Baseerat Online News Portal

ادھورے کاموں کی تکمیل کے لئے میں عوام کا اعتماد چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔شمیم احمد، آرجےڈی لیڈر ڈاکٹر شمیم احمد کو پھر سے امیدوار بنائے جانے پر ہر طرف خوشی

رکسول۔ 12/ اکتوبر ( محمد سیف اللہ)

سیاسی گہما گہمی اور اٹھا پٹخ کے بیچ نڑکٹیا اسمبلی حلقہ سے ایک بار پھر آرجےڈی لیڈر ڈاکٹر شمیم احمد کو ٹکٹ ملنے کے بعد اچانک سرحدی خطے کی سیاست میں غیر معمولی اچھال آگیا ہے،ان کے امیدوار بننے کی خبر سے نہ صرف پورے علاقے کی سیاست میں قابل ذکر ہلچل ہے بلکہ سیاسی ماہرین نے ابھی سے مستقبل کے نتیجے کو لے کر بحث شروع کر دی ہے،کہنے کو تو ان کے مقابلے میں این ڈی اے اتحاد سے شیام بہاری بھی امیدوار ہیں اور ان کے علاوہ کئی اور چہرے مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدوار کے طور پر اپنی قسمت آزما رہے ہیں لیکن تقریبا ہر کوئی ابھی تک یہی مان رہا ہے مقابلہ پہلے کی طرح ڈاکٹر شمیم احمد اور این ڈی اے امیدوار کے بیچ ہی ہوگا اور کامیابی عظیم اتحاد کے امیدوار کی ہوگی کیونکہ ایم ایل اے کی حیثیت سے پیچھلے پانچ سالوں کے دوران ڈاکٹر شمیم کی جو کار کردگی رہی ہے اور جس طرح انہوں نے تمام تر داخلی وخارجی دباو کے باوجود اپنے علاقے کی تعمیر وترقی اور یہاں کے لوگوں کی خوشحالی کے لئے کام کئے ہیں ان کی یادیں ابھی یہاں کے لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہوئی ہیں،عام لوگوں کو ان کا یہ کردار بھی متاثر کر رہا ہے انہوں نے اپنے جہاں اپنے کام کاج سے سماج کے ہر طبقے کو مطمئن کرنے کی کوشش کی وہیں انہوں نے بلا کسی تفریق کے سماج کے ہر فرد تک سرکاری سہولیات پہونچانے کا کام جس ایمانداری وجوابدہی سے انجام دیا وہ بہت کم جگہوں پر نظر آتا ہے،یہ بھی ان کی سیاسی سنجیدگی کا عکس ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے میں مثال بنائی اور علاقے کو امتیازی شناخت دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی یہی وجہ ہے کہ نرکٹیا اسمبلی حلقہ کی پوری فضا ڈاکٹر شمیم احمد کے نام سے گونج رہی ہے اور عظیم اتحاد سے جڑے سارے کارکنان نے ان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے مورچہ بندی شروع کر دی ہے،ادھر ڈاکٹر شمیم احمد نے بھی اپنے اسمبلی حلقے میں ہنگامی دوروں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اپنے کام کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران میں نے علاقے کی ترقی وخوشحالی اور عوامی مفادات کے لئے جو جو قدم اٹھائے وہ کافی اہم تھے لیکن اس کے باوجود میں نہیں کہ سکتا کہ ان تمام کاموں کو انجام دینے میں میں کس حد تک کامیاب رہا ہوں لیکن اگر عوام کی نگاہیں اس حقیقت کو دیکھ سکتی ہیں تو میں ان سے کہونگا کہ کچھ ادھورے کام کی تکمیل کو یقینی کے لئے مجھے پھر سے اپنے بیچ رہ کر خد مت کا موقع دیں،انہوں نے آج اس نمائندہ سے بات کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا کہ میں نرکٹیا کو پوری ریاست میں انفرادی حیثیت سے متعارف کرانا چاہتا ہوں اور اسی مشن کے تحت میں نے پچھلے پانچ سالوں میں کام کیا ہے اور مجھے اس بات کے اعتراف میں کوئی تردد نہیں کہ ابھی بھی ایسے کام کرنے باقی ہیں جن کا سیدھا تعلق عوامی مفادات سے ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر یہاں کی امن اور انصاف پسند عوام نے مجھ پر اعتبار کیا تو اس پورے خطے کا نقشہ بدلنا میری پہلی ترجیح ہوگی،انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو وعدے کر کے بھول جانے کے عادی ہیں بلکہ میں پوری سنجیدگی اور ایمانداری سے کام کرنے اور کرتے رہنے پر یقین رکھتا ہوں لیکن پھر بھی فیصلہ تو عوام کو ہی کرنا ہے تاہم مجھے بھروسہ ہے کہ عوام نرکٹیا اسمبلی حلقہ کے مفاد میں مثبت فیصلہ کرکے تاریخ بنائیں گے،انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سے آرجے ڈی نے مجھ پر اعتماد کرکے علاقہ کی خدمت کا جو موقع دیا ہے اس کے لئے نہ صرف اعلی کمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں بلکہ میں پارٹی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کرونگا،بتا دیں کہ انہوں نے اس ملاقات میں نتیش کمار کی سیاسی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے بہار کو اتنا پیچھے کر دیا ہے اب اسے ترقی کی رفتار دینا ایک چیلنج بھرا کام ہو گا ایسی صورت حال میں تیجسوی یادو کی قیادت ہی بہار کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلا سکتی ہے،کیونکہ اپنے ناقص کاموں کے سبب نتیش کمار نے عوامی اعتماد ہی نہیں کھویا بلکہ ان کے ساتھ کھلا دھوکہ بھی کیا تھا جسے بہار کے لوگ ابھی بھولے نہیں ہیں۔

You might also like