مضامین ومقالات

تاجکستان ۔۔۔آسمان سے گراکھجورمیں اٹکا۔۔۔!

صدرامام علی رحمانوف کمال اتاترک کے نقش قدم پرگامزن
عبدالرافع رسول
امہ کی موجودہ حالت دیکھ کرآنکھیں شدت ِ جذبات سے شعلہ بار،امیدپرامیدیہ باندھی جاتی ہے کہ مسلم ممالک میں امن ،استحکام ، خوشحالی ، تعلیم اور فکری بصیرت کے دریا بہہ نکلیںگے لیکن ستارے پھرگردش میں آتے ہیں اور ان امیدوں پرمایوسی کے گہرے خوفناک بادل چھائے دکھائی دیتے ہیں۔مسلم ممالک برابر ہر آن مغلوب رہنے اور التباستی اسٹرٹیجی کی راہوں پر گامزن ہیں۔گذشتہ ایک طویل مدت سے مسلمان ممالک پرمسلط حکمرانوں پر طاری فکری جمود کی دبیز تہوں میں رستخیز دکھائی نہیں دے رہی اور مرجعی جہل کے ان نہنگوں کے نشیمن تہہ وبالا ہوتے نہیں دکھائی دے رہے۔ اہم ترین بات یہ کہ مسلم ممالک کواغیارسے آزادی ملنے کے بعد پیداہونے والے خیرکے امکانات اور کھلنے والی خودداری کی راہیں ،مسلم ممالک میں فکری خوداعتمادی اور داخلی خوداری پیدا نہیں کرسکے ۔بے مروتی ،باہمی تشکیک ، عداوت ، تنائو ، گھبراہٹ ، وساوس اورعوام اورحکمرانوں کے ایک دوسرے سے متصادم ہوجانے کے طوفان کوکہیں ٹھرائودکھائی نہیں دے رہا، جس امہ کے لالہ وگل میں کھربوں ٹن تیل، گیس اورمعدنیات کے ذخائر موجود ہوں، وہاں کی حکومتوں اورعوام میں جنگ وجدل ہو،بلاشبہ یہ شامت اعمال کے باعث رب کانازل کردہ قہروعذاب ہے۔ امریکہ،اسرائیل اور انکے تمام کالے اورگورے حواریوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میںنیا عمرانی اصول دریافت ہو چکا۔جومسلمان ملک اپنے دفاع کرنے کے قابل ہے،توان کی نظروں میں وہ دنیا کے امن کیلئے خطر ہ ہے۔مسلم ورلڈ کے تیل کے وسائل اور دولت کی تمام تر اہمیت بے وقعت ہوتی نظر آ رہی ہے،عالمی سپر پاور نے کئی بلین بیرل تیل کا ریزرو اکٹھا کرنے کے علاوہ شیل گیس کے استعمال، عالمی تیل سپلائی کے گیم کی بساط کے ذریعے مشرق وسطی اور خلیجی ممالک کی معیشت ،کلچر اور جغرافیے کی تبدیلی کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ خطے کے دو بڑے تیل کے وسائل رکھنے والے ممالک اپنے تیل کی فروخت کیلئے بیبسی کے ساتھ قیمتوں میں تاریخی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دونوں آپس میں تعلقات کی سخت کشیدگی سے ایک خوفناک تصادم کاامکان بڑھ رہاہے۔یہ رب کی پکڑنہیں تواورکیا ۔
کشمیرجب مشرف بااسلام ہواتوتومبلغین اسلام اورہنرمندوںنے ہمدان، نیشاپور ،بخارا، سمرقند،ترمذ ،شہرِ سبز ،گردیز ،بلخ ، غور ،غزنی ،گیلان اور تبریز سے اس طرف رخ کیا۔ وسطی ایشیا ئی ممالک کے ان مبلغین اسلام اورہنرمندوں نے وسط ایشیاء کے تاکستانوں’’انگورکے باغات‘‘ اور ایران کے زعفران زاروںکوچھوڑکرمحض اسلام کی تبلیغ واشاعت دین کے لئے ہم سے لپٹ گئے اوراپنی زندگی کے آخری دن تک یہاں گذارااوراہل کشامر کی ترغیب اسلام اورتربیت کارمیں منہمک رہتے ہوئے یہیں وفات پاگئے۔مگر آہ! آج وسط ایشیائی ممالک میں مسلمان اپنے ایمان ویقین کے ساتھ زندہ تو ہیں لیکن یہاں کے حکمران دین بیزارہیں۔ سوویت یونین اقتدار کے 70 سالہ عرصے کے دوران وسط ایشیائی ممالک میں سرکاری طور پر اسلام مخالف رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی،اسلامی جماعتوں کودیوارسے لگادیاگیااورسیکولراورلبرل فاسشٹ سوچ کوپروان چڑھایاگیا۔