Baseerat Online News Portal

اردویونیورسٹی کو آن لائن کورسس کے آغاز کا مشورہ

قومی تعلیمی پالیسی پرویبنار کا افتتاح، پروفیسر وی ایس پرساد اور پروفیسر رحمت اللہ کی مخاطبت
حیدرآباد10اکتوبر(بی این ایس )
مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں آج قومی ویبنار ’’قومی تعلیمی پالیسی 2020 کامطمعِ نظر‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔ افتتاحی اجلاس میں ماہرِ تعلیمی انتظامیہ پروفیسر وی ایس پرساد،سابق وائس چانسلر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی و اگنو، سابق ڈائرکٹر NAAC نے’’قومی تعلیمی پالیسی 2020 – لائحہ عمل برائے مانو‘‘ کے زیر عنوان کلیدی خطبہ پیش کیا۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، وائس چانسلر انچارج نے صدارت کی۔ پروفیسر پرساد نے اپنے خطاب میں نئی تعلیمی پالیسی کی روشنی میں اردو یونیورسٹی کو آن لائن کورسس کا آغاز کرتے ہوئے دوہرے سے تہرا طریقہ تعلیم اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مربوط لائحہ عمل کے ذریعہ نئی پالیسی پر مؤثر عمل آوری کی جاسکتی ہے۔ پروفیسر پرساد نے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کامیابی کے لیے نظریہ اور عملی اقدام پر توجہ دلائی تھی۔ نظریہ کے بغیر عملی اقدام نہیں ہوسکتا اور صرف نظریہ عمل کے بغیر بیکار سی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صلاحیت کا مکمل استعمال، ملک کی ترقی کیلئے تعلیم کا استعمال اس پالیسی کے بنیادی اہداف ہیں۔ پروفیسر پرساد نے مانو میں چلائے جانے والے 75کورسس میں بین موضوعاتی اشتراک کے امکان بھی تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔ پروفیسر رحمت اللہ، انچارج وائس چانسلر نے اپنے صدارتی خطاب میں نئی تعلیمی پالیسی کی روشنی میں اردو یونیورسٹی کو حاصل منفرد مینڈیٹ سے بھرپور استفادہ پر زور دیا. انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کو ایک انقلابی پہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تعلیم کے معیار اور تحقیق پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ابتدا میں پروفیسر صدیقی محمد محمود ،رجسٹرار انچارج نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں نئی تعلیمی پالیسی کے بعض اہم پہلوئوں کی جانب نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں پری پرائمری ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،مانو اس ضمن میں اردو میڈیم میں پرائمری تعلیم کے حوالے سے عملی تجربہ میں پہل کرسکتا ہے. پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی،ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی نے کاروائی چلائی اور مہمان مقرر کا تعارف پیش کیا۔ پروفیسر سنیم فاطمہ ،ڈین اکیڈیمکس و کنوینر ویبنار نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر سید امان عبید، اسوسیئٹ پروفیسر تعلیم و تربیت کی قرأت کلام پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ ویبنار کے انعقاد کا مقصد نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) 2020 کے نظریہ کو سمجھنا، اس کے تحت نصاب طئے کرنا، این ای پی 2020 کے نفاذ میں حائل چیلنجس کی نشاندہی کرنا ، نئی پالیسی کی روشنی میں مانوکے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد پہلے تکنیکی سیشن میں پروفیسر محمد اختر صدیقی، سابق صدر نشین این سی ٹی ای و صدر شعبۂ تعلیم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی؛ دوسرے ٹیکنیکل سیشن میں پروفیسر رمیش گھنٹہ، رکن این سی ٹی ای (ایس آر سی)؛ تیسرے ٹیکنیکل سیشن میں پروفیسر ایس ایم آئی اے زیدی، صدر شعبۂ تعلیم و منصوبہ بندی، این آئی ای پی اے؛ چوتھے سیشن میں پروفیسر وی وینکیا، مشیر نظامت فاصلاتی تعلیم، مانو و سابق وائس چانسلر کرشنا یونیورسٹی نے نئی تعلیمی پالیسی کے مختلف پہلؤوں کا احاطہ کرتے ہوئے مخاطب کیا۔پروفیسر نسیم الدین فریس،پروفیسر وناجا،پروفیسر شایدہ اور پروفیسر گلفشاں حبیب تکنیکی سیشن کے اینکر تھے. شرکا کے لیے مقررین کے ساتھ سوال جواب کے سیشن بھی ویبنار کا حصہ تھے. ویبنار کا جناب رضوان احمد، ڈائرکٹر کی نگرانی میں آئی ایم سی ٹیم یوٹیوب چینل www.youtube.com/imcmanuu پر لائیو ویب کاسٹ کیا۔ ڈاکٹر محمد کامل کی زیر نگرانی سینٹر فار انفارمیشن ٹکنالوجی ،مانو کی ٹیم نے تکنیکی انتظامات کئے۔ انتظامی کمیٹی میں پروفیسر نسیم الدین فریس، پروفیسر عبدالواحد، پروفیسر احتشام احمد خان، پروفیسر پروین جہاں، پروفیسر سید محمد حسیب الدین قادری، پروفیسر ایم وناجا، پروفیسر سید نجم الحسن، پروفیسر گلفشاں حبیب، پروفیسر شاہدہ، ڈاکٹر محمد کامل، ڈاکٹر ایم اے سکندرشامل ہیں۔

You might also like