Baseerat Online News Portal

دیش کے موجودہ حالات و میڈیا کاگرتا معیار..ایک لمحہء فکریہ.!

عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ ،پنجاب
چین کے ووہان سے شروع ہونے والا کوویڈ – 19 جس نے مارچ 2020 تک پوری دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنے شکنجے میں لے لیا تھا اور جسے لیکر پورا عالم تشویش میں تھا اور آج بھی ہے. تبھی تو دنیا کے بڑے ممالک اس کورونا وبا کی ویکسین کی تیاری میں سرگرداں ہیں.
اس ضمن میں اگر ہم لوگ اپنے ملک کے حالات کا جائزہ لیں تو حکومت نے گزشتہ مارچ کے دوسرے ہفتے تک کورونا کو لیکر غیر سنجیدگی والا رویہ اپنایا ہوا تھا. جب دنیا کے بیشتر ممالک اس وبا سے لڑنے کی حکمت عملی بنا رہے تھے تو یہاں لوک سبھا کا سیشن چل رہا تھا. اس کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش میں برسرِ اقتدار سرکار گرانے اور اپنی پارٹی کی سرکار بنانے کے لیے تمام جوڑ توڑ کی قواعد پہ عمل درآمد ہو رہا تھا .
اسی درمیان یکا یک وزیراعظم نریندر مودی محض چار گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیتے ہیں. جس کے نتیجے میں ملک ایک طرح سے تھم سا گیا تھا اور مختلف صوبوں میں روزی روٹی کمانے کے لیے گئے اکثر مزدور و غریب لوگ جیسے اپنے ہی ملک میں پردیسی بن کر رہ گئے تھے. یعنی سبھی ملک والوں نے وزیراعظم کی اپیل کو مانتے ہوئے جہاں کہیں تھے وہیں رک گئے. پھر تمام ملک نے تالی، تھالی، موم بتی جلانے اور” گو کورونا گو” کے فلک شگاف نعروں والے ایونٹ کو بھی بخوبی سر انجام دیا. لیکن کورونا ان سب ایونٹ کرنے کے باوجود دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا گیا.
جبکہ لاک ڈاؤن دوران ہم نے وہ دل دہلا دینے والے مناظر بھی دیکھے جب لاک ڈاؤن کے ضوابط کی معمولی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی پولیس نے بے تحاشا پیٹا اور پھر ہم نے بھو کے پیاسے لوگوں کو اپنے گھروں کی جانب سینکڑوں میل کا سفر پیدل کرتے ہوئے دیکھا اور راستے میں کتنوں کو حادثوں کی زد میں آکر مرنے کی دلخراش خبروں کو دیکھا اور سنا. ماہرین کی مانیں تو دیش کو مذکورہ بحران سے دوچار کرنے کی واحد وجہ یکدم سے لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا تھا. جبکہ اچانک ہوئے اس لاک ڈاؤن کے دوران مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ جہاں کہیں بھی مندروں، مسجدوں اور گوردواروں میں تھے وہیں پھنس کر رہ گئے. دہلی کے نظام الدین مرکز میں بھی جماعت سے جڑے لوگ جو ایک اجتماع میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے پھنس کر رہ گئے. لیکن افسوس کے ملک کے بیشتر مین سٹریم میڈیا نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر کورونا پھیلانے کا ذمہ دار مذکورہ سبھی دھرم کے لوگوں کو چھوڑ کر نظام الدین مرکز میں جمع تبلیغی جماعت کے لوگوں کو ٹھہرایا اور ان کے خلاف تبلیغی جہاد کورونا بمب اور معلوم نہیں کیسے کیسے زہر افشاں القاب سے نوازا گیا . اس کے چلتے ملک کے بہت سے علاقوں میں جماعت سے جڑے اور دیگر چھوٹے موٹے کام دھندوں سے جڑے لوگوں کو سماج میں بسنے والے دوسرے لوگوں کی جس منافرت کا سامنا کرنا پڑا اس کی بھی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی. جماعت والوں کے خلاف میڈیا کی یہ سب نوٹنکی تقریباً ایک مہینہ تک چلتی رہی.
اُن دنوں میڈیا کے ایک مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشاں و منفی پراپیگنڈا کے خلاف عدالت عظمیٰ میں ایک عذر داری پٹیشن ڈالی گئی تھی . چنانچہ تقریباً چھ مہینے کے بعد گزشتہ جمعرات کو اس پر سماعت کے دوران عدالت نے اپنے موقف کا اظہار کیا گیا.
سپریم کورٹ نے اس ضمن میں نظام الدین مرکز واقعہ پر تبلیغی جماعت کی رپورٹوں سے متعلق مبینہ ٹی وی چینلوں کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کی عذرداری پر کہا کہ حال ہی میں’بولنےاور اظہار رائے کی آزادی‘کے حق کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہوا ہے۔
چیف جسٹس ایس. اے. بوبڈے کی صدارت میں جسٹس اے. ایس. بوپنا اور جسٹس وی. راما سبرامنیم کی بنچ نے جمعیۃ العلماء ہند، پیس پارٹی، مسجد مدرسہ اور وقف تنظیم کے ڈی جے ہالی اور ایک دیگر عبدالقدوس لسکر کی عذرداری پر سماعت کرتے ہوئے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔
