Baseerat Online News Portal

امریکی صدارتی انتخابات: انتخابی اشتہارات کی دوڑمیں ٹرمپ اوربائیڈن کی مہمات مختلف کیسے ہیں؟

آن لائن نیوزڈیسک
سوشل میڈیا کی وسیع تر ہوتی دنیا کی 2020 کے لیے انتخابی مہم کے لیے اہمیت کو دیکھتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مقابل جو بائیڈن کی طرف سے فیس بک اور انسٹا گرام پر اشتہارات چلانے کے لیے 100 ملین ڈالر استعمال کیے۔
یہ رقم تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے دونوں جانب سے جون سے اب تک خرچ کی گئی ہے۔
ماضی قریب میں انتخابی مہم کے دوران امیدوار زیادہ تر رقم ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اشتہارات پر خرچ کیا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن کو اب بھی لوگوں تک پیغام پہنچانے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت
سوشل میڈیا کو کئی عوامل کی بدولت سماجی رابطوں کے ساتھ ساتھ سیاسی رابطوں کے لیے بھی اہم ترین پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔
اس ضمن میں سیراکیوز یونیورسٹی کے شعبہ اطلاعات سے وابستہ پروفیسر جینیفر سٹرومر گیلی کہتی ہیں کہ انتخابی مہم سوشل کو چندہ اکٹھا کرنے، ووٹروں کو تلاش کرنے اور اپنے لیے حمایتی لوگوں کو جاننے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انتخابی مہمات یہ بھی جاننا چاہتی ہیں کہ ان کی حمایت کرنے والے لوگ کن مسائل پر کس وجہ سے گرم جوش اور متحرک ہوتے ہیں۔
جینیفر سٹرومر “دی الومینٹنگ پراجیکٹ” نامی منصوبے پر بھی کام کررہی ہیں۔ ان کے مطابق فیس بک کے ذریعہ مہمات چھوٹی سے چھوٹی عوامی سطح پر اپنا پیغام لے جا سکتی ہیں جب کہ ٹیلی ویژن پر اشتہارات ایسا نہیں کر سکتے۔
مثال کے طور پر اگر آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی حیثیت سے سیراکیوز کے علاقے میں کوئی ٹی وی اشتہار چلاتے ہیں تو آپ زیادہ تر ڈیموکریٹ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر آب فیس بک کے ذریعے کوئی اشتہار چلاتے ہیں تو آپ ری بپلیکن خیالات کی طرف مائل ووٹروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ فیس بک پر یہ کام الگوردم کی بنیاد پر ہوتا ہے جو کہ ایک فائدہ مند طریقہ کار ہے۔

اس سال کے انتخابات میں اشتہارات پر متوقع خرچ؟
اس سال کی دونوں طرف کی انتخابی مہم پر “سینٹر فار ریسپانسو پالیٹکس” کے مطابق گیارہ ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ یہ رقم 2016 کے انتخابات پر خرچ کی گئی رقم سے 50 فی صد زیادہ ہے۔
وفاقی سطح اور گورنروں کے انتخاب پر نظر رکھنے والے ادارے “ویزلیئن میڈیا پراجکٹ” کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے حریف بائیڈن کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر 22 فی صد زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں، جب کہ اس سال اپریل سے اب تک بائیڈن نے صدر ٹرمپ کے مقابلے میں ٹیلی ویژن پر 28 فی صد زائد رقم خرچ کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے فیس بک اور گوگل اشتہارات پر ٹیلی ویژن کے مقابلے میں زیادہ رقوم خرچ کی ہیں۔ ٹیلی ویژن پر اشتہار چلانے میں سوشل میڈیا سے دس گنا زیادہ خرچ ہوتا ہے۔
بائیڈن کی مہم نے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے گزشتہ ہفتے فٹ بال کے میچوں سے پہلے قیمتی وقت میں اشتہارات چلائے۔
دوسری طرف ٹرمپ مہم نے اپنے اشتہاری بجٹ کو اوہائیو اور آیووا ریاستوں سے منتقل کر کے جارجیا اور ایریزونا ریاستوں پر مرکوز کیا ہے کیونکہ ان ریاستوں میں سخت مقابلے متوقع ہیں۔
اس سلسلے میں ایک دلچسب امر یہ ہے کہ انتخابی مہمات دیکھتی ہیں کہ ووٹروں کے نزدیک کون سے مسائل اہم ہیں یا ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ اس بات کو جانچنے کے لیے وہ مختلف اشتہار چلاتے ہیں۔ اور جوں ہی سوشل میڈیا کے صارفین کسی اشتہار پر پریس بٹن دباتے یا کلک کرتے ہیں تو وہ مہم ان صارفین کے متعلق معلومات جمع کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
صارفین کے متعلق جمع کردہ معلومات کو مہمات پہلے ہی سے موجود معلومات کے ڈیٹا بیس کے ساتھ ملا کر ان ووٹروں کی پروفائل بناتے ہیں۔ اس سارے عمل میں ان کی جتنی زیادہ اطلاعات دستیاب ہوں گی، اتنا ہی ان کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے تاکہ وہ اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ فلاں ووٹر ان کے لیے ووٹ ڈالیں گے یا نہیں۔

سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن کے اشتہارات میں فرق
جینیفر سٹرومر نے بتایا کہ اطلاعات کے اس ڈیٹا بیس سے مہمات کو اس بات میں بھی مدد ملتی ہے کہ وہ ووٹروں کو کس قسم کے فیس بک پیغامات بھیجیں کہ جن سے ووٹروں کو ان کی طرف راغب کیا جاسکے۔
اس کے مقابلے میں ٹی وی اشتہارات کسی امیدوار کے کردار، قائدانہ صلاحیت اور اس کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پے چلائے جانے والے اشتہارات میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ٹی وی اشتہار عمل کی طرف مائل کرتا ہے جب کہ سوشل میڈیا کی مہم ووٹروں کو اپنے پیغام کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتی ہے۔
لیکن ماہر جینیفرسڑومر کے مطابق دونوں امیدواروں صدر ٹرمپ اور بائیڈن کے ٹیلی ویژن کے اشتہارات میں بھی فرق ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ کے پیغامات میں ایک اہم پیغام تیل کی تلاش میں کنووں کی کھدائی کے متعلق ہے۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز میں اس مسئلہ پر واضح اختلاف ہے۔ اور صدر کی مہم سمجھتی ہے کہ اس پیغام سے وہ ری پبلیکن پارٹی کی طرف مائل لوگوں کی حمایت حاصل کر سکیں گے کیونکہ اس اشتہار کو دیکھ کی لوگ کہیں گے کہ وہ بھی اس مسئلہ کو اہم سمجھتے ہیں۔
علاوہ ازیں جینیفر سٹرومر کہتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کا اپنے پیغامات میں مسائل پر زیادہ زور ہے جب کہ بائیڈن ٹرمپ کے مخالف امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کے طور پر اجاگر کرتے ہیں کیونکہ بایئڈن کم ہی مسائل پر زیادہ بات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

You might also like