Baseerat Online News Portal

امیدوار کے نام کا اعلان ہوتے ہی ڈھاکہ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ۔۔۔۔۔۔، آر جے ڈی سے فیصل رحمان کو دوبارہ موقع دیے جانے پر عوام میں خوشی کا ماحول

رکسول۔9/ اکتوبر ( محمد سیف اللہ)

بہار اسمبلی انتخاب کے لئے کچھ امیدوراوں کے نام کا اعلان ہوتے ہی چمپارن کی سیاست میں نہ صرف غیر معمولی اچھال آگیا ہے بلکہ موتیہاری ضلع کے ڈھاکہ اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے فیصل رحمان کو دوبارہ موقع دیئے جانے پر یہاں کے اقلتی طبقہ نے اظہار مسرت کے ساتھ یہ امید بھی جتائی ہے کہ فیصل رحمان پہلے کی طرح ایک بار پھر کامیاب ہوکر یہاں کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کریں گے،یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ کسی بھی انتخاب کے بعد منتخب ہونے والے نمائندوں کا کام اپنے اپنے علاقے کی ترقی وخوشحالی کے لئے کام کرنا ہوتا ہے،وہ عوام سے اسی کے نام پر ووٹ بھی مانگتے ہیں،انتخاب کے دنوں میں رنگ برنگے وعدے بھی کرتے ہیں،کسانوں کے گھر کا چکر کاٹتے اور غریبوں کے گھر کا کھانا کھاتے ہیں اور بس یہی نہیں بلکہ جن لوگوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہوتی ووٹ کی لالچ انہیں ان کا پاوں تک چھونے کے لئے مجبور کر دیتی ہے،لیکن ان سب کے باوجود زیادہ تر نمائندے موجودہ سیاست میں ایسے ہوتے ہیں کہ جیت کا سہرا پہنتے ہی عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو اپنی یاد داشت کی فہرست سے نکال کر پھینک دینا ان کی پہلی فکرمندی کا حصہ ہوجاتی ہے،اپنی جیت کے بعد وہ نہ صرف عوام سے کئے ہوئے وعدے بھلا دیتے ہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی فراموش کر دیا جاتا ہے جن کے سہارے ان کو اپنی منزل ملتی ہے،یہی وجہ ہے کہ علاقائی سطح پر بہار کے اندر آج تک کوئی ایسا سیاسی یا سماجی انقلاب نہیں آسکا جس کو مستقبل کے حوالے سے اطمینان بخش کہا جا سکے،لیکن اگر ذرا رک کر بہار کے سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑا کر دیکھیں اور ذمہ داری کے ساتھ حالات کا محاسبہ کریں تو یہاں کے نقشے میں چند گنے چنے ایسے لوگ بھی آپ کو مل جائیں گے جن کی سیاست اپنی یا اپنے پریوار تک محدود نہیں بلکہ انہوں اپنی جیت کو عوام کا احسان مان کر اپنے علاقے کی ترقی وخوشحالی کے حوالے سے وہ کام کئے جن کے سبب عوام نے انہیں زندگی کے سفر میں اپنا ہر دلعزیز بنائے رکھا،آپ کو بتادیں کہ موتیہاری ضلع کے ڈھاکہ اسمبلی حلقہ سے موجودہ ایم ایل فیصل رحمان کا شمار بھی ان ہی لوگوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے ان کے ذریعہ پیش کئے گئے رپورٹ کارڈ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں اپنے اسمبلی حلقہ کی عوام کے مطالبات کے مطابق نہ صرف یہاں کی سڑکوں کو خوبصورت بناکر اس کے جال بچھائے،بلکہ درجنوں پل پلیوں کی تعمیر کے علاوہ تعلیم وصحت کے محکمے میں بھی قابل رشک تبدیلیاں کر کے اس کے اندر نئی سہولیات پیدا کیں،انہوں نے سماج کے ہر طبقے کو یکساں حقوق فراہم کرانے کے لئے جہاں تمام تر سرکاری محکموں کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے عملی اقدام کئے وہیں اپنے علاقے کو جرائم سے دور رکھنے کی پالیسی پر بھی بڑی خوبصورتی کے ساتھ کام کیا،ساتھ ہی سلاب کی لعنت سے یہاں کی عوام کو بچائے رکھنے کے لئے بھی انہوں نے اپنے تئیں جو منصوبہ بندی کی اس کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حلقے میں کوئی بھی ترقیاتی کام ذات یا مذہب کو دیکھ کر نہیں کیا بلکہ ہر ایک کو اپنا سمجھا ان کے مفادات کے تحفظ کے لئے قدم بڑھائے،شاید ان کے ان ہی سب کارناموں کا اثر ہے کہ فیصل رحمان اس وقت ڈھاکہ اسمبلی حلقے سے وابستہ عوام کی پہلی پسند بنے ہوئے ہیں اور عوام انہیں ایک ایسے نمائندہ کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے جن کے اندر سماج کا درد اور علاقے کی ترقی وخوشحالی سے محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ بھرا ہوا ہے اور وہ اپنے اندر سماج کے لئے بہت کچھ کرنے کی امنگ رکھتے ہیں،حالانکہ انتخابی موسم میں کئی نئے پرانے چہرے بھی اس اسمبلی حلقے سے اپنی قسمت آزمانے کے لئے تیار ہیں، لیکن اگر بات عوام کے مزاج کی بنیاد پر کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہیں کہ عوام نے وقت سے پہلے ہی انہیں نکار کر ہر دل عزیز لیڈر فیصل رحمان پر اپنے اعتماد کی مہر لگا دی ہے کیونکہ ابھی یہاں کے لوگوں کو وہ وقت اچھی طرح یاد ہیں جب لاک ڈاون میں وہ در در بھٹک رہے تھے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا تب انہوں نے ہی مسیحا بن کر ان کی زندگی کو خوشحال بنائے رکھنے کی کوشش کی تھی اور سچ یہ بھی ہے کہ اگر انہوں نے ایسے حساس موقع پر لود کو عوام کے ساتھ کھڑا نہ رکھا ہوتا تو عوام تکلیف کے غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہوتی،کسان بل پر بھی انہوں نے کسانوں کے حق کی آواز نمائندہ ہونے کی حیثیت سے جس قوت کے ساتھ اٹھائی اس کو بھی یہاں کے لوگوں نے بے حد پسند کیا،بتادیں کہ فیصل رحمان کو لوگ اس لئے بے حد پسند کرتے ہیں ان کے اندر مذہبی تفریق کی کوئی بات نہیں پائی جاتی بلکہ وہ بس علاقے کی ترقی کے لئے سماج کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں،ان کی اسی توجہ اور ایمانداری فکر کا نتیجہ ہے کہ یہ اسمبلی حلقہ محض ان ہی وجہ اور خصوصی توجہ سے مسلسل ترقی کی طرف رواں دواں ہے۔

You might also like