Baseerat Online News Portal

ہاتھرس کیس: اگرمتاثرہ لڑکی امیرگھرانے کی ہوتی تب بھی وہ یہی کرتے؟ہائی کورٹ نے پولس افسران سے پوچھا

لکھنؤ: 12؍اکتوبر(بی این ایس؍ایجنسی)ہاتھرس کیس میں متاثرہ کے اہل خانہ نے آج ہائیکورٹ میں شکایت کی کہ نہ تو انہیں اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی انہیں آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ افسران کا مؤقف تھا کہ ایسا اس لئے کیا گیا تاکہ لااینڈآرڈر نہ بگڑے۔ اس موقع پرعدالت نے پولس افسران سے پوچھاکہ کیااگرمتاثرہ لڑکی امیرگھرانے سے ہوتی توبھی وہ اسی طرح گھروالوں کی اجازت کے بغیرآخری رسومات اداکردیتے۔عدالت کوفیصلہ کرناہے کہ سرکاری مشینری نے متاثرہ لڑکی اوراس کے گھروالوں کے بنیادی حقوق کونقصان پہونچایایانہیں؟اس کے لئے اگلی سماعت 2؍نومبرکوہوگی۔
آج ہاتھرس اجتماعی عصمت دری متاثرہ خاندان کے پانچ افرادآج الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ پہونچے۔ ہائیکورٹ نے اس معاملے کااز خود نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ لڑکی کی پولس فورس کے ذریعےدیررات آخری رسومات اداکرنےکے بارے میں سماعت شروع کردی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے عدالت کو بتایا کہ انھیں بچی کا منہ دیکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی اور زبردستی جلایا گیا تھا۔ عدالت نے ڈی ایم سے پوچھا کہ اگر وہ کسی بڑے آدمی کی بیٹی ہوتی تو کیا وہ اسے اس طرح جلا ڈالتی؟
متاثرہ خاندان کی ایڈوکیٹ سیما کشواہا نے کہا کہ “اگر عدالت یہ کہتی کہ متاثرہ فیملی کی جگہ کوئی بہت ہی امیر شخص ہوتا تو کیا آپ کو اس طرح جلا دیا جاتا۔ چونکہ عدالت نے ازخود اس معاملے کی نوٹس لی ہےہے ، لہذا یہ سننے میں بہت ہی حساس ہے۔ “
ہاتھرس کے ڈی ایم نے بتایا کہ رات کو اس لڑکی کا آخری رسومات ادا کرنا ان کا فیصلہ تھا۔ لڑکی کی نعش پوسٹ مارٹم کے بعد 10 گھنٹے تک دہلی میں رہی۔ گاؤں میں بھیڑ بڑھتی جارہی تھی۔ لااینڈآرڈر کے بگڑنے کا خطرہ تھا لہذا ایسا کیا گیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا فورس میں اضافہ نہیں کیا جاسکتاتھا اور آخری رسومات کے لئے صبح کا انتظار کیا جاسکتا تھا؟
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وی کے شاہی نے کہا ، “انہوں نےعدالت کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے ،اور ہم نے بھی اپنا موقف پیش کیا ہے۔” ہم نے یہ سب کن حالات میں کیا ہے؟ امن و امان کی موجودہ صورتحال کیا تھی؟ان چیزوں کی وضاحت کی ہے؟ باقی جب عدالت کافیصلہ آئے گاتب دیکھاجائے گا۔
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے متاثرہ لڑکی کی آخری رسومات کے معاملے کاازخودنوٹس لینے کے بعد اس پر سماعت کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ وہ یہ جانچنا چاہتی ہے کہ کیا یہ متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ کیا سرکاری عملے نے اس کی غربت اور اس کی ذات کی وجہ سے لڑکی کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی؟ کیاآخری رسومات میں سناتن ہندو مت کے قوانین پرعمل کیاگیا؟ کیا سرکاری عملے نے یہ سب “زبردستی” ، “غیر قانونی” اور “من مانی” کیا؟
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 21 بھی زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ اس میں مرنے کے بعد ، جسم کو “وقار” حاصل ہوتا ہے اور اسے قابل احترام سلوک کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 2 نومبر کو ہوگی۔
وی کے شاہی نے بتایا کہ فی الحال 2 نومبر کی تاریخ ہے۔ 2 نومبر کو ، اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر) اور خصوصی سکریٹری داخلہ محکمہ ، یہ دونوں افراد آئیں گے۔ عدالت نے کہا کہ باقی کسی اور کی ضرورت نہیں ہے۔

 

You might also like