Baseerat Online News Portal

عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت کےآئینہ میں!

تحریر : مولانا اسرارالحق قاسمی نیپالی
نائب ناظم:معھد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال
آج ہمارے معاشرے میں بدعات وخرافات کی ہوائیں کافی تیزوتند سے چل رہی ہیں،باطل افکار اور غلط عقائد و نظریات کی حکمرانی ہورہی ہے،باطل پرست ان بدعتی امور کو دین کانام دیکر عوام الناس کے سامنے پیش کررہےہیں،اور عوام الناس جہالت و ناخواندگی کی بنا پر انہیں بطیب خاطر قبول کرکے ،ان پر عمل پیرابھی ہورہے ہیں۔
اوررفتہ رفتہ وہ بدعتیں پوری دنیا کے اکناف و اطراف میں نشربھی ہورہی ہیں اور معاشرے میں اس کی جڑیں مضبوط ومستحکم ہورہی ہیں،من جملہ ان بدعات میں سے سر فہرست ایک بدعت “عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم “ہے۔

عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز 604ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی اور موصل کے قریبی شہر اربل کے گورنر ملک مظفر ابو سعید نے کیا۔اور اس میلاد کے جواز کا فتوی سب سے پہلے ملک مظفر کے عھد کے ایک مولوی شیخ ابو الخطاب ابن دحیہ نے ایک رسالہ “التنویر فی مولد البشیر النذیر “میں دیا،جس کی تالیف پر ملک مظفر نے بطوراعزازاسےخطیررقم یعنی ایک ہزار دینار انعام بھی دیاتھا،اس بادشاہ کے بارے میں علامہ ذہبی رحمةاللہ علیہ فرماتے ہیں:كان ينفق كل سنة علي مولد النبي صلى الله عليه وسلم نحو ثلاث مأة ألف.
(دول الاسلام 103/2)
ترجمہ:وہ ہرسال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد پر تقریبا تین لاکھ کی رقم خرچ کرتا تھا۔

اور ابو الخطاب عمر بن دحیہ کے بارےمیں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمةاللہ علیہ فرماتے ہیں:
“وکان ظاھري المذهب كثير الوقيعة في الأئمة وفي السلف من العلماء خبيث اللسان أحمق شديد الكبر قليل النظر في أمور الدين متهاونا.
(لسان الميزان :296/4)
ترجمہ:وہ ظاہری یعنی غیر مقلد تھا،ائمہ دین اور سلف صالحین کی شان میں بہت زیادہ گستاخی کرنے والا،گندی زبان والا،بےوقوف، بڑا متکبر،دینی باتوں کی بہت کم سوجھ بوجھ رکھنے والا،اور ان میں سستی کرنے والا تھا ۔

تمام مورخین اور اصحاب سیر کا متفق علیہ فیصلہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مسعود پیر کے دن ہوئی، البتہ تاریخ کی تعیین میں اختلاف ہے، بعض 9/ربیع الاول بتاتے ہیں ،بعض 8/ربیع الاول اور مشہور 12/ربیع الاول ہے؛لیکن وفات کے سلسلے میں سبھوں کی آراء یہ ہیں کہ 12/ربیع الاول کو ہوئی ہے۔

یہ بات کسی اہل علم پر مخفی نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مشہور قول کے مطابق 12 /ربیع الاول کو ہوئی، تو اس اعتبارسے یہ دن متبرک اور مقدس ہے،اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ “عید اور جشن”منانا شروع کردیں؛ کیوں کہ ملت اسلامیہ نے سالانہ آقا کے یوم ولادت کو”منانے” کا حکم نہیں دیا، نہ ہی اسے عید ہی قرار
دیااور نہ ہ ہی اس کے لئے کسی قسم کے مراسم مقرر کئے۔
آج نسل انسانی میں سے جو بھی اس دن کو” عید اور جشن”کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ در حقیقت ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نافرمانی اور سرکشی کرتے ہیں، اس لیے کہ خود فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:اللہ عزوجل نے دیگر قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی خوشی کےلیے دو دن مقررکئے ہیں(1)عید الفطر(2)عید الاضحی۔
اس سے یہ بات آشکارا ہوئی کہ سال میں عید کے ایام دوہی ہیں، ان کی علاوہ بعض روایات میں جمعہ کے دن کو بھی عید کہا گیا،یہ بات بھی ذہن میں ملحوظ رہے کہ اس کے علاوہ کسی اور دن میں عید منانا ثابت نہیں ہے اگر منا تے ہیں تو بدعت ہے،اور بدعت کےسلسلے میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :من أحدث في أمرنا هذا ماليس منه فهو رد.
یعنی جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرے ،جس کی کوئی اصل نہ ہو، وہ واجب الردہے۔
علامہ عبد الرحمن مغربی- رحمةاللہ علیہ- لکھتے ہیں:کہ میلاد منانا بدعت ہے؛اس لیے کہ اس کونہ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اورنہ ہی اس کے کرنے کاحکم دیاہے،نیزخلفائے کرام نےبھی اور نہ ہی ائمہ نے۔
(الشریعة الالهيه بحواله حقيقت ميلاد)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرانی دمشقی رحمةاللہ علیہ اپنی کتاب “اقتضا ءالصراط المستقيم “میں تحریر فرماتے ہیں:نصاری میلاد عیسی- علیہ الصلاةوالسلام -منایاکرتےتھے ،جب مسلمانوں کی اس طرف نظر ہوئی ،تو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے یہ رسم اختیار کی ؛حالاں کہ سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔
اگر یہ جائز ہوتی اور اس کے منانے میں خیر ہوتی ،تو پہلے کے لوگ ،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبت رکھتے تھے اور اچھے کام کر نے کے زیادہ حریص تھے ؛وہ مناتے؛لیکن سلف صالحین کا میلاد نہ منانا یہ اس با ت کا بین ثبوت ہے کہ مروجہ طریقے پرمیلادمنانا درست نہیں ہے”۔
اس میں لوگوں کا یہ اعتقاد ہوتاہے کہ یہ بڑی عبادت ہے حالاں کہ یہ بدعت ہے اور اس میں محرمات کا ارتکاب ہوتا ہے اور دیگر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔اگر میلاد منائی جائے اور اس میں محرمات کا ارتکاب نہ ہو اور وہ تمام مفاسد نہ ہو جو اس کے منانے میں ہوتے ہیں،تب بھی میلاد منانا بدعت ہے ؛کیوں کہ یہ دین میں زیادتی ہے اور اسلاف کا عمل نہیں ہے۔
اگر یہ کار خیر اور کار ثواب ہوتا تو سب سے پہلے سلف صالحین مناتے ؛لیکن ان کا میلاد نہ منانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔
(مدخل،ج:1ص:361)

مفتی اعظم مکہ مکرمہ کا فتوی شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز فرماتے :مسلمانوں کے لئے 12/ ربیع الاول کی رات یا کسی اور رات میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل منعقد کرنا جائز نہیں ہے؛بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی ولادت کی محفل منعقد کرنا بھی جائز نہیں ہے؛کیوں کہ میلاد کی محفلوں کا تعلق ان بدعات سے ہے،جو دین میں نئی پیدا کرلی گئی ہیں ۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں کبھی بھی اپنی محفل میلاد کا انعقاد نہیں فرمایا تھا؛ حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے تمام احکام کو بلا کم وکاست ،من وعن پہنچانے والے تھے اور اللہ جل جلالہ وعم نوالہ کی طرف سے مسائل شریعت کو بیان فرمانے والے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم محفل میلاد نہ خود منائی ہےاور نہ ہی کسی کو اس کا حکم کبھی دیاہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلفاء راشدین ،حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور تابعین میں سے کسی نے کبھی اس کا اہتمام نہیں کیا تھا،الخ۔
(مقالات وفتاوی)

اللہ سبحانہ وتعالی تمام مسلمانوں کو 12 ربیع الاول کے دن بدعات وخرافات کے ارتکاب سے حفاظت فرمائے،آمین یا رب العالمین ۔

You might also like