Baseerat Online News Portal

ڈاکٹر فیاض احمد اور ان کا حلقہ انتخاب بسفی

از :محمد اللہ قیصر قاسمی

الیکشن کا بگل بج چکا ہے، ٹکٹ کی تقسیم ہو چکی ہے، جوڑ توڑ، روٹھنے منانے کا سلسلہ جاری ہے، کوئی ضمیر بیچ رہا ہے کوئی ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر اپنے منافع و مصالح کی قربانیاں دے رہا ہے، کسی کو قوم اور سماج کا مفاد عزیز ہے تو کسی کا ذاتی مفاد ہر چیز سے بر ترو بالا، یہ صورت حال صوبائی سطح سے لیکر علاقائی سطح تک عام ہے، نچلی سطح پر کچھ لوگ اور نیچے گر رہے ہیں،
مدھوبنی کے اسمبلی حلقہ بسفی میں بھی یہی سب نظر آرہا ہے، جہاں ایک دہائی سے آر جے ڈی کے ہردلعزیز، ایماندار اور محنتی لیڈر، ڈاکٹر فیاض احمد ممبر اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں، جن کو بجا طور پر” سیلف میڈ مین” کہا جاتا ہے، انہوں نے ایک متوسط، معزز خاندان میں آنکھیں کھولیں، تعلیم کو ترقی کا زینہ بنایا اور اس کے سہارے دولت، شہرت ، عزت انہیں ورثہ میں نہیں؛ بلکہ اپنی محنت اور لگن سے ملی ہے، وہ اپنے دھن کے بڑے پکے ہیں،جس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اسے وہ اپنا مشن بنا لیتے ہیں، اور اس کی تکمیل پر ہی سانس لیتے ہیں، عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد سے ہی وہ عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں، سماج کے دبے، کچلے، غریب و نادار لوگوں کی خدمت کے خداداد جذبہ نے انہیں میدان سیاست کی شہسوای سے بہت پہلے ہر دلعزیز بنادیا تھا، وہ سب کی نظر میں “نگہ بلند، سخن دلنواز، جان پرسوز” سے لیس، ایسے عظیم میر کارواں ہیں، جو قافلہ کے ہر شریک کی خدمت میں خدا کی رضا کا متلاشی ہے، جس کے رگ و ریشے میں بالخصوص غریب، مزدور، بے کس و بے بس اور نادار لوگوں کی ہمدردی خون بن کر دوڑتی ہے، اب بھی لوگوں کے ذہن پر ان کی “نرم خوئی و نرم گفتاری” کا راج ہے، صرف یہی نہیں کہ ان کی شخصیت پر اثر ہے اسلئے لوگ انہیں چاہتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام نے جن امیدوں کے ساتھ ان کا انتخاب کیا اس پر وہ صد فیصد کھرے اترے، ان کی نمائندگی میں بسفی کی چوطرفہ ترقی نے بلا تفریق مذہب و ملت لوگوں کو ان کا گرویدہ بنا دیا ہے، ممبر اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ان کے اندر پہلے سے موجود عوامی خدمت کے جذبہ کو گویا پر لگ گئے، بسفی کی ترقی کو انہوں نے اپنا مشن بنا لیا نتیجۃً بسفی کی چو طرفہ ترقی ہوئی.
