Baseerat Online News Portal

اویسی صاحب سے چند سوالات

عبدالعزیز
اویسی صاحب نے ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ آرجے ڈی اور کانگریس کا محاذ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ہرانے میں نا کام رہا اس لیے وہ تیسرے محاذ میں شامل ہوئے ہیں۔ تیسرے محاذ میں جو پارٹیا ں شامل ہوئی ہیں جن کا بہار سے تعلق ہے وہ پارٹیاں ہیں جن کو دونوں محاذ وں میں یعنی بے جی پی کی سر براہی والے محاذ یا عظیم اتحاد میں جگہ نہیں ملی ان میں سب کی سب کاغذی پارٹیاں ہیں۔ یہ پارٹیا ں ایک مسلم پارٹی جس کے سربراہ جناب اسدالدین اویسی ہیں مسلمانوں کے ووٹ بٹورنے کے لیے شامل ہوئی ہیں ۔اویسی صاحب جس محاذ میں ہیں وہ صرف بی جے پی محاذ مخالف ووٹ بٹورنے کی کوشش کریں گے ۔
میرا سوال نہایت ادب سے اویسی صاحب سے ہے کہ کیا آپ بی جے پی کو فائدہ نہیں پہنچا ئیںگے؟ جیسے مہاراشٹر میں فائدہ پہنچایا تھا آپ دوسیٹوں پر کامیاب ہوئے تھے آپ کی وجہ سے بی جے پی کو پچیس سیٹوں پر فائدہ ہو ا تھا۔ کیا آپ وہاں بی جے پی محاذ کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے ؟ آج کانگریس اور این سی پی کی وجہ سے مہاراشٹر میں غیر بی جے پی حکومت ہے یا آپ کی دو سیٹوں کی وجہ سے ہے؟ اگر بہار میں دوچار سیٹوں پر کامیاب ہو گئے تو کیا آپ چار پانچ ایم ایل اے سے بہار میں غیر بی جے پی سرکار بنا سکیں گے ؟ کیا آپ وہی کچھ کر نے نہیں جارہے ہیں جو مہاراشٹر میں کرچکے ہیں؟ تلنگانہ میں آپ کی کیا حالت ہے اسمبلی میں آپ کے بھائی اکبر االدین کوبسا اوقات بولنے تک نہیں دیا جا تا محض اس لیے کہ ٹی آریس کی حکومت کوآپ کے سات ایم ایل اے سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ ٹی آر ایس کے سربراہ کے سی آر آپ یا آپ کی پارٹی سے کہیں زیادہ مودی جی اور بی جے پی سے قریب ہیں ۔موصوف( کے سی آر) پارلیمنٹ میں بی جے پی کا ساتھ دیتے ہیں۔ آپ پھربھی ان کے محاذ کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ آپ ان سے علیحدہ ہو نے کے لیے سوچتے بھی نہیں بلکہ کے سی آر کا گن گاتے رہتے ہیں آخر کیا وجہ ہے؟
ا پندرا کشواہا بہار کے ایک تیسرے محاذ کے لیڈر اور وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہیں ساٹھ سال و کشواہا نتیش کے بہت قریبی رہنے والے شخص کانام ہے بار بار ان سے جدا ہوئے آور باربار قریب ہوئے نتیش کے ساتھ 2015میں عظیم اتحاد کا بھی حصہ رہے ۔کشواہا کی سر براہی میں جو محاذ بنا ہے۔ جناب اسدالدین اویسی کی دوبھائیوں و الی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین بھی اس کا ایک حصہ ہے ۔
