Baseerat Online News Portal

فراقؔ کی شاعری غزل کی بہترین روایت کی توسیع ہے:ارتضی کریم

ہندی اردو ساہتیہ ایواڈ کمیٹی کے زیر اہتمام’فراق حیات وخدمات ‘ موضوع پرویبنار/سیمینار کاانعقاد
لکھنؤ10اکتوبر(بی این ایس )
رواں حالات کے مد نظر فراقؔ گورکھپوری پر بین الاقوامی نوعیت کا یہ ای سیمینار اپنے انعقاد کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت اورمعنویت رکھتا ہے، چونکہ آج کے حالات میں ہمارا ملک ،ہماری تہذیب مختلف قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔فراق نے پوری زندگی ہندی اور اردو کو قریب لانے کی کوشش کی وہ ہندوستانی تہذیب اور ثقافت پر نہ صرف فخر محسوس کرتے تھے بلکہ اس کی حفاظت اور بقا کے لئے مستقل فکرمند رہا کرتے تھے۔آج کا برقی سیمینارفراق پر مرکوز اور محیط ہے اور جب فراق کا نام آتا ہے تو اردو شاعری کی تاریخ اس کا ایک عہد بھی سامنے آتا ہے اگرچہ فراق بذات خود ایک عہد تھے۔ذہانت اور مطالعہ،تقریر اور تحریر،تصنیف اور تنقید،شعراورنثر جس حوالے سے بھی فراق پرنظرڈالئے ان کی انفرادیت اور صلاحیت پر ایمان لانا پڑتا ہے۔اگرچہ فراق کے یہاں بھی بشری کمزوریاں تھیں،لغزشیں ان سے بھی ہوئی ہیں،تضادات اور ناہمواریاں،فراق کے یہاں بھی موجود ہیں۔مگر فراق کی شاعری اورشخصیت کی تعمیر میں ممدوومعاون اور مخل ہونے والے شب وروز سے الگ نہیں ہیں۔ان پہلوئوں کو ذۃن میں رکھے بغیر ان کی شاعری اور ان کے فن سے ہرگز انصاف نہیں کرسکتے۔فراقؔ کی شاعری غزل کی بہترین روایت کی توسیع ہے،فراق کی شاعری وصل اور فراق کی تشنہ کامیوں کی تصویریں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حیات وکائنات کے تمام مصائب اور آلام، تکالیف اور رنج وپریشانیوں کو کمال ضبط کے ساتھ برداشت کیا اور اس کے اظہار کے لئے ادب وشعر کا خوبصورت سہارا لیا۔ان کا یہ شعر کسی حد تک ان کی شاعری اور شخصیت تفہیم میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔
فطرت میری عشق ومحبت، قسمت میری تنہائی
کہنے کی نوبت ہی نہ آئی، ہم بھی کسو کے ہولیں ہیں
مذکورہ خیالات کا اظہارپروفیسرارتضی کریم ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی یونیورسٹی نے ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کے زیراہتمام منعقدسیمینار/ویبنار’فراقؔ حیات وخدمات‘ کے موقع پر صدارت کرتے ہوئے کیا۔ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کے زیراہتمام 28ویں بین الاقوامی ادبی فیسٹویل کے دوسرے دن’فراق حیات وخدمات‘ کے موضوع پر آن لائن سمینار/ویبنار کا امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز،وزیرحسن روڈ پرانعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس ارتضی کریم نے کی اورمہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسرعبیدالرحمان ہاشمی نے شرکت کی۔مہمان اعزازی ڈاکٹراحتشام احمدخان تھے۔ویبنار کے دیگر مقالہ نگاران میں پروفیسرجاوید قدوس(کشمیر)،پروفیسر اعجاز علی ارشد،ڈاکٹررحمت علی (ماریشس)احمداشفاق(دوحہ،قطر)ڈاکٹرشافع قدوائی (علیگڑھ) کلیم ضیاء (ممبئی)،اشفاق احمد(کناڈا)،امتیازکریمی(پٹنہ)، ڈاکٹراحتشام احمدخان، (امریکن انسٹی ٹیوٹ)سہیل کاکوروی،ڈاکٹرساجد حسین،(گورکھپور)پروفیسرصغیرافراہیم(علی گڑھ)پروفیسربیگ احساس (حیدرآباد)،ڈاکٹرمشتاق حیدر(کشمیر)ڈاکٹردبیر(کلکتہ) متھن کمار(دلی)ایم اے قادری(دلی) امان اللہ (چنئی) ہمانشو شیکھر(مہاراشٹر) راجیورتن وغیرہ ملک وبیرون ملک میں موجود حضرات نے اپنے قیمتی مقالات پیش کئے۔