Baseerat Online News Portal

ججوں نے پوچھا:تو پھر ہماری کیا ضرورت ہے؟ ـ ایم ودود ساجد

میں اس سلسلہ کی کئی قسطوں میں بتا چکا ہوں کہ سپریم کورٹ اوردہلی ہائی کورٹ کے علاوہ ممبئی ہائی کورٹ میں بھی میڈیا ٹرائل اور خاص طور پر ارنب گوسوامی کے چینل ریپبلک کے خلاف بہت سی پٹیشنز پر سماعت چل رہی ہے۔ یہ سماعت آج بھی ہوئی۔آج ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا کی دو رکنی بنچ نے اپنے تبصروں میں ارنب گوسوامی پر زبردست لعن طعن کی ـ یہ سماعت اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے تعلق سے غیر ذمہ دارانہ اور زہریلی رپورٹنگ کرنے کے خلاف چل رہی ہے۔ عدالت نے میڈیا ٹرائل کے روز افزوں رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

ارنب گوسوامی کی وکیل مالویکا ترویدی نے عدالت سے کہا کہ ”ہمارا چینل تو انویسٹی گیٹو جرنلزم کر رہا ہے اور تفتیش میں نقائص کی نشاندہی کر رہا ہے۔“ اس پر بنچ نے خاتون وکیل سے کہا کہ اگر آپ ہی Investigator (تفتیش کار) آپ ہی Prosecutor (استغاثہ) اور آپ ہی Judge (جج) بن جائیں تو پھر ہماری کیا ضرورت ہے؟ آخر ہم کیوں یہاں بیٹھے ہیں؟

عدالت نے کہا کہ: اگر آپ کو سچ سے پردہ اٹھانے میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو آپ کو CRPC یعنی کرمنل پروسیجر کوڈ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔۔ قانون سے بے خبری کوئی (قابل قبول) عذر نہیں ہے۔۔ اس پر بھی ارنب کی وکیل کو تشفی نہیں ہوئی اور اس نے بنچ سے پھر کہا کہ ”عدالت یہ نہیں کہہ سکتی کہ میڈیا کو پولیس تفتیش میں خامیوں کی نشاندہی نہیں کرنی چاہئے اور یہ کہ سچ کو بیان نہیں کرنا چاہیے۔“ اس پر عدالت نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ میڈیا کا گلا گھونٹ دینا چاہئے۔ہمیں تشویش یہ ہے کہ پروگرام کوڈ پر عمل آوری ہونی چاہیے۔ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ پروگرام کوڈ کی خلاف ورزی نہ ہو اور جو ضابطے مقرر کردئے گئے ہیں ان سے تصادم نہ ہو۔۔ عدالت نے کہا کہ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ: آپ کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے۔اپنی حدود کے اندر رہ کر آپ کو سب کچھ کرنے کی اجازت ہے۔ حد سے باہر مت نکلیے۔”

یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ فیصلہ سے پہلے اور دلائل سننے کے دوران عدالت کی اولین ترجیح خاموشی‘ در گزر اور سخت الفاظ اور تلخ تبصروں سے گریز ہوتی ہے۔لہذا اگر عدالت دوران سماعت ایسے تبصرے کر رہی ہے تو انہیں کم نہیں سمجھنا چاہیے۔۔ عدالت کو قانون اور ضرورت کے درمیان توازن بناکر رکھنا ہوتا ہے۔۔ لہذا ممبئی ہائی کورٹ نے جو کچھ کہا وہ کم نہیں ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ عدالت اپنے تبصروں میں جو کچھ کہتی ہے وہی اس کے آنے والے حتمی فیصلہ میں بھی جھلکتا ہے اور وہی قانون بن جاتا ہے۔
عدالت نے اپنی اولین ترجیح کو چھوڑتے ہوئے ارنب کی وکیل سے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ ”کیا یہ انویسٹی گیٹو جرنلزم کا حصہ ہے کہ لوگوں سے پوچھا جائے کہ فلاں معاملہ میں کس کو گرفتار کیا جانا چاہیے؟۔ عدالت کا یہ سوال ریپبلک چینل کے ٹویٹر ہینڈل پر #ArrestRhea یعنی ریا کو گرفتار کرو‘ کی مہم چلائے جانے کے تناظر میں تھا۔عدالت نے ارنب کی وکیل مالویکا سے دوبارہ پوچھا کہ کیا لوگوں سے یہ پوچھنا کہ کسے گرفتار کیا جائے‘ انویسٹی گیٹو جرنلزم ہے؟ ارنب کی وکیل کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اور وہ ادھر ادھر دیکھنے لگیں۔ بنچ نے پھر ارنب کی وکیل کو دیکھتے ہوئے کہا کہ سی آر پی سی کے تحت تفتیش (Investigation) کے اختیارات پولیس کو دیے گئے ہیں۔بنچ نے سشانت کی موت کی رپورٹنگ کے اسلوب پر بھی سخت ناگواری کا اظہار کیا۔عدالت نے کہا کہ: خوکشی کے معاملہ کی رپورٹنگ کےلیے متعدد رہ نما ضابطے موجود ہیں۔اس میں سنسنی خیز سرخیاں نہیں ہونی چاہئیں۔کیا آپ کو مرنے والے کا ذرا بھی احترام نہیں ہے؟یہ بہت ہی بدبختی کی بات ہے۔“

