Baseerat Online News Portal

کورونابحران کی وجہ سےدنیا میں ساڑھے 11 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں:عالمی بینک

آن لائن نیوزڈیسک
عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کو دیکھتے ہوئے عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا میں ساڑھے 11 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔کئی دہائیوں کی ترقی کے بعد یہ ایک انتہائی تباہ کن تنزلی ہے اور عالمی بینک کے پہلے لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اگست میں عالمی بینک نے بدترین صورتحال میں 10 کروڑ افراد کے خط غربت سے نیچے جانے کا اندازہ لگایا تھا۔
خبرساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگلے سال 2021 تک 15 کروڑ افراد انتہائی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہے ہوں گے، جن کی روزانہ آمدنی 1 ڈالر 90 سینٹ یا تقریباً140 ہندوستانی روپے ہوگی۔
عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘وبا اور عالمی کساد بازاری کے باعث دنیا کی 1؍اعشاریہ 4 فیصد آبادی انتہائی غربت تک پہنچ سکتی ہے۔
اپنی فلیگ شپ رپورٹ میں بینک کا کہنا تھا کہ اگر یہ وبا نہ آتی تو عالمی انتہائی غربت کی شرح 7؍اعشاریہ 9فیصد تک گرنے کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم اب یہ شرح 9؍اعشاریہ 4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
دنیا میں 40 فیصد سے زائد غریب افراد تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مرتبین کا کہنا ہے کہ وبا کی وجہ سے ان علاقوں میں ‘غربت کے ہاٹ سپاٹ بن سکتے ہیں جہاں پہلے ہی معاشی بحران اور تنازعات موجود ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انتہائی غربت میں رہنے والے کئی افراد شہری علاقوں میں رہتے ہیں اور وبا کی وجہ سے ان پروگراموں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جو دیہی علاقوں کی آبادیوں کی مدد کے لیے بنائے گئے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلی کے دباؤ کے ساتھ آنے والی وبا کووڈ 19 کی وجہ سے سنہ 2030 تک غربت مٹانے کا ہدف پورا ہونے کے بجائے پہنچ سے مزید دور ہوجائے گا، جب تک کہ فوری اور اہم اقدامات نہیں کیے جاتے۔
عالمی بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے عمل کو آگے بڑھانے اور ترقی کو متاثر ہونے سے روکنے کے لیے ممالک کو چاہیے کہ کورونا کے بعد کی دنیا میں معیشت کے نئے شعبوں پر توجہ دیں اور اس کے لیے مزدوروں، سرمائے اور صلاحیتوں کو نیارخ دیں۔

You might also like