Baseerat Online News Portal

فرضی ٹی آرپی کیس: وشال بھنڈاری سے کئی انکشاف، کئی فیملی ممبرس کا اعتراف : ’ری پبلک ٹی وی دیکھنے کیلئے ہر ماہ مقرر رقم دی جاتی تھی ‘

ممبئی ،9 اکتوبر (بی این ایس )
ری پبلک ٹی وی کی سچائی فرضی ٹی آر پی معاملہ میں سامنے آنے لگی ہے ۔ ممبئی پولیس کی تحقیقات میں ’ہنسا ریسرچ‘ کے سابق ملازم وشال بھنڈاری کی ڈائری سے کئی انکشافات ہوئے ہیں۔ اس کے ڈائری میں اہل خانہ کے کئی افراد کے نام درج ہیں۔جب پولیس نے ان خاندانوں سے پوچھ گچھ کی تو یہ بات سامنے آئی کہ ریپبلک ٹی وی دیکھنے کے لئے ہر مہینے ایک مقررہ رقم ادا کی جاتی تھی۔ممبئی پولیس کی انکوائری میں کئی فیملی کے ممبرس نے بتایا کہ وشال بھنڈاری کی جانب سے ہمیں ہر ماہ رپبلک ٹی وی دیکھنے کے لئے رقم دی جاتی تھی۔ ممبئی پولیس نے وشال بھنڈاری اور فیملی کے ممبروں کے مابین پیغامات کے تبادلے کا بھی انکشاف کیا ہے ۔ ری پبلک ٹی وی چینل کی ٹی آر پی ان ہی گھروں میں زیادہ پائی جاتی تھی ، جن کو وشال بھنڈاری رقم ادا کرتے تھے۔ جعلی ٹی آر پی کیس میں گرفتار وشال بھنڈاری ، بوم پلی راؤ ، نارائن شرما اور شریش شیٹی کو 13 اکتوبر تک پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ ممبئی پولیس ان چاروں سے پوچھ گچھ کرے گی۔تازہ اطلاع کے مطابق وشال بھنڈاری نومبر 2019 سے مئی 2020 تک اس سازش میں ملوث تھا۔ اس نے اپنے کام کا غلط استعمال کیا ، لہٰذا جب اس معاملے کی تفتیش شروع ہوئی تو اس سے نوکری چھوڑنے کو کہہ دیا گیا۔اسی کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ بوم پلی راؤ مستری وشال کے ساتھ رابطے میں تھے اور اس کام کے لئے مستری وشال کو 20000 روپے دے رہے تھے۔ انہوں نے وشال سے لوگوں کو باکس سنیما اور ’فقط مراٹھی‘ دیکھنے کے لئے کہیں ۔ وشال ہر گھر میں رشوت کی رقم ادا کرتا تھا ، لیکن وہ لوگوں کو صرف 400-500 روپے دیتا تھا اور باقی اپنے پاس رکھتا تھا۔راکی نامی ایک اور شخص بھی وشال کے ساتھ رابطے میں تھا، تاکہ وہ لوگوں کو پیسے کے عوض لوگوں سے ری پبلک ٹی وی دیکھنے کیلئے ترغیب دے سکے ، غور طلب ہے کہ یہ سارا گھوٹالہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ٹی آر پی میٹر کی مہاراشٹرا کی پوری فہرست بھنڈاری کے پاس ہے ، جس کو ’’ری کور‘‘ کرنا ابھی باقی ہے۔ کون سے چینلز نے اسے رقم دی ہے ، اس کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ اس کے لئے ملزم کا بینک اسٹیٹمنٹ لینا ہوگا۔وشال بھنڈاری نے ممبئی پولیس کو بتایا کہ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں ، لہٰذا اس نے اپنی کمپنی ’ہنسا ریسرچ ‘گروپ پرائیوٹ لمیٹڈ کو چھوڑ دیا ، جو بی اے آر سی کی معاون کمپنی ہے۔ پولیس نے ہنسا کمپنی سے بات کی، تو کمپنی نے اعتراف کیا کہ وشال ان کے لئے کام کرتا ہے۔اس معاملہ میں ’ہنسا ریسرچ ‘ نے خود ایک تفتیش کی تھی ، جس میں کنبہ کے پانچ افراد سے بات کی گئی تھی۔ اس میں چار نے انکار کردیا ، جبکہ ایک نے اعتراف کیا کہ اسے چینل دیکھنے کے عوض پیسے ملے تھے۔تفتیش کے دوران ایک گواہ نے بتایا کہ اس کے گھر پر ایک بیرومیٹر لگایا گیا تھا ، جس کے لئے اسے ہر ماہ 483 روپے مل رہے تھے۔ گواہ کے بیان کے مطابق جنوری 2020 میں ، ملزم وشال بھنڈاری اور دنیش وشوکرما میرے گھر آئے، بھنڈاری اور وشوکرما نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ری پبلک ٹی وی دیکھتا ہوں؟ میں نے اس سے کہا کہ نہیں ، مجھے ری پبلک ٹی وی پسند نہیں ہے۔ بھنڈاری اور وشوکرما نے کہا کہ اگر میں ر ی پبلک ٹی وی دیکھتا ہوں ، اور اس کا بیرو میٹر لگاتا ہوں تو اس کے لئے مجھے ہر ماہ 483 روپے ملیں گے۔غور طلب ہے کہ ری پبلک ٹی وی نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی بات کہی ہے ۔ان کے مطابق ممبئی پولیس چینل کے ذریعہ پال گھر اور سوشانت سنگھ کیس کی کوریج کے بدلے میں ایسے الزامات عائد کررہی ہے۔ چینل کے مطابق ’بارک‘ نے اپنی شکایت میں کہیں بھی ری پبلک ٹی وی کا نام نہیں لیا ہے۔

You might also like