Baseerat Online News Portal

رابطہ مدارس اسلامیہ مدھیہ پردیش کا خصوصی اجلاس۔  دارالعلوم دیوبند کی تجاویز اور حکم سے ہی حکومت کے واضح اعلان اور گائیڈ لائن کے مطابق کھلیں گے صوبہ مدھیہ پردیش کے تمام دینی مدارس

رابطہ مدارس اسلامیہ مدھیہ پردیش کا خصوصی اجلاس۔

 

دارالعلوم دیوبند کی تجاویز اور حکم سے ہی حکومت کے واضح اعلان اور گائیڈ لائن کے مطابق کھلیں گے صوبہ مدھیہ پردیش کے تمام دینی مدارس۔

 

مورخہ 30 صفر المظفر 1442ھ مطابق 18 اکتوبر 2020ء بروز اتوار بعد نماز ظہر جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھوپال میں حضرت مفتی عبد الرزاق خان صاحب مفتی اعظم مدھیہ پردیش کی زیرصدارت رابطہ مدارس اسلامیہ مدھیہ پردیش کا خصوصی اجلاس بشکل میٹینگ منعقد ہوا۔

جس میں صوبہ مدھیہ پردیش کے کئی بڑے علماء کرام تشریف لائے۔

جلسہ کی نظامت کے فرائض مولانا مفتی ضیاء اللہ قاسمی شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی بھو پال نے انجام دیے۔

 

اس اجلاس کےمہمان خصوصی حضرت مولانا شوکت علی صاحب قاسمی بستوی استاذ تفسیر و ناظم عمومی کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند دامت برکاتہم العالیہ کا بصیرت افروز اور علم و ادب سے پر حکیمانہ خطاب شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کا بنیادی مقصد مدارس کی آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے ساتھ مدارس کے نصاب ونظام اور امتحانات کے یکساں معیار کے حوالہ سے باہمی ربط و مشاورت کا نظم قائم ہو چنانچہ دونوں مقاصد میں رابطہ نے مسلسل پیش رفت کی اور نصاب میں ہم آہنگی کے ساتھ مشترکہ امتحان، نظام کی داغ بیل بھی ڈالی گئی بعض صوبوں میں اس کا آغاز ہو چکا ہے امید ہے کہ رفتہ رفتہ ترقی کر کے یہاں بھی ایک معیاری اور منظم و مربوط امتحان نیٹ ورک کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ ان شاء اللہ ۔

تعلیمی بل 2020 کے حوالہ سے مدارس کے لیے آنے والا دور پہلے سے زیادہ کٹھن اور مشکل ہوگا دینی مدارس کے جداگانہ تشخص آزادانہ کردار کے خلاف یلغار ہو سکتی ہے۔

اس لیے مستقبل کے خدشات سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

مدارس دینیہ کی دشمن قوتوں کا ایجنڈا پینترا بدل کر مختلف طریقوں اور حیلوں سے ان کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا ہےکیونکہ وہ اپنے عزائم اور پروگرام کی راہ میں سب سے زیادہ مدارس کو رکاوٹ تصور کرتی ہیں اسلئے مدارس کا مربوط ومتحد ہونا باہمی اعتماد واشتراک میں اضافہ کرتے چلے جانا انتہائی ضروری ہے۔اس کے علاوہ دینی مدارس کے اساتذہ کی مستقل سالانہ ورک شاپ کا اہتمام کیا جانا چاہیے جو تعطیلات کے دوران کسی بڑے جامعہ میں منعقد کی جائے اور صوبہ سے منتخب کر کے ڈھائی تین سواساتذہ کو جمع کیا جائے اور چوٹی کے ماہرین تعلیم کو زحمت دے کر ان سے متعین عنوانات پر بیانات کرائے جائیں اس سے اساتذہ کو حالات اور ان کے تقاضوں سے آگاہی ہو ۔

 

حضرت نے رابطے کے اصول و ضوابط، اس کی کارکردگی، مدرسہ چلانے کے طور طریقے، اور حالات حاضرہ میں ادارے کو کھولنے نہ کھولنے جسسے ضروری توجہ طلب امور کی جانب رہنمائی کی۔

مدرسہ کا رجسٹریشن، اس کے سالانہ آمد و خرچ کی آڈٹ رپورٹ کرانے پر زور دیا۔ آخر میں امید ظاہر کی ان گزارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر دینی مدارس اپنے مشن اور پروگرام میں مسلسل پیش رفت کرتے رہیں گے ان شاءاللہ

 

اجلاس کے شروع میں بینا سے تشریف لائے مولانا محمد زبیر،قاضی ظہیر الدین صاحب رائیسین،مولانا اسحاق صاحب گوالیار،اور مولانا لئیق صاحب آشٹا نے اپنی تجاویز کو پیش کیا۔ اور اکابر دیوبند سے جڑے رہنے کا مشورہ دیا۔

اس کے بعد حضرت مولانا غازی ولی احمد صاحب ،حضرت مولانا اشفاق الرحمن صاحب، حضرت مولانا تصور حسین صاحب فلاحی، حافظ محمد تقی صاحب اجین ،قاضی ابو ریحان صاحب،مفتی ذکاءاللہ صاحب،مولانا سلامت اللہ صاحب،قاضی شہر سید مشتاق علی صاحب ندوی، مفتی شہر مفتی ابو الکلام صاحب قاسمی، ان حضرات نے اپنے خطاب میں میں صوبائی رابطے کو مزید فعال بنانے،مدارس کھولے جانے کے سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کی تجاویز پر عمل کرنے اور اکابر سے سے جڑے رہ کر کام کرنے اور صوبائی مدارس میں جن مدارس کو جس چیز کی ضرورت ہو اس بات کو اور اپنی تجاویز کو صوبائی ذمہ داران تک پہنچانے، تاکہ وہ آپ کی اس بات کو رابطہ مدارس دارالعلوم دیوبند پہنچائیں جیسی باتیں کہیں ۔

 

اس کے بعد ناظم جامعہ مولانا محمد احمد خان صاحب نے اپنے بیان میں مہتممین مدارس کو یہ یقین دلایا کہ وہ آپ تمام حضرات کے مشورے کے ساتھ ہی کام کریں گے اور فرمایا کہ ہم ہمیشہ سے چھوٹے بن کر کام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے بس تمام لوگ متحد ہوکر کام کریں آپس میں انتشار پیدا نہ کریں ۔

 

اور آخر میں میں حضرت مفتی عبد الرزاق خان صاحب کے چند کلمات کے بعد حضرت مہمان خصوصی کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔

You might also like