Baseerat Online News Portal

کون کررہاہے مذہب کی سیاست ؟

خبردرخبر : محمدشارب ضیاء رحمانی
مہاتماگاندھی کے یومِ شہادت پرجہاں پوراملک خراجِ عقیدت پیش کررہاتھاوہیں بھگواکنبہ کے ایک قبیلہ مہاراناپرتاپ بٹالین کی طرف سے اس پستول کی تصویرکی پوجاہورہی تھی جس سے بابائے قوم کوقتل کیاگیاتھا۔نیز آزادہندوستان کے اولین دہشت گردناتھورام گوڈسے کے مجسمہ کی بھی پوجاہوئی ۔یہی وہ قبیلہ ہے جس کے فردنے جمہوریت کے مندرمیں بابائے قوم کے قاتل کے مجسمہ کی تنصیب کامطالبہ کردیاتھا۔اورملک بھرمیں اس کے مندربنانے کی بات انہی ’’دیش بھکتوں‘‘کی طرف سے کی جاتی رہی ہے۔اب توثبوت انہیں دیش بھکتی کاپیش کرناچاہئے جن کاقومی پرچم،جمہوری آئین،سیکولراقداراورلاء اینڈآرڈرپربھروسہ نہیں ہے۔گذشتہ دوبرسوں میں جس طرح ان عناصرکی سرگرمیاں بڑھی ہیں وہ ملک کی شبیہ کوداغدارکررہی ہیں۔نفرت کے ماحول کوفروغ دے کروطن عزیزکی گنگاجمنی تہذیب کی روایت کوکمزورکیاجارہاہے۔ ہمیں حب الوطنی کے کسی ثبوت کوپیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے،ہماری مکمل تاریخ، جدوجہدآزادی کے علاوہ آزادہندوستان کی تعمیروترقی سے بھری ہے۔
پورے ملک میں ایک طرف ہندوؤں کومتحدکرکے اقلیتوں کے خلاف صف آراء کرنے کی سیاست ہورہی ہے،گؤکشی کے علاوہ بابری مسجد،بے لگام لیڈروں کے بیانات، سنگھ پریوارکی سبھائیں ،ذیلی تنظیموں کی سرگرمیاں اسی کوشش کاحصہ ہیں،دوسری طرف مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی بھرپورسعی کی جارہی ہے۔گرچہ حکومت کے لوگ دوسروں پرمذہب کی سیاست کاالزام لگاتے رہیں لیکن اصل میں یہی عناصرمذہب کی سیاست اورمذہب پرسیاست کررہے ہیں۔ نکسلی دہشت گردنہیں ہیں جب کہ آئے دن متعددریاستوں میں پولیس اہلکاران کے نشانہ بن رہے ہیں۔تمل ناڈوحکومت راجیوگاندھی کے قاتلوں کوبچاتی ہے ،ان کی رہائی کیلئے اسمبلی تجویزمنظورکرتی ہے،ان کے دفاع کیلئے سرکارسامنے آجاتی ہے ۔یہ دہشت گردوں کے تئیں نرم گوشہ کیوں نہیں ہے،بی جے پی کی اتحادی جماعت اکالی دل بے انت سنگھ کے قاتلوں کادفاع کرتی ہے لیکن یہ آتنک وادیوں سے ہمدردی نہیں ہے جب کہ دہشت گردوں کے تئیں ہمدردی کے الزام میں مسلم نوجوان گرفتارکئے جارہے ہیں۔کاپوکمیونٹی کے ریزرویشن کے مطالبہ پرآندھراپردیش جل رہاہے ،رتنانچل ایکسپریس کی آٹھ بوگیوں کونذرآتش کیاگیا،ریلوے افسران زخمی ہوئے،پولیس اہلکاروں کی پٹائی کی گئی،دولاکھ مشتعل مظاہرین پرتشددمظاہرہ کرنے لگے لیکن مالدہ کے احتجاج پرواویلاکرنے والی بی جے پی اور میڈیااس پرتشدداحتجاج پرخاموش ہے ۔اب کسی نے یہ پوچھاکہ یہ کون ساپرامن احتجاج ہے۔ پولیس انتظامیہ پریہ تشددکیوں ہضم ہوگیا۔رامپال پوری فوج تیارکرکے پولیس سے مقابلہ کریں توبھی کوئی دہشت گردنہیں کہاکرتا۔دھرم سیناکی تشکیل کرکے لاء اینڈرآرڈرکوچیلنج کیاگیالیکن’’فرضی دیش بھکت‘‘ خاموش ہیں۔دہشت گردی پریہ دوہرامعیاراورمذہبی بنیادوں پریہ تفریق کیوں ہے؟۔پوری سیاست مذہب کی بنیادپرہورہی ہے،سنگھ پریوارکی پوری منصوبہ بندی مذہب کی بنیادپرجاری ہے اورالزام دوسروں پرہے کہ وووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔ہندؤوں کوایک کرکے مسلمانوں میں گروہ بندی کاسبرامنیم سوامی کافارمولہ ہے جس پرپوراسنگھ پریوارکام کررہاہے ۔واضح ہوکہ سبرامنیم سوامی نے کہاتھاکہ ہم ہندؤں کومتحدکریں گے اورمسلمانوں میں ان کے درمیان گروہ بندی کرائیں گے۔چنانچہ کبھی وزیرداخلہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے سترفرقہ کی بات کرتے ہیں توکبھی متعددفرقوں میں بٹ جانے کاطعنہ ہمیں سنناپڑرہاہے جس کامقصدمسلمانوں کی صفوں میں انتشارہے ۔سبق ہمیں لیناہے کہ اس طعنہ پرسنجیدگی سے غورکریں،اختلاف کو راہ دینے کی کسی کوشش کوکامیاب نہ ہونے دیاجائے اوراپنی صفوں کودرست کرکے فرقہ پرستوں کے منصوبوں کوشکست دیاجائے۔ہماری صفوں میں اتحادہی ملک میں ملت کے مستقبل کاضامن ہے۔
(بصیرت فیچرس)
*مضمون نگاربصیرت میڈیاگروپ کے فیچرایڈیٹرہیں۔
رابطہ:8750258097

You might also like