ان کے ترقیاتی کاموں کا صحیح اندازہ تبھی ممکن ہے جب آپ دس سال قبل بسفی کے پچھڑے پن سے واقف ہوں، جی ہاں، دس سال قبل بسفی کا شمار صوبہ بہار کے سب سے پسماندہ علاقہ میں ہوتا تھا، سڑک، بجلی، تعلیم سب ندارد،
کسی جگہ کی ترقی کا انحصار “اچھی سڑک” پر ہوتا ہے، اس کارگہِ حیات کی تمام دوڑ دھوپ اور ہر طرح کی عملی سرگرمیاں،سڑکوں سے ہی شروع ہوتی ہیں، سڑکیں اچھی ہوں گی تو تجارت کے مواقع بڑھیں گے،تعلیم اور طبی خدمات کا معیار بھی بلند ہوگا، اچھے اسکول کھلیں گے، ایمرجنسی کی حالت میں مریض کو جلد از جلد ہاسپیٹل پہونچانا ممکن ہوگا؛
لیکن بسفی کے لوگ اس اہم ترین؛ بلکہ ترقی یافتہ زندگی کے شہ رگ سے ہی محروم تھے، گاؤں میں کچی سڑکیں، ٹوٹی پگڈنڈیاں، برسات اورسیلاب میں سڑک پر چھوٹے چھوٹے گڈھےاور اس میں پانی جاؤں سے چلنا دشوار ہوجاتا تھا، عام دنوں میں انہیں کھنڈر کہیں یا سڑک تمیز ناممکن تھا، کتنے ہی مریضوں کو کھاٹ پر لے جاتے ہم نے اپنی آنکھوں سے د یکھا یے، ایمرجنسی کی حالت میں مریضوں کی اموات روز مرہ کی خبر تھی، سب سے بڑی مصیبت حاملہ خواتین کیلئے تھی، ان کو عام حالات میں بھی شہر تک لے جانا انتہائی دشوار تھا، ایمرجنسی کی صورت میں انہیں سڑکوں سے گذارنا موت سے کھیلنے کے مترادف تھا، کئی اموات ہو چکی ہیں؛ لیکن کیا کریں لوگ جانے پر مجبور تھے، اس ترقی کے دور میں قربت کے باوجود ایک گاؤں دوسرے سے صرف پگڈنڈیوں کے سہارے جڑا تھا.
آئے دن حادثات رونما ہوتے، کہیں بس پلٹ گئی، کہیں جیپ، یہی روزانہ کی خبریں تھیں، جی ہاں دس سال قبل بسفی کی یہی حالت تھی۔
زندگی کی مشین کیلئے بجلی کو وہی اہمیت حاصل ہے جیسے جسم میں خون کو،
پورا بہار بجلی سے مستفید ہورہا تھا، جبکہ بسفی میں اندھیرے کا بسیرا تھا، بالخصوص مسلم اکثریت علاقہ ،کٹھیلا، دملہ، گڑھیا، اسراہی پروہی، پتونا وغیرہ میں بجلی کا تصور ناممکنات کے زمرے میں آتا تھا، بجلی کی عدم فراہمی صرف طلبہ کے لئے دشواری کا سبب نہیں تھی، بلکہ ان کے ساتھ دوکاندار، کسان، مزدور سب کو جس پریشانی کا سامنا تھا وہ ناقابل بیان ہے، کسی علاقہ کے پچھڑے پن کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہاں بجلی نہیں ، درحقیقت اس علاقہ کو بجلی سے محرومی نے ہی، صوبہ کے بدترین پچھڑے ہوئے علاقوں کی صف میں کھڑا کردیا تھا،
اچھی سڑک اور بجلی سے محرومی کے سبب تعلیم و تعلم کے علاؤہ جدید طبی سہولیات اور مقامی تجارت کے مواقع کس قدر متاثر ہوتے ہیں وہ بالکل واضح ہے، کوئی بھی ذی ہوش سمجھ سکتا ہے، سرکاری اسکولوں کے علاؤہ کوئی اچھا اسکول نہیں تھا، چاہ کر بھی لوگ ہمت نہیں جٹا سکتے تھے،کہ تمام سہولیات سے آراستہ کوئی نیا اسکول شروع کریں، اگرچہ ابھی بھی اس کی شدید کمی ہے؛ لیکن سڑک اور بجلی آنے کے بعد لوگ اب اسکولوں میں سرمایہ کاری کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں ، امید ہے کہ مستقبل قریب میں یہ سلسلہ دراز ہوگا، اچھے اسکول کھلیں گے اور علاقہ کی شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا-ان شاء اللہ-
