Baseerat Online News Portal

جالے کے امیدوار مشکور عثمانی کو جناح وادی کہنا گندی ذہنیت کا ثبوت۔ ۔۔۔۔۔ ، سماجی کارکن نشاط احمد نیازی کا رشی مشرا کے بیان پر شدید رد عمل

 

جالے ۔17/ اکتوبر ( پریس ریلیز )

کانگریس پارٹی کی جانب سے جالے اسمبلی حلقہ کے لئے نامزد امیدوار اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈینٹ یونین لیڈر مشکور عثمانی سے متعلق کانگریسی لیڈر رشی مشرا کے تبصرے پر جہاں مقامی مسلمانوں نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے وہیں ہندوستان ہارڈ ویئر اینڈ الکٹرانک کے مالک نشاط احمد نیازی نے ان کے بیان کو مسلمانوں کے تئیں ان کی گندی ذہنیت کا ثبوت قرار دے کر واضح الفاظ میں مشکور عثمانی کو جناح وادی کہے جانے کی مذمت کی ہے،سماجی کارکن اور جالے میں سی اے اے مخالف تحریک کے روح رواں میں سے ایک رہے نشاط احمد نے کہا کہ پارٹی کے ذریعہ امیدوار بنائے گئے شخص پر رشی مشرا جیسے شخص کا تبصرہ ٹکٹ نہ ملنے کے سبب ان کی بوکھلاہٹ کو واضح کرتا ہے ساتھ ہی اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوڈسے گیری کے چکر میں انہوں نے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کا ہنر بہت اچھی طرح سیکھ لیا ہے،لیکن انہیں یہ بھولنا چاہئے کہ مشکور عثمانی کے کردار کو مشکوک بنانے اور جالے اسمبلی حلقے میں ان کی حیثیت کو کمزور کرنے کی جو پالیسی بنائی ہے اسے کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا کیونکہ پورا جالے خود رشی مشرا کی کمزوری سے اچھی طرح واقف اور ان کے نظریات کو جانتا ہے،نشاط احمد نے کہا کہ مشکور عثمانی نے نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے مگر پارٹی لیڈروں کے ذریعہ بھیجے گئے امیدوار پر منفی تبصرہ اس لئے بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ جو چیز سوشل میڈیا کے توسط سے پھیلا رہے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں ہے بلکہ ان سے جڑی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے مسلمانوں کے تئیں علاقے میں نفرت پھیلا کر یہاں کے پر امن ماحول کو داغدار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ رشی مشرا کا ڈاکٹر مشکور عثمانی کو جناح وادی کہنا ایک ایسی سوچ کا نتیجہ ہے جس میں مذہبی نفرت وتعصب پوشیدہ ہے اور وہ اپنے عمل کے ذریعہ عوامی حمایت چاہتے مگر انہیں جان لینا چاہئے کہ موجودہ نسل وہ نہیں ہے جو ایسے فتنہ پرور لوگوں کے جھوٹے پروپگنڈے پر یقین کر لے گی بلکہ ہم ایک ایسے پڑھے لکھے سماج کا حصہ ہیں جو سب سمجھتا ہے،انہوں نے کہا کہ مشکور عثمانی ایک نہایت سنجیدہ شخص ہے جنہوں نے ہمیشہ گاندھی جی کے نظریات کو اپنی زندگی کا مشن بناتے ہوئے نئی نئی نسل کی قیادت کا فرض نبھایا ہے اور سڑکوں سے کے کر گلیوں تک میں ملک کے سیکولر کردار کے تحفظ کو یقینی بنائے رکھنے کی جد وجہد کی ہے،ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سچ کو سچ کہنے کے لئے ملک دشمن عناصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی شاید ان کی یہی وہ خوبی ہے جو فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتی رہی ہے جس کی وجہ سے جالے کے سابق کانگریسی ایم ایل اے نے ان کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر رشی مشرا کے اندر سچ کا سامنا کرنے کی ہمت ہے تو انہیں سیدھی بات چیت میں نوجوان لیڈر مشکور عثمانی کا سامنا کرنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ مشکور صاحب کو جناح وادی کہنا ان کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کرنے کے مترادف ہے جسے میں نہ صرف قانونی جرم مانتا ہوں بلکہ یہ بھی صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ جناح نہ تو کبھی مسمانوں کے آئیڈیل رہے اور نہ ہی مسلمانوں نے کبھی ان کو اپنا راہنما مانا اس لئے مسلمانوں پر ملک کی تقسیم کا ٹھیکڑا پھوڑنا حقیقت سے منہ موڑ لینے جیسا ہے،انہوں نے کہا کہ گاندھی کے نظریات کی بات کرنے والے رشی مشرا کی زبان سے گودسے وادی خیال کا نکلنا ان کی دوہری پالیسی کا ترجمان ہے جس کی قیمت سیاست کی پچ پر انہیں آنے والے دنوں میں اٹھانی ہوگی۔

You might also like