Baseerat Online News Portal

بدعنوانی کے الزامات کو لے کرکانگریس نے کرناٹک کے وزیر اعلی کا استعفی ٰ مانگا

نئی دہلی، 11 اکتوبر (بی این ایس)
کانگریس نے کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدیورپا کے کنبہ کے کچھ افراد پر ہاؤسنگ پروجیکٹ کے سلسلے میں بدعنوانی کے الزامات پر اتوار کے روز بی جے پی پر حملہ کیا اور اس معاملے کی وقتی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر سدارمیا نے گذشتہ ماہ کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلی کے خلاف الزامات عائد کئے تھے اور یدیورپا نے انھیں بے بنیاد کہا تھا اور الزامات ثابت کرنے کے لئے کانگریس لیڈر کو چیلنج کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے اتوار کے روز یہ الزام لگایا کہ کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بدعنوانی میں ملوث ہے اور داغدار سیاستدان حکمرانی کررہے ہیں۔ سنگھوی نے کہاکہ اگر وزیر اعلی میں ہلکی سی شرم کی باقی ہے تو وہ مستعفی ہوجائیں یا انہیں برخاست کردیا جائے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور کرناٹک بی جے پی کے صدر جے یدیورپا کے بیٹے، داماد اور پوتے پربدعنوانی اور رشوت خوری کے الزامات لگائے اورپی نڈا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ یہ معاملہ بنگلورو میں 662 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اپارٹمنٹ کی تعمیر سے متعلق ہے۔ سنگھوی نے دعوی کیا کہ میڈیا رپورٹس میںقریبی رشتے داروں جیسے بیٹے، داماد اور پوتے پوتیوں میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سنگھوی نے کہاکہ اس سے پورے ملک کی عوام کو دھچکا لگا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی بے ہوش ہے۔ سنگھوی نے دعویٰ کیا کہ کولکاتہ میں ایک جعلی کمپنی کے ذریعے رشوت مانگی گئی تھی اور اس کی ادائیگی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انسداد بدعنوانی قانون اور منی لانڈرنگ کے خلاف قانون نافذ کیا جائے اور الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

You might also like