جدید طبی سہولیات سے آراستہ ہاسپیٹل کا تصور تبھی ممکن ہے جب ٹرانسپورٹیشن کا نظام مضبوط ہو، بجلی ہو، تجارت کی ترقی کیلئے تو یہ دونوں سہولیات روح کی حیثیت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مقامی تجارت میں پہلے کے مقابلہ 70 سے 80 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے، اب بڑی سے بڑی ضروریات کی خرید کیلئے دربھنگہ، مدھوبنی جیسے شہروں پر انحصار نہیں رہا، آپ کے جائے وقوع سے پانچ کلو میٹر کے اندر سب کچھ فراہم ہے، ہارڈویئر، کنسٹرکشن، میکینک، اور الیکٹرانکس کے سامان، شوروم،سب کچھ آپ کے قریب دستیاب ہے، ہر انسان چاہتا ہے کہ اپنے گھر سے قریب ترین جگہ پر روزی روٹی کا انتظام ہو جائے، موقع نہیں ہوتا ہے تو ہزاروں کیلومیٹر کا سفر کرنے وہ پر مجبور ہوجاتا ہے، دس سال قبل جس کو دیکھو روزی روٹی کیلئے دہلی، ممبئی، کلکتہ جیسے بڑے شہروں کا رخ کر رہا ہے، آج صورت حال یہ ہے کہ لوگ اپنے علاقہ میں سہولیات دیکھ کر یہیں تجارت کے مواقع تلاش رہے ہیں، یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ لوگ اب شہروں کا رخ بالکل نہیں کرتے یا اس میں بڑی کمی آئی ہے ،البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ لوگ پہلے کی طرح مجبور نہیں ہیں، اب یہاں بھی مواقع دیکھ کر خوش ہیں،
اس مختصر گفتگو میں بسفی کی مجموعی صورت حال کا اندازہ لگ گیا ہو گا کہ آج سے دس سال قبل بسفی کتنا پسماندہ علاقہ تھا، آج بسفی کی حالت پہلے کے مقابلہ بالکل بدل چکی ہے، ہر گاوں اور گلی میں اچھی سڑکیں ہیں، پگڈنڈیاں پکی سڑکوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، سڑکوں پر کھنڈرات کا تصور نہیں، ہر گاوں میں بجلی ہے نتیجۃً اچھے اسکول بھی کھل رہے ہیں، قریبی جو لوگ پہلے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے دلی ممبئی لے جانے پر مجبور تھے وہ اب اپنے گاؤں میں اچھی تعلیم دلوا سکتے ہیں،طبی سہولیات میں اضافہ ہوا ہے، بسفی ہاسپیٹل کی حالت دوسرے حلقوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے، پرائیوٹ ہاسپیٹل بھی کھلنے لگے ہیں
اب سوال ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں اس تبدیلی کے پیچھے کون ہے؟ کس کی توجہ سے یہ ساری سہولیات مہیا ہوئیں اور ہو رہی ہیں؟ بسفی کی شکل کیسے بدلی؟ اس کایا پلٹ کے پیچھے کس کی محنت، کس کی توجہ،کس کی فکر ہے؟ سرکار یں پہلے بھی ہوتی تھیں، ایم ایل اے پہلے بھی منتخب ہوتے تھے، لیکن حالت اتنی خراب کیوں تھی؟ لوگ سہولیات کو کیوں ترستے تھے؟ اگر یہ سارے سوالات اٹھائے جائیں تو جواب خود بخود ملے گا کہ پہلے کے لوگوں نے خود کو بنانے پر توجہ دی اور موجودہ لیڈر نے اپنے حلقہ کی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کی، یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے بلا تفریق مذہب و ملت ان کو دل کھول کر ووٹ دیا،