سوویت یونین کے بکھرجانے کے بعدان ریاستوں میں حسب توقع وہی لوگ برسراقتدارآئے جنکی سوویت یونین نے پرورش کر کے پالاپوساتھا۔سریرآرائے اقتدارہونے کے بعد ان سے وہی گند ٹپک رہاہے جو ان گندے مٹکوں میں برسوں سے بھردیاگیاتھا۔ لیکن یہ سب خلاف توقع ہے اورنہ ہی اس نیرنگی پر حیرانی ،کیو نکہ یہ گندے مٹکے اسی لئے ہی رکھے گئے تھے کہ وقت آنے پرکام کوآئیں۔یہی وجہ ہے کہ ابھی مصراوربنگلہ دیش کے مسلمانوں پرڈھائے جانے والے قیامت خیز مظالم سے امہ کی قباتارتارتھی کہ تاجک سیکولر حکومت نے تاجکستان میں دینی احکام کی بجاآوری پرپابندی عائدکرکے دیندارمسلمانوں کاکافیہ حیات تنگ کردیا۔نام نہاددہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں سیکولراوردین بیزار حکومتیں محض اپنے اقتداراوراپنی کرسی بچانے کے لئے شعائر اسلام کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسی تسفل کی شکار وسطی ایشیا کے ممالک بھی شامل ہیں جن میں تاجکستان کی حکومت کئی قدم آگے اورسر فہرست ہے یہ لبرل فاسشٹ شعائر اسلام کے خلاف پوری طرح برسرجنگ ہے ،تاجک سیکولرحکومت نے داڑھی، حج اور خواتین کے حجاب کے خلاف اعلانیہ مہم چلارکھی ہے۔یوں آسمان سے گراکھجورمیں اٹکا کے مصداق تاجکستان سوویت یونین کے لادینی دورکے بعد جب آزادہواتواسلامیان تاجک کولادین تاجک حکمرانوں کے لادین نظریات کاسامناہے۔
دین بیزارتاجک صدرامام علی رحمانوف کی حکومت ،تاجک معاشرے میں اسلام مخالف اور سیکولر ازم کو تحفظ دینے کی وسیع تر حکومتی مہم کے طور پرسنت نبوی داڑھی اورشعائراسلام کے خلاف ناپاک اورشرانگیز مہم کوشروع کررکھی ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 99 فیصد تاجک آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ 22جنوری 2016کوتاجکستان کی پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں اس ہفتے کے دوران تقریبا 13 ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈی ۔اس سے قبل ہزاروں مردوں کو حالیہ چند سالوں کے دوران داڑھی رکھنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ تاجکستان کے علاقے ختلون میں پولیس داڑھی والوں کو گلی محلوں سے حراست میں لے کر زبردستی تھانے یا پھر حجام کی دوکان لے جارہی ہے جہاں باالجبر ان کی داڑھی منڈوا دی جاتی ہے۔دین بیزارتاجک حکومت نے اپنے اس گناہ عظیم کی توجیہ یوں بیان کرتی ہے کہ وہ بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔الامان والحفیظ
تاجکستان جس کی قیادت 1992 کے بعد سے امام علی رحمانوف کے ہاتھ میں ہے۔ حال ہی میں تاجک پارلیمنٹ نے انہیں’’قائد الامہ‘‘کا خطاب دینے کے ساتھ تاحیات ملک کا سربراہ قرار دیا تھا۔ آٹھ ملین ’’اسی لاکھ‘‘آبادی والے اس ملک میں اسلامی جماعتوں کو دبانے پر بہت زور دیا جاتا ہے ۔افغانستان میں حالیہ امریکی مداخلت نے تاجک صدر امام علی رحمانوف کو تقویت دی جس کے باعث وہ کمال اتاترک کے نقش قدم پرچلنے لگا۔ترکی کے کمال اتاترک ہی کی طرح وہ آئے دن اپنے قہرناک اوربے شرمی سے بھرپور صدارتی فرمانوں کے ذریعے اسلامی شعائر پر پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں۔ تاجکستان کا عام نوجوان دین اسلام سے آراستہ زندگی گذرانے کا خواہش مند ہے۔لیکن دین کواختیارکرنے میں حکومت اس کے سدراہ بنی ہوئی ہے ۔مملکت کے نوجوانوں کو دینی لگائو کی بنیاد پر گرفتارکیاجاتاہے اور سزائیںدی جاتی ہیں۔ تاجکستان میں صرف ریاستی میڈیا ہی قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی شعائر پر پابندیوں کے علاوہ عام لوگوں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے سے قانونا روکنا اور پھر ایسے قوانین کے تحت سزائیں دینا عالمی امن اور انسانی حقوق کے علم برداروں کے نزدیک کوئی جرم نہیں ہے۔تاجک خواتین کو کہا جا رہا ہے کہ وہ اسلامی روایات کے خلاف،تاجکستان کا رواتی لباس پہنیں۔اس جبری مہم نے خواتین کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ سکولوں اور جامعات میں حجاب لینے پر سرکاری پابندی عائد ہے اورعملی طور پر یہ قانون تمام ریاستی اداروں میں نافذ ہے۔تاجک پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس انھوں نے 160 کے قریب ایسی دکانیں بند کرائی ہیں جہاں حجاب فروخت کیے جاتے تھے، اور 1773 خواتین کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ حجاب پہننا چھوڑ دیں۔تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے بھی تاجک باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عرب روایات کے تحت عبادت نہ کریں، عرب ثقافت کی پیروی نہ کریں، اور سیاہ رنگ کے برقعے کے بجائے روایتی رنگوں اور ڈیزائن کے کپڑے پہنیں۔حکام نے اس سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کے عربی یا اسلامی طرز کے ناموں کے بجائے روایتی تاجک نام رکھنے کا حکم صادر کیا تھا۔ یہ اسلام دشمنانہ پالیسیاںکیاگل کھلائیں گی۔یہ محتاج وضاحت نہیں۔کیوں کہ جن مسلمانوں کی داڑھیاں منڈوائی جاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس انسانیت سوز سلوک کو کبھی نہیں بھول سکتے جو زبردستی داڑھی منڈوانے کے لیے تھانے میں ان کے ساتھ روا رکھا گیا۔
سابق سوویت یونین کی 15 سوویت جمہوری ریاستوں میں 6 ریاستیں مسلمانوں کی تھی کہ جن کی مسلم آبادی 90فیصدسے 99فیصدتک ہے۔ 1991میں جب سوویت یونین باقاعدہ ٹوٹا تو اس وقت دنیا کا یہ سب سے بڑا خطہ چار بڑے علاقوں (regions) پر مشتمل تھا جن میں سب سے بڑا سلاد (Slavian) علاقہ تھا جس میں موجودہ روسی فیڈریشن کے علاوہ یوکرائن، بلارس اور مالددوا شامل ہیں۔ سابق سوویت یونین کا دوسرا علاقہ قفقاز یا (Trans Caucausia) کہلاتا ہے، جس میں آرمینیا، جارجیا شامل ہیں۔ ان ممالک میں مسلمانوں کی ریاستیں موجود ہیں۔ سابق سوویت یونین کا چوتھا علاقہ وسط ایشیائی ممالک اور قازقستان پر مشتمل ہے ۔ یہ تمام مسلمان ممالک ہیں جن میں ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان، قازقستان، اور تاجکستان شامل ہیں۔ یہ تمام علاقے ترکی النسل کے لوگوں سے آباد ہیں۔ یہاں زبانیں مختلف لہجوں اور الفاظ کے ساتھ ایک جیسی بولی جاتی ہیں جو رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ روسی تسلط کے زمانے میں یہاں کی سرکاری زبان روسی تھی جو اب بھی ان علاقوں میں تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ وسطی ایشیا کا یہ علاقہ دنیا کے خوب صورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کے پہاڑوں اور وادیوں کا قدرتی حسن یہاں کے باسیوں کی مہمان نوازی اوررواداری کی اعلیٰ ترین روایات سے اور زیادہ دل کش بن جاتا ہے۔