اس دوران عدالت نے ٹائمز ناؤ‘ آج تک‘ انڈیا ٹی وی‘ زی نیوز اور اے بی پی نیوز کے وکیلوں کے بھی دلائل سنے۔ریپبلک چینل کے ساتھ ان چینلوں نے بھی سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملہ میں انتہائی سنسنی خیزی کی تھی۔یہی وہ چینل ہیں جنہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران تبلیغی جماعت کے بہانے ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا تھا۔یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ایک طرف جہاں تبلیغی جماعت کے افراد میں بہت کم لوگ کورونا پازیٹو پائے گئے تھے وہیں ملک بھر کی مقامی عدالتیں اور ہائی کورٹس ایک کے بعد ایک معاملہ میں انہیں باعزت بری کرتی جارہی ہیں۔

یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ مرکز اور دہلی کی حکومتوں نے ہر روز پریس کے سامنے آکر بتایا تھا کہ ملک بھر میں کورونا کے معاملات میں 30 فیصد معاملات تبلیغی جماعت اور مرکز (بستی حضرت نظام الدین میں واقع تبلیغ کے مرکز) سے وابستہ ہیں۔جبکہ خود دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بتایا تھا کہ بستی حضرت نظام الدین کے ساڑھے چھ ہزار باشندوں کا ٹیسٹ کیا گیا ہے جن میں سے مرکز کے باہر بیٹھنے والے صرف ایک فقیر (بھکاری) کو ہی پازیٹو پایا گیا۔

جب بنچ کے سامنے زی نیوز کے وکیل نے کہا کہ: متاثرہ فرد کی تلافی کا میکانزم موجود ہے تو عدالت نے کہا کہ تلافی کا ایسا میکانزم اسی وقت تصویر میں آتا ہے جب فرد کو نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔عدالت نے کہا کہ خواہ سیلف ریگولیٹری باڈیز ہوں‘حکومت ہو یا عدالت ان سب کا نمبر بعد میں آتا ہے اور اس وقت تک نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ نقصان ہونے کے بعد کیسے ایک متاثرہ فرد انصاف حاصل کرسکے گا؟۔

ممبئی ہائی کورٹ میں آج بھی یہ سماعت پوری نہ ہوسکی۔23 اکتوبر کو دن میں 12بجے پھر سماعت شروع ہوگی۔اب تک کی تفصیلی سماعت‘عدالت کے تلخ تبصروں اور چینلوں کے وکیلوں کے بجھتے ہوئے چہروں سے ایک بات عیاں ہوتی ہے کہ عدالت کوئی سخت فیصلہ صادر کرنا چاہتی ہے۔ادھر اسی طرح کے معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نے بھی سی اے اے کے خلاف احتجاج میں پیش پیش اور جیل میں بند آصف اقبال تنہا کے وکیل سے بھی اگلی سماعت میں یہ تفصیلات لے کر آنے کو کہا ہے کہ پولیس نے تفتیش کے دوران جو معلومات میڈیا کو لیک کی ہیں اس طرح کے واقعات سے کیسے نپٹا جائے۔عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے افسروں اور چینلوں کو کس طرح سزا دی جائے اور کیسے ان کو خلاف ورزی کرنے سے روکا جائے۔

You might also like