اس کے علاؤہ ڈاکٹر فیاض احمد کی شخصیت بھی بالکل غیر مختلف فیہ اور ہر کسی کیلئے قابل قبول ہے، وہ ہر کسی کیلئے یکساں طور پر مفید ہیں، انہوں نے کبھی مذہب کی بنیاد پر کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا، بلکہ پسماندگی کو بنیاد بناکر ہر حلقہ کی ترقی کو اپنا نصب العین بنایا، اگر کسی غریب کی مدد کرتے ہیں، تو مذہبی بنیاد پر نہیں؛ بلکہ اس کی ضرورت مندی اور احتیاج کو پیش نظر رکھ کر، وہ پسماندگی، اور پچھڑے پن سے نفرت کرتے ہیں، کسی شخص سے نہیں، اگر آج انہیں محنت اور ایمانداری کی جیتی جاگتی تصویر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، آج کی سیاست میں رشوت خوری ایسے عام ہے جیسے صاحب منصب کا وہ حق ہو، اور غضب ہے کہ عوام نے بھی اس گندگی کو قبول کرلیا یے، وہ کھلے یا دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ “تھوڑا کھا ہی لیا تو کیا ہوا”، ڈاکٹر فیاض احمد کے متعلق صد فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے یہاں رشوت خوری، اور ترقیاتی کاموں میں اپنا “حصہ” متعین کرنے کا تصور نہیں ہے، یعنی “حرام خوری” سے کوسوں دور ہیں، دور حاضر میں کسی سیاسی لیڈر کی یہ خوبی اس کی ہزاروں خوبیوں پر بھاری ہے، اگر کسی میں ہزار خرابیاں موجود ہوں لیکن وہ “حرام خوری”اور “رشوت خوری” سے بچتا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کو منتخب کرنے کیلئے یہ وجہ کافی ہے، کچھ اور دیکھنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ “رشوت خوری” لاتعداد برائیوں کی “ماں” ہے اگر وہی نہیں تو وہ فطری طور پر اس کی کوکھ سے جنم لینے والی برائیاں بھی نہیں ہوں گی، سنجیدگی، بردباری، اور متانت ان کو ورثہ میں ملی ہے، اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی ان کی گفتگو اور سلوک “باہمی احترام” کے “آفاقی”اصول پر مبنی ہوتا ہے، جسے آج کی “دبنگئی”والی سیاست میں کمزوری تصور کیا جاتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ “دبنگئی” پر شرافت ہمیشہ فائق رہتی ہے، “نرم دم گفتگو گرم دم جستجو” دلوں میں بستا ہے، جبکہ ہردم اپنے ماتحتوں اور ورکروں پر گرمی دکھانے والا قوت ختم ہوتے ہی منظر سے غائب ہوجاتا ہے، اس کا وجود اور اس کا اثر وقتی ہوتا ہے، جبکہ شرافت کو اپنی تعویذ بنانے والے کا اثر دائمی ہوتا ہے۔ سماج کے نادار اور کمزوروں سے ہمدردی اور ان پر خصوصی توجہ ڈاکٹر فیاض احمد کی خاندانی روایت ہے، ، غریب امیر، ہر کسی سے مسکرا کر ملنا، ان کی پریشانی سن کر حل کرنے کوشش کرنا، یہ سب ان کا خاصہ ہے، کسی پریشان حال کی مدد کرنے میں ان کا اصول یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے، انسان کے ظاہری اعمال سے اس کے باطنی کیفیت کا پتہ چلتا ہے، ایک طرف سیاست کی گہما گہمی، بھاگ دوڑ بھری زندگی جس میں انسان روزمرہ کے ضروری کام سے بھی چوک جاتا ہے، لیکن اس شخص کا کمال یہ دیکھا گیا ہے کہ پنج وقتہ نماز اور صبح میں قرآن کی تلاوت سے کبھی غفلت نہیں ہوپاتی، دن بھر کے کاموں کا آغاز تبھی ہوگا جب یہ اپنی مقررہ تلاوت مکمل کرلیں گے، راستہ میں نماز کا وقت ہو جائے تو گاڑی آگے تبھی بڑھے گی جب نماز مکمل کرلیں،
