Baseerat Online News Portal

دارالعلوم دیوبند کا سب سے بڑا عیب “حقیقت بیانی” از: احمد فریدی القاسمی

دارالعلوم دیوبند کا سب سے بڑا عیب “حقیقت بیانی”

 

از: احمد فریدی القاسمی

 

دارالعلوم دیوبند کی سب سے بڑی غلطی اور خرابی یہ ہے کہ وہ “فرقان بین الحقّ والباطل” ہے۔یہی سب سے بڑی خامی اور عیب ہے۔یہ کام بند کردے تو وہ عندالاشرار بھی مقبول و محمود ہوجائے ۔ اور یہ ہوگا نہیں ۔تو شکلِ اوّل کا نتیجہ بدیہی ہے (اشرار وفتین لوگوں کی نظر میں موردِ الزام ٹھہرنا)… فرقہ نیچریہ پر بول دے تو سارے “سر سیّدی” سیخ پا ہوجائیں ۔خواہ سر سیّد فرشتوں، جنت، جہنّم، عذابِ قبر، معجزاتِ نبویﷺ، تقدیر، حوروں کے انکاری ہوں، فرقہ نیچریہ کے بانی ہوں، مودودیت پر بول دے تو سارے جماعتِ اسلامی والے میدان میں تین ٹانگ ہوتے پھریں، بدعات وخرافات پر کلام کرے تو سارے قبری مجاورین وزائرین، موجدینِ بدعات وخرافات ہڑتال کرنے لگیں ۔کیونکہ ان کے پیٹ پر “دارالعلوم دیوبند” لات مارتا ہے۔ان کی دکانیں بند کردیتا ہے۔

 

الغرض کہنے کا مقصد یہی ہے کہ “دارالعلوم دیوبند” سے لوگوں کو جو پرخاش ہے وہ اس کی حقیقت بیانی سے ہے۔چونکہ دارالعلوم شکیلیت، مودودیت، بریلویت، قادیانیت، نیچریت وغیرہ سارے فرقِ ضالّہ سے مقابل کھڑا ہے تو دجاّلی، طاغوتی توپوں کا دہانہ اسی کی طرف ہونا طے ہے۔سلمان ندوی صاحب پر دارالعلوم دیوبند نے نام لیکر نہیں ۔بلکہ “گستاخِ صحابہ” پر عام فتوی دیا ۔لیکن گستاخِ صحابہ کی جماعت سیخ پا ہوگئی ۔اور سبّ و شتم پر اُتر آئی ۔مجھے تو بس یہی عیب اس میں نظر آیا ۔باقی کوئی خامی نہیں۔

 

آخر میں ایک بات عرض کئے دیتا ہوں کہ ۱۹۸۲ء میں دارالعلوم میں جو قضیہ پيش آیا ۔اس کے پسِ منظر جو کچھ بھی ہوا ۔ان سب سے قطعِ نظر اب امّت کے سامنے دو “دارالعلوم” ہیں۔پہلے فارغین محدود ہوا کرتے تھے ۔اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ دونوں کا فیضان عام ہے۔دوریاں قرب میں تبدیل ہوگئیں ہیں ۔لیکن اس قضیے کی آڑ میں کچھ مودودی اور جماعتِ اسلامی کے لوگ “دارالعلوم دیوبند (قدیم)” پر تبراّ کرتے رہتے ہیں ۔بات بات پر دارالعلوم کو گھسیٹتے ہیں ۔ چونکہ مودودیت کے پُرزور حامی مولانا عامر عثمانی کو مولانا حسین احمد مدنیؒ نے دارالعلوم میں داخل ہونے سے منع کردیا تھا ۔اُن کی راہ بند کی تھی ۔مودودیت کے آڑے آئے تھے ۔مودودیت کی تردید میں شیخ الاسلام کے رسائل بھی ہیں۔عملی خدمات بھی۔نیز کئی سال پہلے “دیوبند” میں جماعتِ اسلامی کا ایک بڑا جلسہ ہوا چاہتا تھا تو بھی “دارالعلوم دیوبند کی جامع رشید” میں مولانا سیّد ارشد مدنی حفظہ اللہ کا تردیدی بیان ہوا تھا ۔نتیجۃً وہ جلسہ نا ہوسکا ۔احباب اس سے واقف ہیں۔سو اسی بناء پر “مدنی خاندان” جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے چُبھتا ہے۔وہ طرح طرح کے بہانوں سے “مولانا مدنی اور دارالعلوم دیوبند” پر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں۔ کبھی حکیم الاسلام قاری طیب صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند کی آڑ لیکر اپنا مافی الضمیر ادا کرتے ہیں۔سبّ وشتم کرتے ہیں۔تو کبھی جمعیت کے بہانے لپیٹتے ہیں ۔خیر ۔آپ ایسے لوگوں سے محتاط رہیں ۔”دارالعلوم دیوبند” “آزادی کا خاموش رہنما” تھا۔اب بھی رہبر وقائد ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کی دھڑکن ہے۔حق وباطل کو عیاں کرنے والی کسوٹی ہے۔کسی خاندان کی جاگیر نہیں ۔علماء اہلِ السنۃ والجماعۃ کا قلعہ ہے۔مرکز ہے۔امّت پر کبھی بھی کوئی مسئلہ آئے تو آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے والا “دارالعلوم” ہی ہوگا ۔بس آپ فتین و اشرار کی چکنی چپڑی،، بے سر و پا، اونٹ پٹانگ باتوں سے احتراز کریں ۔علماء پر سبّ وشتم سے باز رہیں ۔کیونکہ علماء دشمنی، بغض وعناد زہریلی اور انتہائی مُہلک ہوتی ہے۔ کسی کا قول ہے:

“لحوم العلماء مسمومۃٌ” (علماء کی غیبت بدگوئی زہریلی ہوتی ہے)… نیز خدائی اعلانِ جنگ بھی…

“من عادیٰ لی ولیاًّ فقد آذنتہ بالحرب”

(جو میرے کسی عالم، ولی سے دشمنی، بغض رکھےگا تو میں (خدا) اس کے خلاف اعلانِ جنگ کردیتا ہوں)

مصائب کو دعوت دینے بچئے ۔اور سبّ و شتم سے پہلے حقیقت آشکار عینک کا استعمال کیا کیجئے۔بھکتی کی عینک اتار کر رکھ دیجئے ۔اللہ تعالی علماء دشمنی سے محفوظ فرمائے: آمین

 

احمد فریدی القاسمی

۲۹ صفر ۱۴۴۲؁ھ بروز شنبہ

۱۷ اکتوبر ۲۰۲۰؁ء

You might also like