اسدالدین اویسی کو ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وہ مین اسٹریم میں شمولیت کا موقع مل گیا۔ اس محاذ کوچھ سات یا دو چار سیٹوں پر کامیابی مل سکتی ہے مگر یہ محاذ کس کے لیے زیادہ سودمند ہوگا‘ کہنا مشکل ہے ۔مگر بی جے پی کے محاذ کو فی الحال فائدہ پہنچا ئے گا کیونکہ مسلمانوں کا ووٹ بھی تھوڑا بہت اویسی صاحب کی وجہ سے اسے مل سکتا ہے ۔غالب گمان ہے کہ کشواہا نتیش کے سیاسی اتحاد کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں آئی ایم ایم ایم کے دو چار امیدوار جو کامیاب ہوںنگے وہ الگ ہوسکتے ہیں ۔پھر یہ سیکولر جمہوری محاذ کا خا تمہ بالخیر ہو جائے گا ۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے یہ بی جے پی کا دوسرا چراغ (چراغ پا سوان) ثابت ہو گا جو کہہ رہا ہے مودی سے بیر نہیں ،نتیش تیری خیر نہیں۔ دوسرے چراغ کا تو کوئی نعرہ نہیں ہے ۔مگر معنوی طور اس کا پوشیدہ نعرہ یہ ہوسکتاہے ’نتیش سے کوئی بیر نہیں تیجسوی تیری خیر نہیں ‘۔ ان چراغوں میں روشنی ابھی کم ہے لیکن اگر کسی محاذ کو غالب اکثریت نہیں ملی تو مودی جی کے تیل سے ان چراغوں میں روشنی بڑھ سکتی ہے۔
اویسی صاحب کی پارٹی مسلمانوں کی پارٹی کہی جاتی ہے حالانکہ کہ میرے خیال سے دو بھائیوں کی پارٹی کچھ تین آدمیوں کی پارٹی کہتے ہیں ان کے برادر نسبتی یا بہنوئی کو بھی شامل کرلیتے ہیں غالباً وہ پارٹی کے خزانچی ہیں۔ پارٹی میں کوئی شورائی نظام نہیں ہے جب شورائی نظام نہیں ہوتا توپارٹی میں سارا کام ایک دو آدمیوں کے فیصلے سے ہوتا جس طرح کا فیصلہ ہوتا ہے اس میں مسلمانوں کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے ۔اویسی صاحب حالات سے واقف ہیں کہ اس وقت کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک بی جے پی ہے جس طرح مودی جی نے اپنے تنہا فیصلے سے کرونا کوختم کرنے کے بجائے بڑھا یا وہ ساری دنیا کو معلوم ہے جب مودی اور ان کی پارٹی سارے دلتوں اور مسلمانوں کے درپے ہے ۔مسلمانوں اور دلتوں کی زندگی فرقہ پرستی اور تنگ نظری کی وجہ سے تنگ اور مشکل بنا دی گئی تو اس سیاسی کرونا سے نمٹنے کے لیے جو محاذ اس کا ساتھ دینا چاہیے یا اسے کمزور بنانا چاہیے ؟
اس سے پہلے کے ایک مضمون میں حوالوں کے ذریعے میں لکھ چکا ہوں کہ بی جے پی کے لوک اپنے لئے آئی ایم ایم جیسی پارٹی کا نہ صرف وجود ہی نہیں چاہتے بلکہ اس کو بڑھاوا دیتے ہیں ۔
اکبرالدین نے نرمل میںجو زہریلی تقریر کی تھی کہ فوج اور پولیس کو ہٹا لیجیے مسلمان ہندوؤں کا کچومر نکال دیں گے ہندوؤں کے ایک ایک دیوتا کوبرا بھلا کہا تھا آج تک مودی سرکار نے آخر کیوں نہیں اس تقریر پر پابندی عائد کی۔ گوگل میں اکبر االدین کی نرمل کی تقریر لکھیے آپ کو آج بھی مل جائے گی یہ بی جے پی کی مہربانی نہیں تو کیا ہے؟اویسی پارٹی کے مہاراشٹر کے ایم ایل اے وارث پٹھان نے بھی اکبر االدین کی نرمل والی تقریر سے ملتی جلتی تقریر کی تھی مسلمانوں جب سخت مذمت کی تو انہوں نے معافی مانگی مو صوف گنپتی بپا کی تقریب میں سے جے جے کار کیا ۔ اس کے لیے بھی مو صوف نے معافی مانگی
“MIM MLA from Mumbai’s Byculla Waris Pathan tendered an apology for chanting ‘Ganpati Bappa Morya’ during the recent Ganpati celebrations.”
انڈیا ٹوڈے نے اسے نمایاں خبر کے طور پر دیا تھا اس طرح خرابی بسیار کے بعد معافی بھی مانگتے رہتے ہیں کیا اس طرح کی حرکتوں سے فرقہ پرستی کو بڑھاوا نہیں ملتا؟
()()()
E-mail:[email protected]
Mob:9831439068

You might also like