Baseerat Online News Portal

سپریم کورٹ نے پنجاب، ہریانہ اور یوپی میں پرالی جلانے کی نگرانی کے لئے ریٹائرڈ جج کو کیا مقرر

نئی دہلی ،16 ؍اکتوبر( بی این ایس )
ہر سال سردیوں سے پہلے پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں کے کھیتوں میں پرالی جلانے سے ان ریاستوں سمیت دارالحکومت دہلی میںہوا کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ اس بار خود سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔ دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی سطح کے پیش نظر اعلیٰ عدالت نے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی ہے جو پرالی جلانے کی نگرانی کرے گی۔ یہ ایک ممبر کمیٹی ہے۔ مانیٹرنگ کے لئے ریٹائرڈ جسٹس مدن بی لوکور منتخب ہوئے ہیں۔ ان تینوں ریاستوں کے چیف سکریٹری جسٹس لوکور کی حمایت کریں گے۔ این سی سی / این ایس ایس اور بھارت سکاؤٹس / گائڈز کے لوگ بھی اس میں تعاون کریں گے۔ یہ کمیٹی سروے کرے گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ متعلقہ ریاستی حکومتیں اس کمیٹی کو مناسب سہولیات مہیا کریں گی۔ سیکرٹریٹ سکیورٹی اور مالی سہولیات فراہم کرے گا۔ کمیٹی 15 دن میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت 26 اکتوبر کو ہوگی۔سماعت ختم ہونے کے بعد سالیسٹر جنرل نے جسٹس لوکور کی تقرری پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہمیں کچھ اعتراض ہے، ہم درخواست داخل کریں گے ۔ سالیسٹر جنرل نے حکم جاری کرنے سے پہلے انہیں سماعت کا مطالبہ کیا ۔ تاہم عدالت نے وکیل کے مطالبے کو مسترد کردیا۔واضح رہے کہ اس معاملے میں درخواست گزار نے مطالبہ کیا تھا کہ سابق جج مدن بی لوکور کو پرالی جلانے پر قابو پانے کے لئے سپریم کورٹ میں مقرر کیا جائے۔ تاہم مرکزی حکومت نے کہا کہ ای پی سی اے کو اس معاملے میں ذمہ داری سونپی گئی ہے اور ایمیکس کیوری پہلے ہی مقرر ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس وقت مغربی یوپی میں پرالی جلانے کی سرگرمیوں کو روکنے کے انتظامات کیے جائیں۔ اسی دوران پنجاب حکومت نے کہا کہ دہلی میں آلودگی کی وجہ یہ نہیں ہے۔ پنجاب نے کہا کہ وہ عدالت کی ہر ہدایت پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ تاہم درخواست گزار نے پنجاب حکومت کی جانب سے پرالی کو روکنے کے لئے بنائی گئی ایپ پر سوالات اٹھائے، اور کہا کہ اس طرح سے ایپ کے ذریعہ پرالی جلانے پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ہے۔ فیلڈ مانیٹرنگ ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر اتفاق کیا۔ عدالت نے ہریانہ اور پنجاب حکومت کے وکلاء سے پوچھاکہ کیا ان کے پاس اتنی تعداد میں این سی سی کیڈٹ موجود ہیں جو پرالی کے مسئلے سے متعلق بیداری پھیلانے اور پرالی نہ جلانے کے لئے اپیل کرسکتے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ ہماری تشویش یہ ہے کہ دہلی این سی آر کے لوگوں کو صاف ہوا ملے اور پرالی اس میں رکاوٹ نہ بنے۔

You might also like