Baseerat Online News Portal

نرکٹیا اسمبلی حلقہ کی سیاست دلچسپ موڑ کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، امیدواروں کی جد وجہد جاری، مگر عوام کا غیر واضح رخ سب کے لئے پریشان کن

رکسول۔17/ اکتوبر ( محمد سیف اللہ)

ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول اور نرکٹیا اسمبلی حلقہ کی سیاست نہ صرف دن بدن دلچسپ موڑ کی طرف بڑھتی جا رہی ہے بلکہ آئے دن یہاں کی سیاسی گلیاریوں سے جس طرح کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اس نے ہر طبقے کو اپنے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کے لئے مجبور کر رکھا ہے کیونکہ یہاں کی سیاسی گرمیوں کی اگر بات کی جائے تو نرکٹیا اسمبلی حلقہ سے موجودہ ایم ایل اے اور عظیم اتحاد کے امیدوار ڈاکٹر شمیم احمد اور این ڈی اے امیدوار شیام بہاری پرشاد نے ہنگامی انداز میں اپنے حق میں ماحول سازی کے لئے رابطہ مہم شروع کر رکھا ہے اور خوشگوار نتیجے کے حصول کے لئے الزام وجوابی الزام کے سہاروں کے ساتھ عوام کو بڑے بڑے سنہرے خواب بھی دکھائے جارہے ہیں،ہمیشہ کی طرح امیدواروں کی ٹولی ان دروازوں تک پہنچ رہی ہیں جن کا کل تک کوئی پرسان حال بھی نہیں تھا دلچسپ بات تو یہ ہے آج ووٹ کی لالچ میں چمچماتی گاڑیوں پر ان لوگوں کو بھی جگہ ملتی دے رہی ہے جنہوں نے سیاست دانوں کی اندیکھی کے سبب لاک ڈاون اور تباہ کن سیلاب کے دوران خود کو موت کے منہ سے باہر آتے دیکھا تھا اور جو دور دراز شہروں سے بے یار ومدد گار پیدل ہی اس امید میں اپنے گھر کے لئے نکل پڑے تھے کہ ان کے نمائندے ان کا سہارا بن کر مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی جان بچانے کے لئے آگے آئیں گے لیکن دور دور تک کوئی ان کا پرسان حال نہ تھا،آپ کو یہ بات بھی حیرت میں ڈال دے گی کہ آج جن کے گھروں میں فاقہ کشی کے سبب چولھے بھی نہیں جلتے ان کو آسمان کی سیر کرانے بات کی جارہی ہے اور انہیں خواب وخیال کی اس گہرائی تک پہونچایا جا رہا ہے جہاں سے شاید ان کے لئے واپس لوٹ کر آنا بھی مشکل ہو،غرض یہ کہ کامیابی کے خمار میں ڈوب کر عوام کو اپنے سے قریب کرنے کی وہ تمام چالیں چلیں جا رہی ہیں جو ہمیشہ کے انتخابی موسم میں دیکھا جاتا رہا ہے بس فرق یہ ہے کہ کل تک بات علاقے کی ترقی وخوشحالی کی ہوتی تھی اور اب باتوں کا دائرہ وطن پرستی پر آکر ٹھہر گیا ہے اسی مدعے پر جہاں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں ووٹ مانگ رہی ہیں تو عظیم اتحاد نے اسی معاملے میں ان کا گھراو کرکے ماحول کو اپنے حق میں کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ایسی صورت حال میں یہاں کا انتخاب کس قدر دلچسپ ہوگا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں،آپ کے لئے یہ جاننا بھی دلچسپ ہوگا کہ تعلیم،صحت،بجلی پانی،سڑک روزگار اور امن وعافیت جیسے مدعوں کو اتنی خاموشی سے پردے کے پیچھے چھپا دیا گیا ہے کہ نہ تو امیدوار اس میں دلچسپی لے رہے ہیں اور نہ ہی عوام کی اکثریت ان سب باتوں پر اپنے امیدواروں کو سننا پسند کر رہی ہے بس ہر طرف خیالی باتوں کا دور دورہ ہے اور ان ہی سب میں عوام کو الجھا کر میدان سر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے،لیکن سچ کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ عوام نے تمام تر اتار چڑھاو کے باوجود ابھی تک اپنے اعتماد کی لڑی کو ڈاکٹر شمیم احمد کے ساتھ شاید اس لئے جوڑ رکھا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے بھیانک منظر نامے میں جب کہ سارے بڑے لیڈران اپنے اپنے گھروں میں روپوش ہر کر عوام کی بربادی کا تماشا دیکھ رہے تھے ڈاکٹر شمیم احمد نے پوری جرات وحوصلہ مندی کے ساتھ خود کو عوام کے بیچ کھڑا رکھا تھا اور ان کے درد کو اپنا درد سمجھ کر اس کا علاج ڈھونڈنے کے لئے اپنی صلاحیت بھر جد وجہد کی تھی،ان کا یہی وہ طرز عمل تھا جس نے بلا تفریق ہر طبقے کے دلوں کو ان کی طرف موڑ رکھا ہے اور یہاں کے لوگ انہیں ایک مسیحا کے روپ میں دیکھ کر ایک بار انہیں اپنی خدمت کا موقع دینا چاہتے ہیں،اب آئندہ کیا ہوگا اس پر ہر کسی کی نگاہ ٹکی ہوئی ہے۔

You might also like