، کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا؛ لیکن شادی کے بعد ان پر ایک بندش آجاتی ہے، اب بیوی کے علاوہ کسی دوسری کے ساتھ ڈیٹ پر نہیں جاسکتے، ان سے عشق نہیں لڑا سکتے اور مختلف خواتین کے ساتھ عیاشی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اس لیے انھیں بیوی سے نفرت ہے، بیویوں پر لطیفے بناتے ہیں، چٹکلوں کے ذریعہ معاشرہ میں انھیں ذلیل سے ذلیل تر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور لطیفوں کے ذریعہ گھر کے اندر تمام تر مفاسد کی جڑ بیوی کو بتایا جاتا ہے، یہ باور کرانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے کہ شادی کے بعد آدمی کسی کام کا نہیں رہ جاتا، شادی شدہ زندگی پریشان کن زندگی ہے، شادی کے بعد انسان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے، حالاں کہ اللہ تعالی نے بیوی کا مقصد ہی “لتسكنوا إليها” (تاکہ تم ان سے سکون پاؤ) بتایا ہے، شادی شدہ زندگی کا مطلب آپسی محبت ومودت فرمایا ہے “وجعل بينكم مودة ورحمة”، ظاہر ہے جہاں آپسی محبت ومودت ہوگی وہاں سکون ہوگا، شادی شدہ زندگی ایک صحیح العقل، سلیم الطبع اور شریف النفس آدمی کے لیے ہر اعتبار سے اللہ کی رحمت اور ذہنی وجسمانی سکون کا باعث ہے؛ لیکن چوں کہ تعدد ازدواج پر اعتراض کرنے والوں کو شادی شدہ زندگی اپنی آزاد مزاجی، لا تعداد خواتین کے ساتھ عیش کوشی ولذت چشی پر قدغن نظر آتا ہے اس لیے وہ بیویوں کا مذاق اڑا کر اور شادی شدہ زندگی کو پریشان کن باور کرا کر شادی کا مزاج کم سے کم اور اور آزادانہ عیاشی کا مزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں؛ چناں چہ فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے ہوں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ورکرز، تعلیمی اداروں کے ٹیچرز ہوں یا کسی اور شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ، دیر شادی کا عام مزاج ہوچلا ہے. بہرحال اسلام شادی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیتا ہے، بیوی کی عزت کرنے اور انھیں گھر کی مالکہ بناکر رکھنے کی ترغیب دیتا ہے.

اسی طرح آج کل ان نام نہاد دانشوروں اور دین بیزاروں کے چٹکلوں اور لطیفوں کا بڑا اور اصل ٹارگیٹ علماء وطلباء ہیں، انھیں احمق ترین بتانے، صدقہ، خیرات، زکاۃ اور چرم کے حوالے سے ان کا مذاق اڑا کر معاشرے میں ان کا امیج خراب کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی ان کا مقصد زندگی ہے.
مولویوں کے خلاف جوکس بنانے کا جو ٹرینڈ چل پڑا ہے اس میں ہم خود بھی انجانے طور پر شریک ہوتے ہیں، ہمارے پاس کوئی لطیفہ آتا ہے اور وہ خود ہمارے خلاف ہوتا ہے؛ لیکن اسے بھی ہم شیر کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے. ایک عالم نے لطیفہ بھیجا کہ “مدرسہ کے طالب علم کا کسی لڑکی سے عشق ہوجاتا ہے، لڑکی نے ایک بار رومانی انداز میں فرمائش کی کہ تمھیں جو مانگنا ہے مانگو، اس طالب علم نے شرماتے ہوے کہا کہ اپنے ابا سے کہنا امسال چرم قربانی میرے مدرسہ کو دیں” میں نے اس پر جب شیر کرنے والے کی تنبیہ کی تو کہتے ہیں ارے یہ تو بس ایک لطیفہ ہے! مذاق اڑانا مقصد تھوڑی ہے. یعنی ہم عقل وشعور سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. کچھ نادان تو ایسے لطیفے بھی شیر کرنے میں دریغ نہیں کرتے جس میں مذہب اسلام اور شعائر اسلام کا مذاق بنایا گیا ہو.

