Baseerat Online News Portal

اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کے لئے قانون کا غلط استعمال کیاجارہاہے:جسٹس لوکور

نئی دہلی:12؍اکتوبر(بی این ایس؍ایجنسی) سپریم کورٹ کے سابق جج مدن بی لوکور نے کہا ہے کہ آزاد صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کے لئے اس قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس لوکور نے پیر کے روز ایک لیکچر میں کہا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کا سب سے بدترین طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی شخص پر بغاوت کا الزام لگائے۔
جسٹس لوکور بغاوت کے قانون ، ممنوعہ احکامات کے غلط استعمال اور انٹرنیٹ پر مکمل پابندی کی تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استعمال کرنے اور قانون کے غلط استعمال کے ایک مہلک کاکٹیل کا استعمال کرنے والوں کی آزادی کو بری طرح متاثر کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جسٹس لوکور نے 2020 کے بی جی ورگیس میموریل لیکچر کے دوران ‘ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ – اظہاررائے کی آزادی اور مظاہرے کے حق کے بارے میں یہ تبصرہ کیا۔
اس موقع پر میڈیا فاؤنڈیشن نے خواتین کو 2019 میں شاندار صحافت کے لئے چیملی دیوی جین ایوارڈ پیش کیا۔ یہ ایوارڈ دی وائر کی عارفہ خانم شیروانی اور بنگلور کے آزاد صحافی روہنی موہن کودیاگیا ۔جسٹس لوکوروہ سپریم کورٹ کے ان چار سینئر ججوں میں شامل تھے جنہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف 12 جنوری 2018 کو پریس کانفرنس کرکے تنازعہ کھڑاکیاتھا۔

You might also like