Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

انٹرنیشنل ڈے آف گرل چائلڈ پر افسانہ نویسی اور شعری تخلیق پڑھنے کے مقابلہ کا اعلان
علی گڑھ، 10؍اکتوبر: اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل ڈے آف گرل چائلڈ ( 11؍اکتوبر) کی مناسبت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کا مرکز عالیہ برائے نسائی مطالعات (اے سی ڈبلیو ایس) مختلف موضوعات پر افسانے لکھنے اور شعری تخلیقات پڑھنے کے ایک بین الاقوامی مقابلہ کا اہتمام کررہا ہے۔
اس سال انٹرنیشنل ڈے آف گرل چائلڈ کا تھیم ہے: میری آواز، میرا مساوی مستقبل۔اسی مناسبت سے شعری تخلیقات کے لئے منتخب کئے گئے موضوعات ہیں: دَ ویمن آئی ایم، کراسنگ دَ باؤنڈریز، اور ’ڈریم، ریئلٹی اینڈ چینج۔ اسی طرح افسانے لکھنے کے موضوعات ہیں: اسٹینڈنگ ایٹ دَ کراس روڈ‘ اور ’اِف آئی ہیو ٹو رائٹ مائی وِل‘۔
مرکز عالیہ برائے نسائی مطالعات کی ڈائرکٹر پروفیسر عذرا موسوی نے بتایا کہ شعری تخلیقات پڑھنے کے خواہشمند امیدوار اسے ویڈیو کی شکل میں نظم کے متن کے ساتھ اور افسانہ نویسی مقابلہ میں شرکت کے خواہشمند امیدوار اپنا افسانہ گیارہ سے پندرہ اکتوبر 2020کے درمیان [email protected] ، اور [email protected] پر ارسال کریں۔
موصول ہونے والے افسانوں اور ویڈیو میں سب سے بہتر پانچ کو اے سی ڈبلیو ایس کی ویب سائٹ پر پیش کیا جائے گا اور مرکز کے مجلہ ’وِژن‘ میں بھی شائع کیا جائے گا۔ سبھی شرکاء کو ای سرٹیفیکٹ دئے جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
اسٹارٹ اپ اور انتریپرینئرشپ پر آن لائن ورکشاپ
علی گڑھ، 10؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)، ملاپورم سنٹر کے بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ میں ایم بی اے (سالِ آخر) کے طلبہ کے ذریعہ اسٹارٹ اپ اور انتریپرینئرشپ کے موضوع پر یک روزہ آن لائن ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا، جس میں اترپردیش، مغربی بنگال اور کیرالہ وغیرہ کے مختلف بزنس اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے ورچوئل طریقہ سے شرکت کی۔
اپنے صدارتی خطاب میں مسٹر شفیق الرحمٰن کے وی (کوآرڈنیٹر، بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ، ملاپورم) نے کہا کہ اختراع و جدت ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور طویل مدتی سوچ سے ہی اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
اسسٹنٹ پروفیسر مسٹر سید احمد سعد نے آئیڈیاز کی ابتدا اور نشو و نما پر گفتگو کرتے ہوئے جے آرڈی ٹاٹا، اسٹیو جابس، شہناز حسین، بھاویش اگروال اور وجے شیکھر شرما جیسے نامور صنعتکاروں کی کامیابی کے سفر کا ذکر کیا۔ مختلف مسائل کے حل کے لئے وجود میں آنے والے اسٹارٹ اپ کی ویڈیو پیش کرنے کے بعد انھوں نے طلبہ کے سوالوں کے جواب بھی دئے۔
اس سے قبل مسٹر محمد یاشک پی نے افتتاحی کلمات ادا کئے۔ بے نظیر عثمانی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا جب کہ عمیر اعظمی نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
ٹورزم اسٹوڈنٹس فیسٹیول 16-17 ؍اکتوبر کو
علی گڑھ، 10؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)، رضاکار تنظیم نیو ٹورزم فاؤنڈیشن (این ٹی ایف) کے اشتراک سے 16-17؍اکتوبر کو آن لائن ٹورزم اسٹوڈنٹس فیسٹیول منعقد کررہی ہے۔ اس کا مقصد تعلیمی اداروں، سیاحت صنعت اور طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔
فیکلٹی آف کامرس کے ڈین پروفیسر عمران سلیم نے بتایا کہ اے ایم یو میں ماسٹر آف ٹریول اینڈ ٹورزم مینجمنٹ کے پانچ طلبہ شاہ رخ، راہل چوہان، سبطِ صغریٰ، راگھو اروڑا اور آشیش سنگھ کو فیسٹیول کے لئے والنٹیئر بنایا گیا ہے۔
شعبۂ کامرس کے سربراہ پروفیسر نواب علی خاں نے کہا کہ فیسٹیول میں کمیونٹی اور پائیدار سیاحت، سیاحت میں ٹکنالوجی، صارفین کا برتاؤ، ایم آئی سی ای ٹورزم، سیاحتی صحافت، بلاگرزو فوٹوگرافرز، ٹورزم ریسرچ، اسپورٹس ٹورزم، ہیریٹج ٹورزم، برانڈ اِنکریڈیبل انڈیا، شہری ہوابازی اور دیگر متعلقہ موضوعات پر الگ الگ سیشن ہوں گے۔
فیسٹیول کوآرڈنیٹر پروفیسر شیبا حامد (کوآرڈنیٹر، ایم ٹی ٹی ایم ) نے بتایا کہ مقررین میں وزیر سیاحت ، سکریٹری (محکمۂ سیاحت) اور سیاحت صنعت سے وابستہ ماہرین شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کالج بینڈ، تھیئٹر، موسیقی وغیرہ کی پیشکش بھی ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭
شعبۂ نباتیات میں شجرکاری
علی گڑھ، 10؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ نباتیات کے احاطہ میں گاندھی جینتی کے موقع پر پودے لگائے گئے۔ صدر شعبہ پروفیسر نفیس احمد خاں نے کہاکہ بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ضروری ہے، جس سے ماحول بہتر اور آب و ہوا صاف و شفاف ہوتی ہے۔
پروفیسر انور شہزاد سمیت شعبہ کے سبھی اساتذہ نے شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔
٭٭٭٭٭٭
تعزیتی جلسہ کا انعقاد
علی گڑھ 10؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر اور یونیورسٹی کورٹ کے سابق ممبر ڈاکٹر شاہد قمر قاضی کا مختصر علالت کے بعد نئی دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ڈاکٹر قاضی کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میں مرحوم کے سوگوار لواحقین سے اظہار تعزیت کرنا چاہتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کو اس غم کو برداشت کرنے کی تو فیق عطا کرے۔ وائس چانسلر نے ڈاکٹر شاہد کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی۔
ڈاکٹر شاہد کے اہل خانہ میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔
اس کے علاوہ شعبۂ اردوکی جانب سے معروف ادیب ڈاکٹر فضل امام رضوی اور شعبہ کے سابق استاذ ڈاکٹر کوکب قدرکے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت صدر، شعبۂ اردو پروفیسر محمد علی جوہر اور صدارت پروفیسر سید محمد ہاشم نے کی ۔ اس موقع پر شعبہ کے سابق اساتذہ پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر مہتاب حیدر نقوی بھی موجود تھے ۔
پروفیسر محمد علی جوہر نے ڈاکٹر کوکب قدر کے ساتھ شریک ماضی کے لمحات کو یاد کیا اور اُن کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک فراخ دل اور شریف النفس انسان تھے۔
پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے ڈاکٹر فضل امام اور ڈاکٹر کوکب قدر کی علمی اور ادبی شخصیت کے بعض اہم پہلوئوں کو نشان زد کیا ۔ پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی نے ڈاکٹر کوکب قدر کی مختلف عادتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سادہ مزاج شخصیت کے مالک تھے۔
پروفیسر مہتاب حیدر نقوی نے ڈاکٹر فضل امام رضوی کی شخصیت اور ذاتی زندگی کے منفرد پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیدھے سادے، شریف اور زندہ دل انسان تھے۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے ڈاکٹر کوکب قدر کی بہت سی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی شخصیت کو اجاگر کیا۔
پروفیسر سید محمد ہاشم نے اپنے صدارتی کلمات میں فضل امام رضوی اور کوکب قدر کی علمی ،ادبی اور ذاتی زندگی کا مجموعی طور پر احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو دنیا کی دو عظیم ہستیوں کے رخصت ہوجانے پر شعبۂ اردو گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔
پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے فضل امام رضوی کی تعزیتی قرارداد پیش کی اور اشعار کی شکل میں ڈاکٹر کوکب قدر اور فضل امام رضوی کو خراج ِ عقیدت پیش کیا۔ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی ؔ نے ڈاکٹر کوکب قدر کی تعزیتی قرار داد پیش کی ۔
تعزیتی جلسے کے اختتام پر شعبہ کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے سوشل ڈسٹینسنگ کا خیال رکھتے ہوئے دومنٹ کی خاموشی اختیار کی اور دعائے مغفرت کی۔جلسے میںپروفیسر مولا بخش، ڈاکٹر راشد انور راشد ، ڈاکٹر سلطان احمد، ڈاکٹر محمد عمر رضا، ڈاکٹر معید الرحمن، ڈاکٹر عرفان احمد ، ڈاکٹر سرفرار انوروغیرہ نے شرکت کی۔

You might also like