Baseerat Online News Portal

آسام میں مدارس کوبند کرنے کی سازش سے باز آئے حکومت:جماعت اسلامی ہند

نئی دہلی10اکتوبر(بی این ایس )
جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین جناب نصرت علی صاحب نے آسام کے ایجوکیشن منسٹر کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ سے مدارس کو ریاستی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد ختم کردی جائے گی یا پھر دوسرے الفاظ میں ان مدارس کو بند کردیا جائے گا۔ جناب نصرت علی نے کہا کہ ایک جانب نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت تعلیم کو عام کرنے اور سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقات کو تعلیم سے جوڑنے کی بات کہی گئی ہے تو دوسری جانب آسام کی بی جے پی سرکار مسلم اداروں سے مالی تعاون روک کر مسلم مخالف پالیسی کا اظہار کررہی ہے۔کورونا کے ماحول میں مرکزی حکومت جو عوام مخالف قوانین منظور کررہی ہے۔اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آسام کی ریاستی حکومت بھی وہاں کے عوام کے خلاف فیصلے کررہی ہے۔اس فیصلے سے اقلیتی طبقے کے جو بچے مدرسے میں پڑھتے ہیں،وہ تعلیم سے محروم ہوجائیں گے اور مدرسہ سے وابستہ اساتذہ اور اسٹاف بے روزگار ہوجائیں گے۔ ریاستی حکومت کا یہ اقدام قابل مذمت ہے۔ اس سلسلہ میں نیشنل مائنارٹیز کمیشن، مرکزی وزارت تعلیم اور وزارت اقلیتی امور کو آسام ریاستی حکومت کے اس فیصلے کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی تعلیمی بورڈ اس فیصلے کو واپس لینے کا مشورہ دیتا ہے، نیز اس سلسلہ میں بورڈ مدارس کی مالی امداد برقرار رکھنے کے لئے تمام جمہوری اور قانونی ذرائع اختیار کرے گا۔جناب نصرت علی نے مزید کہا کہ ریاستی وزیر تعلیم نے اپنے فیصلے پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذہبی تعلیم کی سرپرستی نہیں کرسکتی۔حالانکہ آسام میں عالیہ مدرسہ کا یہ نظام گزشتہ تقریبا ًایک صدی سے جاری ہے۔ موجودہ حکومت نے ایک خاص کمیو نیٹی کو نشانہ بنانے اورسیاسی مقاصدکے حصول کے لیے اب یہ فیصلہ کیاہے۔ بورڈ ریاستی حکومت کو متوجہ کرتا ہے کہ مدارس کو بند کرنے کے اس فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کرے اورریاست میں پہلے سے ہی جو مسائل موجود ہیں، ان کے حل کرنے کی طرف توجہ دے اورنئے مسائل کو پیدا کرنے کی اپنی پالیسی سے باز آئے۔

You might also like