جواب دہی کا احساس انسان کو بے شمار برائیوں سے روکتا ہے، عوام کے سامنے جواب دہی اور قانونی مؤاخذہ کا خوف صرف ظاہری گناہوں سے روکتا ہے، اس میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ تنہائی کے گناہ سے انسان کو روک دے، کیوں کہ ایسے شخص کا شاطر دماغ اسے کوئی نہ کوئی راستہ دکھا دیتا ہے جس سے وہ قانونی چنگل سے خود کو بچا سکے، اور عوام کی حمایت پھر سے حاصل کرلے، لیکن اگر یہ احساس ترقی کرکے یہاں تک پہونچ جائے کہ خدا کے سامنے اسے کھڑا ہونا ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے تو وہ تنہائی اور چھپ چھپا کے کرنے والی بد اعمالیوں سے بھی محفوظ رہتا ہے،ایسا انسان ظاہری گناہوں کے علاؤہ تنہائی کی لغزشوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔
ہم نے ڈاکٹر فیاض احمد کی عوامی اور ذاتی گفتگو میں محسوس کیا ہے کہ انہیں اپنے رب کے سامنے مواخذہ کا خوف ہے، بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی لغزشوں پر سر عام معذرت کا اظہار اسلئے کرتے ہیں کہ اگر آپ ہماری غلطیوں کو درگزر نہیں کرتے تو خدا کے سامنے مجھے جواب دینا ہوگا، ایسی نیک خو طبیعت کے مالک سیاست دان آج کل نایاب ہوتے ہیں، جس کے اندر یہ احساس زندہ ہو کہ “رشوت خوری” “کام میں”بد دیانتی” ضرورت مندوں کے مابین مذہبی بنیادوں پر تفریق، اور تعصب و تنگ نظری پر اس دنیا میں مواخذہ ہو نہ ہو اللہ کے سامنے مواخذہ ضرور ہوگا، لہذا ان سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہئے، ان کا یہی احساس انہیں سیاست دانوں کی بھیڑ میں ممتاز کرتا ہے

حالیہ الیکشن 2020 میں ان کے مقابلہ ایک ایسے شخص کو میدان میں اتارا گیا ہے جس کی شدت پسندی مشہور زمانہ ہے، جس کا سماجی کیریکٹر سب کی نظر میں ہے، اور مسلمانوں کے تئیں ایک نہیں انیک بار وہ اپنی شدت پسندی کا اظہار کر چکا ہے، گویا یوں کہئے کہ اس کے حصولیابیوں کا جائزہ لیں تو سوائے مسلم مخالف ذہنیت، اور شدت پسندی کے کچھ نظر نہیں آتا، اور بدقسمتی یہ ہے کہ شدت پسندی کا شمار اب “خصوصیات” میں ہونے لگا ہے، آج کل ایک معیار بن گیا ہے کہ اگر آپ مسلمانوں کی امن پسندی کا فایدہ اٹھاتے ہوئے ان کی تذلیل وتحقیر کرتے ہیں تو اکثریتی ووٹ آپ کی جھولی میں بڑی آسانی سے آسکتا ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی سچائی ہے کہ شرافت، محبت، امن پسندی، سماجی ہم آہنگی ،رواداری، اور بھائی چارگی اپنا لوہا منوا کے رہتی ہے، اسے کوئی زیر نہیں کرسکتا، ہمیں یقین ہے کہ اس الیکشن میں بھی جیت “ترقی پسندی” “سماجی ہم آہنگی” اور آپسی بھائی چارے کی ہوگی، اور ثابت ہو جائے گا کہ ڈاکٹر فیاض صاحب کل بھی ہر دلعزیز تھے، آج بھی ہیں، اور آگ کی گرمی چاہے جتنی شدت اختیار کرلے، پانی کی ٹھنڈک اسے نست و نابود کرہی دیتی ہے۔

You might also like