ایوارڈکمیٹی کے جنرل سیکریٹری اطہر نبی ایڈوکیٹ نے ادیبوں اورقلمکاروں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ فراق گورکھپوری کی شاعری ہندوستان کی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے انہوں نے کہا کہ فراق کی شاعری کلاسیکل اورجدیدشاعری کاایک حسین امتزاج ہے۔فراق اردوشاعری میں ایک نئی آواز،نیا لب ولہجہ،نیاطرزاحساس بلکہ ایک نئی زبان لیکر آئے ہیں۔سمینار/ویبنار کی نظامت اپنے مخصوص انداز میں ضیاء اللہ صدیقی نے کی اورمہمانوں کا منفرد انداز میں تعارف کرایا۔اس موقع پر قلمکار رویش ٹیک چندانی کو ایوارڈ کمیٹی کی جانب سے صدر پروفیسرارتضیٰ کریم کے بدست ’ساہتیہ شری سمان‘ سے بھی نوازا گیا۔مہمان خصوصی پروفیسرعبیدالرحمان ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ فراقؔ گورکھپوری اپنے ہم عصرشاعروں میں سب سے قدآورشاعر تھے،فراقؔ کی شاعری میں ہندوستان کی عظیم تہذیبی روح جلوہ گرتھی،ان کی شاعری میںوہ تمدن تھا جو سب کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اسی لئے انہیں عظیم دانشور کے طورپر دیکھا،سمجھا اور پڑھاگیا۔انہوں نے ہمیشہ اردو زبان کے لئے بہت کچھ کہا،لکھا پڑھا ،مگر یہ بھی سچائی ہے کہ ان کے اشعار ہرایک کے دل میں بڑی خوبصورت بزمِ خیال سجاتے ہیں جہاں صرف پیار اور محبت کے چراغ جلتے ہیں۔پروفیسرصغیرافراہیم اورڈاکٹر احتشام احمد خاں وسہیل کاکوروی نے سمینار میںکہاکہ فراقؔ جینیس انسان تھے،وہ جمالیات کی زبردست حس رکھتے تھے انہوں نے ملک کی مٹی سے اٹھنے والی تہذیبی خوشبوکو اپنی شاعری میں سمولیا تھا اور اسی لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بھلے ہی ان کے نام کے آگے گورکھپوری لگا ہواور اُن کی شاعری اردو زبان کے ذریعے ہوتی رہی ہو لیکن سچی بات یہ ہے کہ بڑا شاعر رنگ،نسل،زبان،قوم اورجگرافیائی دیواروں کے حصار میں محصور نہیں کیا جاسکتا،وہ انسانی عظمت کا گیت گاتا ہے اوراسلئے وہ ساری انسانیت کا اثاثہ ہوتا ہے،فراقؔ کی شاعری فکرو فن اورموضوع و اسلوب کے اعتبار سے ایک نئے اور منفرد آہنگ کی حامل ہے۔پروفیسرجاوید قدوس(کشمیر)،پروفیسر اعجاز علی ارشد،ڈاکٹررحمت علی (ماریشس)احمداشفاق(دوحہ،قطر)ڈاکٹرشافع قدوائی(علیگڑھ)کلیم ضیاء(ممبئی) نیفراقؔ گورکھپوری کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انگریزی ادب کے باصلاحیت استاد ہونے کے باوجود انہوں نے اردو ادب میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ان کو اردو زبان سے بے حد پیار تھا انہوں نے اردو زبان کو نہ صرف اپنایا بلکہ والہانہ عقیدت کا ثبوت دیا۔وہ عوامی بے داری، خودداری، خدمتِ خلق اور جمہوریت کے سیاسی نظام حکومت کے بھی بہت بڑے حامی تھے۔ فراقؔ نے اردو شاعری کونیا اور نادر اسلوب اظہار عطا کیا جو بیک وقت اچھوتا ہی نہیں خالص ہندوستانی ہے۔فراق ؔ نے جس دور میں شاعری کا آغاز کیا تھا اس میں ہر سمت ہنگامہ خیزیاں اور قومی تحریکیں ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لئے تھی فراقؔ بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔اس موقع پر جن لوگوں نے خاص طور پرشرکت کی ان میں بطور خاص ڈاکٹراحتشام احمدخان، ڈاکٹر مسیح الدین خان شاعر حسن کاظمی، ضیاء اللہ صدیقی ،ڈاکٹریاسر جمال،راج ویر رتن،غلام حسنین خان،سرفرا زاہد،سندیپ گپتا،زاہد علی،انل تیواری،رفیع احمد،ڈاکٹرارشاد بیاروی اوراجے شکلا وغیرہ تھے۔فیسٹویل کے ذریعہ پہلے دن کا پروگرام پورے دن چلا۔باقی چار دن پروگرام ان شاء اللہ متواتر چلیں گے۔آخر میں مہمانان کا شکریہ ڈاکٹر یاسرجمال نے اداکیا اور پروگرام کے اختتام کااعلان کیاہے۔

You might also like