وسطی ایشیا میں اسلامی تہذیب کا آغاز خلافتِ راشدہ کے ادوار ہی سے ہوچکا تھا اور کئی سو برس تک یہ علاقہ علم وفضل کا گہوارہ رہا۔ اب بھی وسطی ایشیا کے تاریخی مقامات اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ وسط ایشیائی ممالک میں سے ایک تاجکستان ہے۔ تاجکستان دنیا کی خوب صورت ترین ریاستوں میں سے ایک وسط ایشیائی ریاست ہے جس کا رقبہ ایک لاکھ ہزار ایک سو مربع کلومیٹر ہے۔ اس ملک کا دارالحکومت دوشنبے ہے جو اپنی عظیم تاریخی ورثے کے ساتھ ساتھ ایک جدید شہر ہے۔ تاجکستان جسے تاجک لوگ دیس کہتے ہیں، وسط ایشیا کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں ازبکستان، مشرق میں کرغیزستان، جنوب میں افغانستان اور مشرقی سرحد کا کچھ حصہ چین سے بھی ملتا ہے، جب کہ جموں وکشمیرکے گلگت بلتستان کا علاقہ واخان کی پٹی کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔ تاجکستان وسطی ایشیا کی کم آمدنی والا خطہ ہے لیکن یہاں کے پہاڑ اور علاقے قدرتی وسائل اور نایاب دھاتوں سے مالامال ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے تاجکستان وسطی ایشیا اور روس کے ہم پلہ رہا ہے۔ تاجکستان کے ذرائعِ آمدن محدود ہیں۔ کل رقبے کا بہت کم حصہ زیرکاشت ہے اورزیادہ حصہ پہاڑی اوربنجرہے۔ تاجکستان نسبتََا تاخیر سے سوویت یونین کا حصہ بنا اور ایک طویل جدوجہد اور مسلسل احتجاج کے نتیجے میں یہ ریاست دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں سے بہت پہلے داخلی خودمختاری حاصل کرچکی تھی۔ 1991میں یہ باقاعدہ آزاد ملک کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس دوران میں’’ اسلامی نہض پارٹی ‘‘نے دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی، جب کہ کمیونسٹ پارٹی نے روسی افواج کی مددسے خانہ جنگی شروع کردی جس کے نتیجے میں لاکھوں تاجک ایک بار پھر ہجرت پر مجبور ہوئے اور پڑوسی ممالک افغانستان، ازبکستان، کرغیزستان اور روس میں منتقل ہوگئے۔ تقریبا ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ملک شدید افراتفری کا شکار ہوگیا۔ دوسالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں امام علی رحمانوف تاجکستان کی کرسیِ صدارت پر قابض ہوگئے اور اگلے چند برسوں میں داخلی خانہ جنگی میں کمی واقع ہوگئی، جب کہ بیشتر مسلمان پہاڑوں میں منتقل ہوگئے یا قریبی ریاستوں میں روپوش ہوگئے۔
جیساکہ عرض کیاجاچکاہے کہ تاجکستان بقیہ وسط ایشیائی ریاستوں کے مقابلے میں کم آمدنی اور کم وسائل کا حامل ہے لیکن اس کے باوجودوہ مغربی قوتوں کی ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ چنانچہ وسط ایشیائی ریاستوں میں امریکی و برطانوی سفارت خانے سب سے پہلے کسی امیرریاست مثلا ازبکستان یا قازقستان میں نہیں بلکہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں کھولے گئے۔ تاجک مسلمان وسطی ایشیا کے راسخ العقیدہ مسلمان سمجھے جاتے ہیں اور کہا جاتا تھا کہ اگر کسی کو اسلام کو اصل حالت میں دیکھنا ہے تو وہ ’’کرگان توبے‘‘ چلا جائے۔ تاجکستان بدترین روسی تسلط و جبر کے زمانے میں بھی اسلامی شعائر اور اقدار کی پاس داری کرنے والی ریاستوں میں سے ایک رہا۔روسی تسلط کے باعث چونکہ یہاں اسلام کوبطوردین اختیارکرناجرم ٹھراتھا۔