یاد رکھیے! پہلے جب پٹھان اور سکھ قوم کی حماقت پر مبنی چٹکلے بنتے تھے وہ بھی اتفاقی نہیں تھے اور اب جو مولویوں اور مدارس پر چٹکلے بنتے ہیں وہ بھی اتفاقی نہیں ہیں.
ان کے پیچھے پوری ایک فکر کار فرما تھی اور ہے، پٹھان اقوام عالم میں دلیر ترین قوم ہے، تاریخ اس پر شاہد ہے کہ جنھوں نے جنگ کے میدانوں میں اچھے اچھوں کے پاؤں اکھاڑے، روس کو ٹکڑوں میں بانٹ ڈالا اور امریکہ جن کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا، وہ قوم “پٹھان” ہی ہے. وہ سیدھی سادی، سچی پکی، بھولی بھالی، بہادر وجرات مند ایماندار قوم ہے، مختلف ذرائع سے شنید ہے کہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے پٹھان آج بھی اتنے سخی ہیں کہ اگر آپ کسی غریب پٹھان کے یہاں بھی مہمان بن جائیں تو وہ اپنی واحد بکری جو اس کا کل اثاثہ ہو اسے بھی قربان کردینے میں دریغ نہیں کرتے. اسی طرح سکھ بھی دنیا کی بہادر ترین قوم ہے، انھوں نے دو صدی قبل انگریزوں کو مظبوط ٹکڑ دی، وہ “سردار” کہے جاتے ہیں، ہمیشہ سے معیشت وتجارت میں نمایاں حیثیت رکھتے رہے ہیں.
در اصل بزدل قوم جب کسی سے شکست کھاتی ہے تو پینترے بدل بدل کر حملہ کرتی ہے، پٹھان سے جراَت وجواں مردی، ایمانداری وپانمردی میں اور سکھوں سے بہادری اور تجارت ومعیشت میں شکست کھائی تو پینترے بدل کر ان پر حملہ کیا گیا، انھیں بیوقوف ترین قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، لیکن دنیا نے دیکھا کہ اسی “بیوقوف قوم” کے ہاتھوں، جدید اسلحوں سے لیس دنیا کی سوپر پاور طاقت اور عالمی اتحادی فوج نیٹو ذلیل ہوئی، طاقت کے بوتے پر انھیں دنیا سے مٹادینے کا نشہ ختم ہوا اور آخر کار مذاکرات کے میز پر تنازعات کا تصفیہ عمل میں آیا.
اب فکری میدان میں علماء سے یہ بد دین، ملحدین اور لبرلز شکست کھا چکے ہیں اور کھا رہے ہیں تو پینترے بدل کر انھیں ٹارگیٹ کر رہے ہیں.
یاد رکھیے! ٹارگیٹ ایک میٹھا زہر ہوتا ہے جو دیر سے اثر کرتا ہے اور بہت خطرناک اثرکرتا ہے.

سوچیے! “ملا” کس قدر علمی وقار بھرا لفظ تھا، کبھی ملا حسن، ملا جامی، ملا محب اللہ، ملا جیون، ملا علی قاری ہوا کرتے تھے، جہادِ افغانستان کے وقت روسیوں نے اس لفظ کو اتنا بدنام کیا کہ آج “ملا” گالی بن چکی ہے. یہاں تک کہ ہمیں کوئی “ملا جی” کہے تو برا لگتا ہے جب کہ “جی” تعظیمی لفظ ہے. یعنی اس تعظیم کے اضافہ کے باوجود برا لگتا ہے، یعنی جس کی بنیاد افغانستان میں سو سال قبل رکھی گئی اس کا نتجہ سو سال بعد ہندوستان تک پہنچ گیا ہے.

اس لیے خدارا ان نفسیات کو سمجھیے! اور کچھ شیر کرنے سے پہلے ایک مرتبہ ضرور سوچیے کہ اس کا اثر سوسائٹی اور معاشرے پر کیا پڑنے والا ہے.

*خلاصۂ تحریر* یہ ہے کہ اسلام نے تفریحِ طبع، خوش مزاجی، انبساطِ قلب، زندگی کی یکسانیت اور طبیعت کی بوری و خشکی کو دور کرنے لئے مزاح ومذاق کی اجازت دی ہے، اس لیے خوش وقتی اور تفریحِ طبع کے لئے آپس میں کبھی کبھار سنجیدہ اور ظریفانہ کلمات ضرور کہے جائیں، اس طرح کی وقتی تفریح کے لئے لذت بخش مزاحیہ جملوں کے تبادلہ میں اسلام کوئی حرج نہیں سمجھتا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی میں اس قسم کے بے شمار پر لطف لمحات کی مثالیں ملتی ہیں جو ایک طرف جائز مزاح وظرافت کا نمونہ ہیں تو دوسری طرف صداقت، حکمت، دانائی، دلداری ودل بستگی کا خزینہ بھی ہیں، بس یہ خیال ہمیشہ پیش نظر رہے کہ مذاق کرنے میں کبھی سامنے والی کی تحقیر نہ ہو، اس کی آبروریزی نہ ہو، مذاق میں کسی طرح کی بے ہودگی اور بے حیائی کا کوئی رنگ نہ ہو، خلافِ واقعہ یا جھوٹی بات نہ کہی جائے، اس سے کسی کی عزتِ نفس پر چوٹ نہ پڑتی ہو، کسی کا وقار مجروح نہ ہوتا ہو ، اور کسی کو جانی، مالی یا نفسیاتی نقصان در پیش نہ ہوتا ہو۔

You might also like