Baseerat Online News Portal

میڈیا جہاد کے نام سے سماج میں غلط فہمیاں پیدا کررہی ہے،مفتی ارشد فاروقی نے کہاکہ جہاد کے مفہوم کوصحیح طورپر بیان کیا جانا چاہئے

دیوبند،16؍ اکتوبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
مفتی محمد ارشد فاروقی چیئرمین فتویٰ آن لائن موبائل سروس دیوبند نے کہاکہ جہاد کا صحیح مفہوم پیش نہ کرنا اور اس کی تصویر بگاڑ نا سنگین غلطی ہے اس سے سماج میں غلط پیغام جاتا ہے ہے اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ جاری بیان میںانہوں نے کہا میڈیا میں جہاد کی تصویر کو کو بگاڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تمام مدرسوں میں اشرف الھدایہ نامی کتاب پڑھائی جاتی ہے جس میں جہاد اور قتال کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اشرف الہدایہ کسی مدرسے میں نہیں پڑھائی جاتی اور حقیقت یہ ہے کہ اشرف الہدایہ اردو میں ایک شرح ہے اصل کتاب ہدایہ ہے جو چار جلدوں میں ہے اور وہ بیشتر مدارس میں پڑھائی جاتی ہے اور اس میں جہاد اور قتال کا تذکرہ بھی ہے البتہ جہاد کا وہ مفہوم جو میڈیا بیان کرتا ہے غلط طریقے پر جہاد کی غلط تصویر کو پیش کرتا ہے جو قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا جہاد ایک انتظامی معاملہ ہے اسلامی ریاست کو کنٹرول کرنے میں امن و امان قائم کرنے اور بغاوت کو کچلنے اور حملہ آوروں سے نمٹنے نے اور شر کو دور کرنے برائی کا خاتمہ کرنے ملک کے توازن کو برقرار رکھنے فساد وبگاڑ کو مٹانے کے لیے جہاد ایک منظم طریقہ ہے جس کا تعلق اسلامی ملک کے دفاعی نظام سے ہے یہ عام قتل و غارت گری کے لیے ہرگز نہیں ہے اگر کوئی جہاد کا غلط استعمال کرتا ہے یہ اس کی غلطی ہے ورنہ جہاد کا چہرہ آئینے کی طرح صاف ہے بغیر گردوغبار کے اسے دیکھنا حقیقی تصویر نظر نہ آنا ہے اس لیے نئی نسل کو یہ پیغام دیا جانا چاہیے کہ اسلام کے جہادی نظام کو حقیقی صورتحال میں سمجھیں اور وہیں تک محدود رکھیں ذرائع ابلاغ یا کسی خاص مقصد سے جہاد کے چہرے کو بگاڑ کر کے پیش کرتے ہیں اس سے بچنا چا ہیے تاکہ اسلامی نظام کے بارے میں غلط فہمی پیدا نہ ہو نہ اور حقیقت پورے طورپر واضح رہے۔ مفتی ارشد فاروقی نے کہا جہاد کا یہ مفہوم بیان کرنا کہ کافروں کو قتل کیا جائے غلط ہے کیونکہ اسلامی نظام میں جس اسلامی ملک میں اقلیتیں آباد ہوں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو غیر مسلم اقلیتوں کی مکمل اسلام رعایت رکھتا ہے ان کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور ان کو تمام انسانی حقوق فراہم کرتا ہے اس لیے یہ اسلام کے خلاف صرف پروپیگنڈا ہے۔

You might also like