اس لئے یہاں کا اسلامی تعلیمات کا نظام خفیہ اورزیرزمین چلتارہا جونہ صرف تاجکستان بلکہ اردگرد کی مسلم ریاستوں کے لیے باعثِ تقویت اور اسلام کو حقیقی طور پر عوام الناس میں اس کی اصلی حالت میں زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ بنا رہا ، اس پرمستزادیہ کہ سابق سوویت یونین کے دوسرے علاقوں، داغستان، روسی تاتارستان اور سائبیریا کے مسلمان بھی تاجکی علماء سے مستفید ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ تاجکستان کے پہاڑی سلسلوں میں اسلامی تعلیمی ادارے جو انتہائی خفیہ مقامات پر قائم کیے گئے تھے، قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیمات کے علاوہ اسلامی تاریخ اور اسلامی دنیا کے حالات سے باخبر رہنے کا ذریعہ بھی رہے۔
تاجکستان کے بیش تر علما ء کو عربی زبان، صرف و نحو وغیرہ پر عبور حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے 1991میںبلاسوچے ، اچانک آزادی ملنے کے بعد یہاں ہزاروں عربی بولنے والے نوجوان موجود تھے اور ہزاروں مساجد کے قیام کے بعد ائمہ حضرات کی ایسی ٹیم موجود تھی جو وسطی ایشیا کی دوسری ریاستوں کی مساجد کی ضروریات بھی پوری کر رہی تھی۔ نوجوانوں میں بالخصوص دینی علم کی طلب بڑھتی ہی رہی اور اس کے نتیجے میں تاجکستان کے مسلمانوں کا علمی ورثہ پورے علاقے میں معتبر سمجھا جانے لگا۔ تاجکستان کی روحانی اور علمی شخصیت عبداللہ نوری پورے وسطی ایشیا اور سابق سوویت یونین کے مسلمانوں میں انتہائی مقبول ہیں۔ صدر امام علی رحمانوف نے روسی سامراج کے ساتھ مل کر اسلامی بیداری کی تحاریک کو پورے وسطی ایشیا سے بالعموم اور تاجکستان سے بالخصوص ختم کرنے کے لیے مختلف ناپاک اورمذموم اقدام اورناپاک ہتھکنڈے استعمال کئے ۔
صدرکے ان ظالمانہ اورجابرانہ اقدام کے بعداسلام نوازوں اورصدرکے مابین سرد جنگ شروع ہوئی ۔صدارتی نظام نے اسلامی جماعتوں کے لیے تاجکستان میں کام کرنا ناممکن بنادیا ۔ تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر وغیرہ میں داڑھی اور اسکارف ممنوع ہیں۔ یہاں تک کہ گذشتہ دنوں نوجوانوں کی مساجد میں ادائیگی نماز اور اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے مساجد میں آنے والوں پر پابندی کا بل پارلیمنٹ سے پاس کروایاگیا۔ اس طرح بہت ساری مساجد کو بند کر دیا گیا۔ یہ ایک نیا قانون ہے جو سیکولرصدر امام علی رحمانوف کی اسلام دشمنی کی واضح مثال ہے جس میں انھوں نے ان تمام مساجد پر پابندی لگا دی ہے جو1991کے بعد قائم کی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ 1991سے قبل سوویت یونین کے تسلط کی وجہ سے سرکاری مساجد کی تعداد بہت کم تھی۔ دیہاتوں اور قصبوں میں غیرقانونی مساجد بھی موجود تھیں، جب کہ شہروں میں خفیہ مقامات پر گھروں کے اندر مساجد موجود تھیں۔اس دوران اسلامی پارٹیوںکے بیش تر ارکان یا تو خاموش کردیے گئے ہیں یا روپوش ہوگئے ہیں، یا پھرتاجکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیئے گئے ۔لیکن روس سے آزادی ملنے کے بعداب بھی اسلامی جماعتوں اوران سے وابستگان کواسی ظلم وجبرکاسامناہے۔تاہم اسلام نوازوں کے لئے ہاں یہ بات باعث اطمینان ہے کہ تاجکستان کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے۔ یہاں پر اسلامی ثقافت کے گہرے اثرات ہیں، اور اسلامی تعلیمات عام ہیں۔ تاجک علماء اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اردگرد کے ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلامی تحریک بظاہر کمزور ہوتی نظر آتی ہے، لیکن فی الواقع اسلامی تحریک دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے۔
