Baseerat Online News Portal

رکسول کو مہنگی سیاست کی زنجیر میں جکڑنے کی سازش ۔۔۔۔۔۔، عوام نے کہا کڑوروں روپے سے ٹکٹ خرید کر لانے والوں سے اچھی امید نہیں

رکسول۔ 10/اکتوبر ( محمد سیف اللہ )

انتخابی موسم میں ٹکٹ کی حصولیابی کے لئے پیسہ وار خوب چلتا ہے اس سے تو سب واقف ہیں لیکن اگر اس پیسوں کے وار میں ہم کسی لیڈر سے اچھے نتیجے کی امید کر لیں تو اسے سوائے نادانی کے اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ایسی صورت حال میں سماج کے دبنگ لوگ ایماندار اور علاقہ کی قابل اطمینان ترقی کا منصوبہ رکھنے والے لیڈروں کو منظر نامے سے بالکل ہی غائب کرکے کھنکتے سکوں کے سہارے کامیابی کے سپنے سجانے لگتے ہیں،نظر اٹھاکر دیکھئیے تو اس وقت پورے بہار سے اسی طرح کی تصویریں سامنے آتی نظر آئیں گی،دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی پارٹی ایک دوسرے سے پیچھے نہیں ہے،غور کرکے دیکھئے تو ابھی تک بڑی چھوٹی پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کی جو لسٹ جاری کی ہے ان میں بہت مشکل سے کچھ ایسے صاف شفاف چہرے دکھائی دیں گے جن سے کوئی مجرمانہ عمل جڑا ہوا ہے،کہنے کو تو ہر پارٹی یہی دعوی کرتی ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو پارٹی ٹکٹ دے کر میدان میں نہیں اتارے گی مگر اس دعوے کو عمل میں لانا کتنا مشکل ہوتا ہے اس کو ابھی تک کی تفصیلات میں دیکھا جا سکتا،یہی وجہ ہے کہ ہر پانچ سال پر انتخابی عمل تو انجام پاتا ہے مگر اس کے سبب علاقے کی تقدیر نہیں بدلتی اور جب تک نمائندے اس سمت میں تھوڑا بہت توجہ دینے کے لئے آگے آتے ہیں تب تک دوسرے انتخاب کی گھنٹی بج جاتی ہے،بتادیں کہ ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول میں بھی کم وبیش اسی طرح کی صورت حال ہے،ملی اطلاع کے مطابق رکسول سے جن امیدواروں کے نام پر پارٹیوں نے مہر لگائی ہے ان سے عوام کی ایک بڑی تعداد مطمئن نہیں ہے ان کا ماننا ہے کہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامے میں رکسول کی اپنی ایک انفرادی شناخت رہی ہے،یہاں کی سیاست اور تہذیبی روایات کو بھی قدر کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے،ماضی کی طرف لوٹ کر دیکھیں تو یہاں سے کئی سیاسی ابھرکر آئے جنہوں نے علاقے کی عوام کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کے لواب کی تعبیر تلاش کرنے میں اہم کردار نبھایا،لیکن اب یہاں کی سیاست کھنکتے سکوں کے ارد گرد گھومنے لگی ہے اس لئے اس میں عوام کی خدمت کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا،جس سیاست کا مقصد پہلے عوام کے مفادات کا تحفظ ہوا کرتا تھا اور جس کے سہارے نمائندے عوام کی خدمت کیا کرتے تھے وہ اب دولت کے سہارے شہرت کی اونچائیاں چھونے کو بے تاب ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہی روش رہی تو آنے والے دنوں میں سماج کے ایماندار اور غریب طبقہ کے لئے یہاں کی سیاست زمین سے زیادہ مہنگی ہو جائے اور پھر عوام کے حقوق کی بات کرنا دیوانے کا خواب بن جائے گا،یہ سب جانتے ہیں کہ اس سرحدی علاقے کی زمین اس قدر مہنگی ہے کہ عام لوگ اسے خریدنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے لوگ یہی مانا کرتے تھے کہ یہاں کی صرف زمین مہنگی ہے لیکن سیاست کے لٹیروں نے یہاں کی سیاست کو زمین سے زیادہ مہنگا بناکر ایماندار لوگوں کے لئے اس میدان میں آگے آنے کے راستے بند کر دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کی فکرمندیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں لوگوں کا ماننا ہے کہ جب کڑوروں روپے کا ٹکٹ خرید کر سیاست داں میدان میں آئیں گے تو ان سے علاقے کی ترقی وخوشحالی کے لئے کام کی امید کیوں کر کی جاسکتی ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ اب بھی یہاں کے زیادہ تر لوگ ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو واقعی سنجیدہ اور علاقے کی عوام کے خوش حال مستقبل کے لئے ایماندار ہیں،اب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ کیا ہوگا اور ان کی امیدیں کس حد تک پوری ہو سکیں گی مگر اتنا ضرور ہے کہ اگر اس ماحول میں بھی اگر کوئی صاف شفاف چہرہ بڑی پارٹیوں سے الگ انتخابی میدان میں آتا ہے تو نتیجے کا رخ بدلا بدلا سا دکھائی دینے لگے گا اور بڑے چہرے پردے کے پیچھے چلے جائیں گے ۔

You might also like