جبکہ اس موقع پر بینچ نے عذرداری کے جواب میں مرکز کی طرف سے پیش کیے گئے حلف نامہ کی سخت مذمت کی اورکہا کہ یہ ایک جونیئرافسر کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے اور اس میں تبلیغی جماعت مسئلہ پر میڈیا رپورٹوں کے معاملے میں غیرضروری اور فضول باتیں کہی گئی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ’’آپ اس عدالت میں ایسا رویہ اختیار نہیں کرسکتے۔‘‘ اور عدالت عظمی نے سکریٹری (وزارت اطلاعات ونشریات)سے حلف نامہ طلب کیا ہے۔
جماعت کی جانب سے سینئر وکیل دشینت دوے سے عدالت نے کہاکہ مرکز نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ عرضی گذار ’بولنے اور اظہار رائے کی آزادی‘کی آزادی چھیننے کی کوشش کررہے ہیں. جس پر بنچ نے کہا کہ ’’وہ اپنے حلف نامہ میں کسی بھی طرح کا ٹال مٹول کرنے کے لئے ویسے ہی آزاد ہیں جیسا کہ آپ کوئی بھی دلیل دینے کے لئے آزاد ہیں۔‘‘.
ویسے آگر ہم گزشتہ چھ سات سال سے ملک کے مین سٹریم میڈیا کے کام کاج و رویہ کو دیکھیں تو ہم محسوس کریں گے کہ ملک کا بیشتر میڈیا ایک خاص مذہب کے لوگوں کو ٹارگٹ بنا کر دیش میں لگاتار نفرت کا ماحول پیدا کر رہا ہے. اس کے علاوہ مشاہدہ میں یہ بھی آیا ہے کہ جب بھی سرکار کی کسی ناکامی پر سے ملک کے لوگوں کا دھیان ہٹانا مقصود ہوتا ہے یا کسی خاص مسئلہ پر سے متوجہ ڈائورٹ کرنا ہوتا ہے. تو ملک کا مین سٹریم میڈیا قسم قسم کے نئے نئے نریٹو اچھالنے کی قواعد شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں دیش کی بیچاری بھولی جنتا میڈیا کے اس مکڑی جال میں الجھ کے رہ جاتی ہے .
جس طرح کہ ہم نے دیکھا جب کورونا ملک میں پھیل رہا تھا تو اس کو تبلیغی جماعت والوں کے سر مڑھ دیا گیا جیسے کہ کورونا ان پالتو کتا ہو.
جبکہ اس سے پہلے سرکار کی طرف سے کورونا کی روک تھام کے لیے جس طرح کے ایوینٹ کیے گئے وہ کسی سے چھپے نہیں ہیں.لیکن جب ان سب ایونٹ کے باوجود ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسوں پہ قابو نہیں پایا جا سکا تو پھر اس کے پھیلنے کی وجہ یعنی بلی کا بکرا تبلیغی جماعت کو بنایا بنایا گیا.
اسی طرح پھر کسی دوسرے مدعہ سے عوام کا دھیان بھٹکانے کے لیے سوشانت راجپوت خود کشی کیس کو مرڈر کیس میں تبدیل کرنے کے لیے ریا چکرورتی کو لگاتار نشانہ بنایا گیا اور تقریباً ہر بڑے نیوز چینل کی طرف سے ریا چکرورتی کا ٹرائل کیا جاتا رہا. اسی بیچ پھر کسی دوسرے مدعا سے عوام کو دستبردار کرنے کے لیے کنگنا راناوت کے ممبئ کے خلاف دیئے گئے بیانات کو پندرہ بیس دن تک ہیڈلائین بنا کر عوام کے سامنے پروسا جاتا رہا. یعنی کبھی اس کے دفتر کے گرانے کو لیکر سنسنی خیز خبریں پیش کی گئیں.
دیش کی جی ڈی پی میں آئی ریکارڈ گراوٹ، چین کی طرف سے دیش کی سرحدوں میں ناجائز گھس پیٹھ اور ان کے فوجیوں کی طرف سے ہمارے جوانوں کو شہید کرنے کی تمام بڑی خبریں جیسے میڈیا نے اپنی بناوٹی و جھوٹی خبروں کے نیچے کہیں دفن کرتے ہوئے عوام حقائق جاننے کے حق کے ساتھ ایک طرح پامال کرتے ہوئے ان کے ذہنوں کا استحصال کیا.
آج میڈیا چند سکوں کی خاطر ملک کے امن و استحکام کو جس قدر کراری ضرب لگاتے ہوئے نقصان پہنچا رہا ہے اس کی مثال تاریخ میں شا ید ہی کہیں دیکھنے کو ملے … گزشتہ دنوں جس طرح سے ممبئی پولیس کی طرف سے ایک نیوز چینل کے فرضی ٹی. آر. پی. گھوٹالہ کو بے نقاب کیا ہے یقیناً یہ سب ایسے ضمیر فروش میڈیا ہاؤسز کے ڈوب مرنے کا مقام ہے اور ساتھ ہی ہم اہلِ وطن کے لئے ایسے فرضی و جھوٹے ٹی آر پی والے میڈیا چینل اور دیگر نفرت پھیلانے والے چینلز سے محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے.
آج اگر دیش کا میڈیا اپنی حقیقی قوت و طاقت کو محسوس کرتے ہوئے اس کو ملک کی ترقی و فلاح و بہبود کے لئے بروئے کار لائے تو یقیناً ملک موجودہ بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے اور ملک میں ایک بار پھر سے استحکام لایا جا سکتا ہے… ایک بار میڈیا کی قوت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا کہ :
کھینچوں نہ کمانوں سے نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو اخبار نکالو…!

You might also like