سامانی سلطنت کا گہوارہ رہنے والی یہ سرزمین 20 ویں صدی میں سوویت اتحاد کی باضابطہ جمہوریہ رہی جسے تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ (Tajik Soviet Socialist Republic) کہا جاتا تھا۔سوویت اتحاد سے آزادی ملنے کے بعد تاجکستان 1992 سے 1997 تک زبردست خانہ جنگی کا شکار رہا۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام، غیر ملکی امداد اور ملک کے دو بڑے قدرتی ذرائع کپاس اور المونیم نے ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔تاجکستان کا مطلب ہے ’’تاجکوں کا وطن‘‘جیسا کہ ایران اور اس سے ملحقہ بیشتر ممالک کے ناموں کے ساتھ’’استان‘‘لگتا ہے جیسے پاکستان، افغانستان وغیرہ۔جدید تاجک سامانی سلطنت کو پہلی تاجک ریاست مانتے ہیں۔ دارالحکومت دوشنبہ کی یہ یادگار سامانیوں کے جد اعلیٰ اسماعیل سامانی کے اعزاز میں بنائی گئی ہے۔یہ سرزمین ، جہاں اب تاجکستان واقع ہے، 4 ہزار قبل مسیح سے مستقل آباد ہے۔ یہ علاقہ تاریخ میں مختلف سلطنتوں کے زیر نگیں رہا ہے۔ قبل از مسیح میں یہ علاقہ باختر کی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام یہاں بھی داخل ہوا۔ عباسی دور کے آخر میں جب سلطنت اسلامیہ کے مختلف حصوں میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں تو اولین ریاستوں میں سے ایک ریاست سامانی سلطنت یہاں وجود میں آئی تھی جس نے سمرقند اور بخارا کے شہر بنائے جو تاجکوں کے ثقافتی مراکز بنے۔ بعد ازاں منگولوں نے وسط ایشیا پر عارضی طور پر قبضہ کیا۔ سلطنت روس کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ امارت بخارا میں شامل تھا۔
19 ویں صدی میں سلطنت روس نے وسط ایشیا پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کیے اور تاجکستان پر بھی قبضہ کر لیا۔ 1917 میں زار روس کی سلطنت کے خاتمے کے بعد وسط ایشیا میں بسماچی تحریک کا آغاز ہوا جنہوں نے آزادی کے لیے سرخ افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی ۔ لیکن اس تحریک کو کچل دیا گیا اور یہ علاقہ سوویت اتحاد کا حصہ بن گیا۔ اشتراکی دور میں یہاں دین اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا اور مساجد و عبادت گاہوں کو بند کر دیا گیا۔1924 میں تاجک خود مختار اشتراکی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ازبکستان کا حصہ تھی لیکن 1929 میں تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ کو دستوری جمہوریہ کے طور پر الگ کیا گیا۔ ماسکو نے وسط ایشیا کی دیگرمسلم ریاستوں کی طرح تاجکستان کوبھی مسلم ریاست کے طورپر نظراندازکیاگیا اور یہ طرز زندگی، تعلیم اور صنعت میں وسط ایشیا کی تمام مسلم ریاستوں کی طرح سب سے پیچھے رہی۔ 1970 کی دہائی میں مختلف نظریات کی حامل خفیہ اسلامی جماعتیں قائم ہوئیں اور 1980 کی دہائی کے اواخر میں تاجک قوم پرستوں نے اضافی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ 1990 تک علاقے میںاتھل پتھل رہی۔اس دوران جب1991میں سوویت اتحاد’’سوویت یونین‘‘ ٹوٹ کربکھر گیا اور وسط ایشیاکی دیگرآٹھ ریاستوں کے بشمول تاجکستان نے بھی آزادی کا اعلان کر دیا۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker