Baseerat Online News Portal

مسلمانوں کی حمایت کے بغیر سرحدی خطے کی سیاسی جنگ کوئی نہیں جیت سکتا ۔۔۔۔۔۔، حالات کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے تمام ہی پارٹیاں مسلم ووٹ پر سیند لگانے میں مصروف

رکسول ۔21/ اکتوبر ( محمد سیف اللہ

ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول،نرکٹیا اور سگولی اسمبلی حلقے میں سیاسی گھماسان تو جاری ہے لیکن اس جنگ میں جیت کس کے حصے میں آتی ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن سیاسی لیڈران جس جوڑ توڑ کی کوشش کے ساتھ ماحول سازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جد وجہد میں مصروف ہے اس نے سرحدی خطے کے ماحول کو پوری طرح حساس بنایا ہوا ہے کہنے کو تو اس بار کے انتخابی دنگل میں قسمت آزمائی کے لئے کئی نامور پہلوان موجود ہیں مگر یہاں کے سیاسی منظر نامے کو غور سے دیکھیں اور پل پل بدلتے حالات کا زمین سچائیوں سے جوڑ کر جائزہ لیں تو ہر جگہ کم وبیش مقابلہ سہ رخی دکھائی دے رہا ہے اور عام سالوں کے برخلاف عوام کی خاموشی نے ابھی تک امیدوقروں کے ہوش کو ٹھکانے لگا رکھا اور چونکہ رکسول نرکٹیا اور رکسول اسمبلی حلقے میں بہت حد تک مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوا ہوا کرتا ہے اس لئے زیادہ تر امیدوار ان ہی کے ووٹ پر سیند ماری کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ مسلمان طبقہ نے ابھی تک خود کو کسی کے حق میں ووٹ کے لئے واضح نہیں ہونے دیا ہے اس لئے ہر طرف پریشانیاں صاف طور پر محسوس کی جارہی ہیں،ویسے رکسول اور نرکٹیا اسمبلی حلقہ ایسا ہے جہاں ابھی تک کی تفصیلات کے مطابق عظیم اتحاد نے ہی ماحول پر اپنی پکڑ بنارکھی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ کافی دلچسپ رخ لے گا قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ عظیم اتحاد اور این ڈی اے اتحاد کے علاوہ متبادل کے طور پر تیسرا موچہ بھی پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہے اس لئے ہر اتحادی جماعت سے وابستہ کارکنان کسی بھی طرح کی غفلت وعجلت پسندی کو اپنے مستقبل کے لئے نقصان دہ مان رہے ہیں اس لئے مسلم ووٹروں کی اہمیت نے ہر طبقے کو اپنے سے قریب آنے پر مجبور کر دیا اور انہیں بھی احساس ہو چلا ہے کہ مسلمانوں کی حمایت یا حصہ داری کے بغیر سرحدی خطے کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی بس مجموعی طور پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پرچہ نامزدگی داخل ہونے کے بعد یہاں کی سیاست میں جو گہما گہمی دیکھی جارہی ہے اس پر عوام کی جانب سے ملے جلے تاثرات سامنے آرہے ہیں بتادیں کہ انتخابی موسم میں کامیابی کی امید کے ساتھ رکسول اسمبلی حلقہ کے لئے عظیم اتحاد سے رام بابو یادو، این ڈی اے سے پرمود سنہا، بہوجن سماج پارٹی سے اجے سنگھ، نڑکٹیا اسمبلی حلقہ کے لئے عظیم اتحاد سے موجودہ ایم ایل اے ڈاکٹر شمیم احمد،لوجپا سے سونو مکھیا اور این ڈی اے سے شیام بہاری پرشاد نے اور سگولی اسمبلی حلقہ کے لئے عظیم اتحاد سے ششی سنگھ، لوجپا سے ونے کمار گپتا اور این ڈی اے کے رام چندر سہنی نے اپنے اپنے پرچے داخل کئے ہیں جس کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے ان تینوں اسمبلی حلقے میں میں سیاست پوری طرح آسمان چھونے لگی ہے بلکہ ہر طرف نعروں کی گونج ہے،ہر امیدوار نے وعدوں کی جھڑی لگا رکھی ہے اور اپنے اپنے حلقے کے لئے اچھے اچھے کام کی امید دلا نے کو اپنی تسلی کا سامان سمجھ رہے ہیں،اب ایسی صورت حال میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا سارا دارو مدار مسلم ووٹروں کے فیصلے پر ہے اس لئے دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ مسلمان کسے اپنے اعتماد کے قابل سمجھتے ہیں یا کون سا لیڈر مسلمانوں کو اپنے قریب کرنے میں ایک دوسرے پر بازی مارتا ہے ۔

You might also like